اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
مہنگا پیٹرول مزدور کا خون نچوڑ لیتا ہے
تحریر ( رانا جبران ) پاکستان میں معاشی انصاف کا جنازہ اس وقت نکلتا ہے جب بیس ہزار روپے ماہانہ کمانے والا ایک دیہاڑی دار مزدور اور بیس لاکھ روپے تنخواہ لینے والا مراعات یافتہ طبقہ ایک ہی شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ آج ملک میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور ہر ایک لیٹر پر غریب مزدور بھی سو روپے سے زائد ٹیکس دے رہا ہے جو اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر موٹر سائیکل میں تیل ڈلواتا ہے تاکہ وہ کام پر جا سکے۔ لیکن دوسری طرف وہ طبقہ ہے جس کے لیے پیٹرول کی قیمت محض ایک ہندسہ ہے کیونکہ انہیں یہ سہولت عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے مفت فراہم کی جاتی ہے
سنگین سوال یہ ہے کہ عوام کے پیسوں پر مفت کا پیٹرول پھونکنے والی بیوروکریسی وزرا جج اور اعلیٰ سرکاری افسران کیوں قربانی نہیں دے سکتے؟ کیا قربانی کا گوشت صرف غریب عوام ہی کے حصے میں لکھا ہے؟ جب بھی معاشی بحران آتا ہے تو مشیروں اور ماہرین کی فوج ظفر موج غریب کا خون نچوڑنے کے نئے طریقے ڈھونڈ نکالتی ہے کبھی بجلی کے بلوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو کبھی پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھا دی جاتی ہے مگر سرکاری سطح پر شاہانہ اخراجات میں ایک روپے کی کمی نہیں کی جاتی
آج ایک عام آدمی کے لیے گھر کا راشن پورا کرنا مشکل ہو چکا ہے مہنگائی کے اس طوفان میں جہاں لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں وہاں سرکاری دفاتر اور پروٹوکول میں دوڑتی بڑی گاڑیاں اس زخم پر نمک پاشی کرتی ہیں بیوروکریسی اور وزرا کی مفت بجلی مفت پیٹرول اور مفت رہائش گاہیں قومی خزانے پر وہ بوجھ ہیں جس کا خمیازہ ایک ریڑھی بان اور کارخانے کا مزدور بھگت رہا ہے کیا یہ نظامِ عدل ہے کہ جس کی جیب خالی ہے وہ ریاست کا بوجھ اٹھائے اور جس کی تجوری بھری ہے وہ ریاست کے وسائل پر عیاشی کرے؟
پاکستان کو اس وقت جس معاشی دلدل کا سامنا ہے اس کا تقاضا تھا کہ اشرافیہ اپنی مراعات سے دستبردار ہوتی ججز اور جرنیلوں سے لے کر بیوروکریٹس تک سب کو اپنی جیب سے پیٹرول خریدنے کا پابند کیا جاتا تاکہ انہیں احساس ہوتا کہ 335 روپے لیٹر پیٹرول کیا ہوتا ہے جب تک مفت خوری کا یہ کلچر ختم نہیں ہوگا عوام میں بے چینی اور ریاست سے دوری بڑھتی رہے گی سارا بوجھ عوام کا خون نچوڑ کر پورا کرنا نہ صرف معاشی دہشت گردی ہے بلکہ ایک بڑے سماجی دھماکے کو دعوت دینے کے مترادف ہے اب وقت ہے کہ بیوروکریسی اور وزرا بھی قربانی دیں ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کی برداشت ختم ہوتی ہے تو پھر بڑے بڑے ایوان لرز اٹھتے ہیں
تعارف: رانا جبران مزدور رہنما اور ملی لیبر فیڈریشن کے صدر ہیں معاشی ناانصافیوں اور سماجی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کی تحریریں عوامی جذبات کی ترجمانی اور مقتدر حلقوں کو آئینہ دکھانے کے لیے جانی جاتی ہیں
