July 23, 2026

کالی چمنیاں اور سسکتا ہوا مزدور

 کالی چمنیاں اور سسکتا ہوا مزدور

سعد محمد چوہدری

پاکستان کا مانچسٹر کہلانے والا شہر فیصل آباد، جو کبھی اپنی دن رات چلنے والی پاور لومز اور کپڑا بنتی مشینوں کی کھٹ کھٹ سے گونجتا تھا، آج محنت کشوں کے معاشی قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے

وہ شہر جو ملک کی ٹیکسٹائل معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، وہاں کا مزدور آج اپنے بنیادی ترین انسانی اور آئینی حقوق کے لیے سسک رہا ہے

حالیہ دنوں میں بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن آئی ایل او کے جنیوا کے 15 روزہ دورے سے وطن واپسی پر ڈوگر چوک سدھار میں محنت کشوں کے جوش و خروش اور سنگین صورتحال نے اس حقیقت کو مزید آشکار کر دیا ہے کہ ہمارے صنعتی شہروں میں مزدور کس قدر بے یار و مددگار ہو چکا ہے

فیصل آباد کی ٹیکسٹائل اور پاور لوم صنعت اس وقت تاریخ کے شدید ترین بحران سے دوچار ہے۔ ایک طرف مہنگے پٹرول، بجلی کے ہوش رُبا بھاری بلوں، پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافے اور دوسری طرف چین سے سستے کپڑے کی بے تحاشا درآمد نے مقامی صنعت کا بھٹہ بٹھا دیا ہے

ان نامساعد حالات کے باعث شہر کی متعدد فیکٹریاں اور پاور لومز کئی کئی روز تک بند رہنے پر مجبور ہیں، جس نے ہزاروں محنت کشوں کو بے روزگاری کے اندھیرے کنویں میں دھکیل دیا ہے

اس معاشی قتل عام کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ ہولناک ہے؛ گارمنٹس سیکٹر میں بیرونی آرڈرز کی بھر مار تو ہے، لیکن وہاں مزدوروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان سے 12 سے 15 گھنٹے تک مسلسل ڈیوٹیاں لی جا رہی ہیں

بدقسمتی یہ ہے کہ اتنی طویل اور کمر توڑ محنت کے بعد بھی بڑھتی ہوئی کمر توڑ مہنگائی کے باعث ان غریب محنت کشوں کے گھروں کا چولہا جلنا محال ہو چکا ہے

فیصل آباد کی پاور لوم انڈسٹری سمیت مختلف صنعتی شعبوں سے وابستہ لاکھوں مزدور آج کے اس جدید دور میں بھی سوشل سیکیورٹی کارڈ جیسی بنیادی ترین فلاحی سہولت سے یکسر محروم ہیں

انہیں کارخانوں کے اندر پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ فیکٹریوں اور ملوں میں ہیلتھ اینڈ سیفٹی صحت و حفاظت کے کوئی مؤثر انتظامات موجود نہیں ہیں

خاص طور پر برسات کے موسم میں مالکان کی جانب سے حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں ہر سال کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں، مگر ان فیکٹری مالکان اور متعلقہ محکموں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی

یہ صورتحال اب مزید برداشت کے قابل نہیں رہی۔ مزدور طبقہ اب اپنے حقوق کے حصول، اجرتوں میں مہنگائی کے تناسب سے منصفانہ اضافے اور کام کی جگہوں پر بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید تیز اور منظم کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے

فیصل آباد کے لاکھوں محنت کشوں کو سوشل سیکیورٹی، محفوظ ماحول، صاف پانی اور ان کی محنت کا پورا معاوضہ دلانا کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری ریاست کا فرض ہے

ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ فیصل آباد کے ان لاکھوں مظلوم اور محروم مزدوروں کے مسائل کو محض مقامی سطح تک محدود نہیں رکھا جائے گا۔ اقتدار کے ایوانوں، صوبائی و قومی اسمبلیوں اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن سمیت تمام عالمی فورمز اور متعلقہ سرکاری اداروں کے سامنے اس آواز کو اتنی طاقت سے اٹھایا جائے گا کہ نظام کو بدلنا ہی پڑے گا

جب تک محنت کش طبقے کو درپیش ان سنگین مشکلات کے حل کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات یقینی نہیں بنائے جاتے، ہماری یہ قانونی، آئینی اور عوامی جنگ جاری رہے گی۔ پاکستان کی معیشت کا پہیہ گھمانے والے ہاتھوں کو اب ان کا جائز حق اور وقار دینا ہی ہوگا

تعارف ، چوہدری سعد محمد پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی گورننگ باڈی کے منتخب ممبر ہیں، پاکستان کی مزدور تحریک کا ایک معتبر عالمی چہرہ ہیں جو ملک کے محنت کشوں کے حقوق کی تحفظ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں جہاں عالمی اور قومی فورمز پر انجمن سازی کی آزادی جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کے خاتمے، اور ڈیجیٹل دور میں گیگ و پلیٹ فارم ورکرز کے سماجی تحفظ کے لیے مسلسل وکالت کرتے آ رہے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp