ای او بی آئی پنشنرز کا چارٹر آف ڈیمانڈ
تحریر (قاضی تحسین احمد ہاشمی ) پاکستان میں بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود ہمیشہ سے ایک ثانوی مسئلہ رہا ہے، لیکن ای او بی آئی پنشنرز کے ساتھ ہونے والا سلوک اب محض غفلت نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی ناانصافی کی صورت اختیار کر چکا ہے
ای او بی آئی کے پاس اربوں روپے کے اثاثے موجود ہونے کے باوجود پنشنرز کو ان کا جائز حق نہیں مل رہا۔ یہ وہ رقم ہے جو مزدوروں اور آجروں نے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے جمع کرائی تھی۔ اس کے باوجود، پنشنرز کو ملنے والی قلیل رقم موجودہ کمر توڑ مہنگائی کے دور میں گزارے کے لیے ناکافی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ادارہ منافع بخش ہے، تو پھر پنشن کو کم از کم 35,000 روپے تک کیوں نہیں بڑھایا جا رہا؟
چارٹر آف ڈیمانڈ: اہم نکات 28 مطالبات پر مشتمل ایک جامع “چارٹر آف ڈیمانڈ” پیش کیا ہے
کم از کم پنشن کا تعین: ای او بی آئی پنشن کو فی الفور حکومتِ پاکستان کی مقررہ کم از کم اجرت (37,000 روپے) کے برابر کیا جائے
خودکار اضافہ: جب بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں یا پنشن میں اضافہ ہو، ای او بی آئی پنشنرز کی رقم میں بھی اسی تناسب سے خودکار اضافہ کیا جائے۔
بورڈ میں نمائندگی: ادارے کے اہم فیصلے کرنے والے “بورڈ آف ٹرسٹیز” میں پنشنرز کے حقیقی نمائندوں کو شامل کیا جائے۔
طبی سہولیات اور کارڈ: بزرگ پنشنرز کے لیے مفت علاج، ادویات کی فراہمی اور ہیلتھ کارڈ کا اجرا یقینی بنایا جائے۔
تعلیمی وظائف: پنشنرز کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر خصوصی اسکالرشپس اور گرانٹس کا بندوبست کیا جائے۔
بیواؤں کے لیے آسانیاں: شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو پنشن کی منتقلی کا عمل پیچیدہ دفتری کارروائیوں کے بجائے سادہ اور بلا تاخیر بنایا جائے۔
علاقائی دفاتر کا قیام: چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں ذیلی دفاتر قائم کیے جائیں تاکہ ضعیف العمر افراد کو طویل سفر کی اذیت نہ اٹھانی پڑے۔
ڈیجیٹلائزیشن: تمام ریکارڈ کو جدید کمپیوٹرائزڈ سسٹم پر منتقل کیا جائے تاکہ ڈیٹا کی دستیابی اور ادائیگیوں میں شفافیت آ سکے۔
انتظامی رکاوٹیں اور جدید تقاضے مضمون میں ان انتظامی کوتاہیوں کا بھی ذکر ہے جن کی وجہ سے پنشنرز کو اپنے ہی پیسوں کے لیے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں بھی ریکارڈ کی عدم دستیابی اور دفتری ہچکچاہٹ بزرگوں کے لیے ذہنی کوفت کا باعث بنتی ہے۔ یہ مطالبہ نہایت جائز ہے کہ ادارے کے ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ خدمات کی فراہمی میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو اور شفافیت بڑھے۔
یہ چارٹر آف ڈیمانڈ دراصل ریاست کے لیے ایک آئینہ ہے۔ وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان بزرگ شہریوں کی پکار سنیں جنہوں نے اس ملک کی معیشت کی بنیادیں رکھی ہیں۔ اگر ای او بی آئی جیسا مالدار ادارہ اپنے ہی پنشنرز کو ریلیف نہیں دے سکتا، تو یہ نظام کی ناکامی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ان مطالبات کو تسلیم کر کے بزرگوں کو معاشی بدحالی اور ذلت سے بچایا جائے
تعارف: قاضی تحسین احمد ہاشمی باخبر کالم نگار ہیں جو لیبر، سماجی، سیاسی اور عوامی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں حقائق اور توازن نمایاں ہوتا ہے۔ وہ اپنے منفرد اسلوب اور مدلل اندازِ بیان کی وجہ سے قارئین میں خاص پہچان رکھتے ہیں۔
