July 23, 2026

پیٹرول کی قیمتیں اور محنت کش کا مقدر: کل اور آج کا موازنہ

 پیٹرول کی قیمتیں اور محنت کش کا مقدر: کل اور آج کا موازنہ

تحریر ( قاضی تحسین احمد ہاشمی ) آج یہ خبر ایک بار پھر پورے ملک میں زور و شور سے گردش کر رہی ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کر دیا گیا ہے اور اب یہ 335 روپے فی لیٹر کی سطح تک جا پہنچا ہے۔ اس خبر نے جہاں ہر طبقے کو تشویش میں مبتلا کیا ہے وہیں مجھے اپنا بچپن یاد آگیا جب زندگی کی تصویر آج سے بالکل مختلف اور سادہ تھی۔

اگر میں اپنے بچپن کا موازنہ آج کی مہنگائی سے کروں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس دور میں پیٹرول محض 3 روپے گیلن ہوا کرتا تھا (یاد رہے کہ گیلن لیٹر سے مقدار میں بڑا ہوتا ہے)۔ ڈالر کی قیمت بھی صرف 3 روپے کے آس پاس تھی اور سونا 60 روپے فی تولہ مل جایا کرتا تھا۔ اس وقت ایک مزدور کی دیہاڑی بھی اگر بڑھا چڑھا کر بتائی جائے تو 3 روپے ہوا کرتی تھی اور کلاس فور کے سرکاری ملازم کی ماہانہ تنخواہ 80 روپے تھی۔ اشیاء خورونوش کی قیمتیں تو اب قصہ پارینہ لگتی ہیں۔ آٹا 8 آنے کلو اور چنے کی دال 2 آنے کلو ملتی تھی۔ آج کی نسل شاید آنے اور پیسے کے تصور سے بھی واقف نہ ہو جب ایک روپے میں 16 آنے اور 64 پیسے ہوا کرتے تھے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے ایک مزدور کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ بظاہر تو یہ قیامت صغریٰ معلوم ہوتی ہے کیونکہ پیٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں جس کا براہِ راست اثر آٹے، دالوں اور سبزیوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ مزدور کی پہنچ سے دو وقت کی روٹی دور ہونے لگتی ہے اور اس کی قوتِ خرید جواب دے جاتی ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کا بوجھ صرف گاڑی والے پر نہیں بلکہ اس محنت کش پر بھی پڑتا ہے جو سائیکل یا بس میں سفر کرتا ہے کیونکہ مہنگائی کا ایک ایسا سیلاب آتا ہے جو سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔

لیکن ایک کڑوی حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمت 335 روپے کے بجائے 6636 روپے بھی ہو جائے تو بھی مزدور کی زندگی میں کوئی انقلابی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ موٹے پیٹ والے طبقے کو ان مزدوروں کی اشد ضرورت رہتی ہے۔ وہ اس محنت کش طبقے کو کبھی مرنے نہیں دیں گے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے اتنا دیتے رہیں گے کہ وہ اگلے دن دوبارہ ان کی خدمت کے لیے مشین کی طرح حاضر ہو سکیں۔ سرمایہ دار جانتا ہے کہ اگر مزدور نہیں ہوگا تو اس کی فیکٹری کا پہیہ نہیں چلے گا لہٰذا وہ اسے صرف سانس لینے جوگا ہی دیتا رہے گا۔

مزدور کی زندگی تو آج سے 80 سال پہلے بھی دال روٹی کے چکر میں گزرتی تھی اور آج سے 80 سال بعد بھی شاید ایسے ہی گزرے گی۔ اس لیے کمزور اور محنت کش طبقے کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی زندگی کا پہیہ اسی کشمکش میں گھومتا رہے گا۔ وہ کل بھی زندہ تھے اور آج بھی زندہ رہیں گے تاکہ نظامِ زندگی چلتا رہے۔

تعارف: قاضی تحسین احمد ہاشمی باخبر کالم نگار ہیں جو لیبر، سماجی، سیاسی اور عوامی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں حقائق اور توازن نمایاں ہوتا ہے۔ وہ اپنے منفرد اسلوب اور مدلل اندازِ بیان کی وجہ سے قارئین میں خاص پہچان رکھتے ہیں۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp