July 23, 2026

ای او بی آئی کے چیلنجز

 ای او بی آئی کے چیلنجز

اسرار ایوبی

———–

ملازمین کے بڑھاپے کے فوائد کا قانون 1976 میں اس مقصد کے تحت نافذ کیا گیا کہ صنعتی، تجارتی اور دیگر اداروں میں ملازم افراد کو بڑھاپے کے فوائد سے متعلق قانون کو منسوخ کرکے ازسرِ نو نافذ کیا جائے۔”

اس قانون کے تحت قائم کئے گئے ایمپلایئز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن کی ذمہ داری تھی کہ وہ اہل ملازمین کو بڑھاپے کی پنشن، معذوری کی پنشن، ورثاء کی پنشن، بڑھاپے کی یکمشت گرانٹ اور دیگر مراعات فراہم کرے۔

اس قانون کے مطابق، 15 سال کی قابلِ بیمہ ملازمت مکمل کرنے کے بعد مرد ملازمین 60 سال اور خواتین 55 سال کی عمر میں بڑھاپے کی پنشن کے حق دار ہوتے ہیں۔

جن ملازمین کی قابلِ بیمہ ملازمت 15 سال سے کم ہو، انہیں ایک مرتبہ بڑھاپے کی گرانٹ ادا کی جاتی ہے۔ ابتدا میں یہ قانون صرف غیر انتظامی اور نگران عملے پر لاگو ہوتا تھا، تاہم 1994 میں ایک ترمیم کے ذریعہ اسے اداروں کے تمام انتظامی عملے تک بھی توسیع دے دی گئی۔

جولائی 2005 تک ای او بی آئی میں ماہانہ کنٹری بیوشن ایک مقررہ رقم کے فیصد کے حساب سے ادا کیا جاتا تھا، لیکن بعد میں ترمیم کرکے اجرت کی تعریف کم از کم اجرت برائے غیر ہنر مند کارکنان آرڈیننس، 1969 کے تحت مقررہ کم از کم اجرت سے منسلک کر دیا گیا۔

اس وقت آجر کم از کم ماہانہ اجرت کا 5 فیصد ماہانہ کنٹری بیوشن ای او بی آئی میں جمع کراتے ہیں، جبکہ بیمہ شدہ ملازم بھی اسی اجرت کا مزید ایک فیصد ادا کرتا ہے۔

سپریم  کورٹ آف پاکستان اور ہائی کورٹس میں آجروں اور ای او بی آئی کے درمیان قانونی تنازعات کے باعث بیشتر آجران موجودہ کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے کی بنیاد پر 6 فیصد ماہانہ کنٹری بیوشن ادا کر رہے ہیں۔

تاہم بعض ایسے آجران، جنہوں نے عدالتوں سے حکم امتناع حاصل کر رکھا ہے، اب بھی اپنے بیمہ شدہ ملازمین کی جانب سے صرف 3 ہزار روپے کی کم از کم اجرت کی بنیاد پر 6 فیصد ماہانہ کنٹری بیوشن ادا کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ 2005 میں جب ای او بی آئی کنٹری بیوشن کے قانون میں ترمیم ہوئی تھی، اس وقت کم از کم اجرت 3 ہزارروپے ماہانہ تھی۔

اپریل 2010 میں آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے تحت لیبر قوانین صوبوں کو منتقل کر دیے گئے، تاہم ای او بی ایکٹ 1976 واحد قانون تھا جو وفاقی حکومت کے انتظام میں برقرار رکھا گیا۔

وفاقی حکومت کے اس فیصلے کی ایک معقول وجہ موجود تھی، کیونکہ پنشن اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد پورے پاکستان میں مقیم تھے۔ کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے صنعتی شہروں میں ملازمت کرنے والے افراد ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آبائی علاقوں میں واپس چلے جاتے ہیں، اس لئے اگر ای او بی آئی وفاق کے زیر انتظام رہے تو انہیں ایک ہی ادارے سے پنشن وصول کرنے میں آسانی رہتی ہے۔

مزید یہ کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں محدود صنعت اور کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے مالی وسائل کم تھے، اس لئے  وہ اس پنشن اسکیم کا انتظام سنبھالنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اگر وفاقی حکومت چاہتی تو پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت سے قانون منظور کرا کے تمام قانونی اور انتظامی مسائل حل کر سکتی تھی، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

نتیجتاً گزشتہ 16 برس سے یہ معاملہ غیر یقینی صورتحال کا شکار چلا آرہا ہے۔ اس وجہ سے آجروں اور ای او بی آئی کے درمیان ماہانہ کنٹری بیوشن کی شرح کے حوالے سے غیر ضروری قانونی تنازعات جاری ہیں،

 جو اب تک حل نہیں ہو سکے۔ اصل تنازع اجرت کی تعریف ہے جو ای او بی ایکٹ 1976 میں دی گئی ہے۔ اگر وفاقی حکومت 1969 کے آرڈیننس میں اس تعریف میں ترمیم کرتی ہے تو اس کا اطلاق صرف وفاقی علاقہ اسلام آباد تک محدود رہے گا۔

اختیارات کی منتقلی کے بعد سندھ حکومت مسلسل ای او بی اسکیم اپنے حوالے کرنے کی خواہاں رہی ہے، لیکن وفاقی حکومت نے متعلقہ فنڈز صوبوں کو منتقل نہیں کئے ۔ سندھ حکومت نے سندھ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس ایکٹ 2014 بھی منظور کیا، مگر وفاقی قانون کی موجودگی میں اسے نافذ نہیں کیا جا سکا۔

 دوسری جانب اپریل 2010 سے پنجاب حکومت مسلسل اس بات کی حامی رہی کہ ای او بی آئی وفاقی حکومت ہی کے پاس رہے، لیکن وفاقی حکومت نے بھی اس انتظام کو پارلیمنٹ سے قانونی حیثیت دلوانے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

21 اپریل 2026 کو پنجاب اسمبلی نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی، جس میں ای او بی آئی کو صوبوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اٹھارہویں ترمیم کے باوجود ای او بی آئی کی صوبوں کو منتقلی نہ ہونا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

مزید کہا گیا کہ اختیارات کے حد سے زیادہ ارتکاز اور بیوروکریٹک پیچیدگیوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جبکہ واجب الادا کنٹری بیوشن وصول نہ ہونے سے پنشنرز کے لئے دستیاب وسائل میں کمی آ رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے 16 سال بعد پنجاب حکومت کو یہ احساس ہوا کہ وفاق کے پاس ای او بی آئی کا برقرار رہنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران پنجاب کی مسلسل آنے والی حکومتیں وفاقی حکومت کی اس پالیسی کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ اگر وفاقی حکومت چاہتی تو آئینی ترمیم یا پارلیمنٹ سے سادہ اکثریت کے ذریعے قانون منظور کرا کے نہ صرف ای او بی آئی کی حیثیت بلکہ آجروں کے کنٹری بیوشن کی شرح کا مسئلہ بھی حل کر سکتی تھی۔

اب جبکہ پنجاب اور سندھ دونوں حکومتیں ای او بی آئی کو صوبوں کے حوالے کرنے کی بھرپور حمایت کر رہی ہیں، توقع ہے کہ دیگر دو صوبوں کی ممکنہ مخالفت کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گی۔

اس کے بعد وفاقی حکومت کو ایسے قواعد و ضوابط مرتب کرنے چاہئیں  کہ جن کے ذریعہ صوبوں کے درمیان اس پنشن اسکیم کا مؤثر ربط برقرار رکھا جاسکے تاکہ پنشنرز کے مفادات ہر صورت محفوظ رہیں۔

مضمون نگار آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی میں انسانی وسائل کے مشیر ہیں۔

تعارف، اسرار ایوبی پاکستان میں سماجی تحفظ اور مزدوروں کے حقوق کے شعبے کا ایک معتبر اور معروف نام ہیں۔ وہ ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن  کے سابق افسر تعلقاتِ عامہ رہ چکے ہیں اور انہوں نے طویل عرصے تک محنت کشوں کے پنشن و دیگر مسائل کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس وقت وہ ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ، پاکستان کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ان کے تحقیقی مضامین اور معاشی تجزیے لیبر قوانین کے ارتقا، سماجی تحفظ کے نظام اور ٹریڈ یونینز کی تاریخ پر گہری اور مستند چھاپ رکھتے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp