July 23, 2026

لیبر قوانین پر عملدرآمد وقت کی ضرورت

 لیبر قوانین پر عملدرآمد وقت کی ضرورت

ناصر منصور

————

کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور صنعتی استحکام کا دارومدار وہاں کے محنت کشوں اور کارپوریٹ سیکٹر کے مابین متوازن اور خوشگوار تعلقات پر ہوتا ہے۔ لیکن جب صنعتی تنازعات کو افہام و تفہیم اور قانون کی روشنی میں حل کرنے کے بجائے مزدور حقوق کے کارکنوں کو دبانے کی کوشش کی جائے، تو صنعتی امن کا پورا ڈھانچہ متزلزل ہو جاتا ہے

کراچی کے سب سے بڑے صنعتی زون کورنگی انڈسٹریل ایریا میں حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے واقعات نے لیبر قوانین کے نفاذ اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے

ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کو سنگینی کی طرف دھکیلنے کے بجائے بین الاقوامی لیبر معیارات اور ملکی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے تاکہ صنعت اور مزدور دونوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔

صنعتی امن کو برقرار رکھنے اور کارخانوں کے اندر پرسکون پیداواری عمل کو جاری رکھنا بلاشبہ فیکٹری مالکان اور انتظامیہ کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ مالکان کی جانب سے اکثر یہ خوش نما دعوے کیے جاتے ہیں کہ وہ ملکی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں

ان کا یہ تاثر ہوتا ہے کہ بعض بیرونی عناصر یا مزدوروں کے نمائندے کارخانوں کے اندرونی نظم و ضبط کو متاثر کرتے ہیں اور پیداواری عمل کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

مزدور تنظیموں اور قانونی معاونت فراہم کرنے والے اداروں کا مؤقف ہے کہ ان کی سرگرمیاں صرف اور صرف قانون کے دائرے میں رہ کر محنت کشوں کی داد رسی تک محدود ہیں

بلال کالونی کورنگی میں واقع فیڈریشن کا دفتر اس کی ایک بڑی مثال ہے، جہاں غریب مزدوروں کو بالکل مفت قانونی مدد اور مشاورت فراہم کی جاتی ہے

کارخانوں میں جب بھی کسی مزدور کے ساتھ کوئی ناانصافی یا غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے، تو یہ کارکنان مختلف قانونی فورمز پر ان کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ انتظامیہ کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ مزدوروں کی جانب سے اٹھائے جانے والے یہ قانونی اقدامات کسی دشمنی پر مبنی نہیں ہوتے، بلکہ یہ رائج الوقت قوانین کے تحت ان کا آئینی حق ہے۔

کورنگی انڈسٹریل ایریا میں قائم چند بڑی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس فیکٹریاں دنیا کے معروف بین الاقوامی برانڈز کے لیے مصنوعات تیار کرتی ہیں

عالمی قوانین کے مطابق، ایسے برانڈز کے لیے کام کرنے والے اداروں پر لازم ہوتا ہے کہ وہ لیبر رائٹس مزدور حقوق کا خاص خیال رکھیں۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ یہاں اکثر مقامی اور بین الاقوامی لیبر معیارات کی کھلی خلاف ورزی کی جاتی ہے

جب مزدور حقوق کے متحرک کارکنان ان ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، تو انتظامیہ کی جانب سے ان کی آواز کو دبانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں

 حال ہی میں یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ چند فیکٹری انتظامیہ نے مبینہ طور پر مزدور کارکنوں کے نام منفی فہرستوں میں شامل کروا دیے ہیں، جس کے بعد ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس قسم کی کشیدگی اور غلط فہمیاں صنعتی ماحول کو مزید خراب کرتی ہیں اور مالکان و مزدوروں کے درمیان خلیج کو بڑھاتی ہیں۔

اگر ہم مزدور تحریکوں اور محنت کشوں کے مطالبات کا باریک بینی سے جائزہ لیں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کا کوئی بھی مطالبہ قانون سے بالاتر یا غیر حقیقی نہیں ہوتا۔ مزدوروں کا اصرار صرف ان بنیادی حقوق پر ہے جو انہیں آئینِ پاکستان نے فراہم کیے ہیں

حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کم از کم اجرتوں کی مقررہ وقت پر ادائیگی کو یقینی بنایا جائے ہر ملازم کو نوکری کے آغاز پر تحریری تقررنامہ جاری کیا جائے تاکہ اس کا روزگار محفوظ ہو صنفی امتیاز کا مکمل خاتمہ کر کے مساوی کام کے لیے خواتین اور مردوں کو یکساں معاوضہ دیا جائے کام کی جگہیں ہر قسم کی جسمانی و ذہنی ہراسگی سے پاک اور صحت کے اصولوں کے مطابق محفوظ ہوں

مزدوروں کے یونین بنانے کے حق کا عملی اعتراف کیا جائے اور تمام کارکنوں کو سوشل سیکیورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹس  کے نظام میں رجسٹرڈ کیا جائے

صنعتی تنازعات کا پائیدار حل کسی بھی قسم کے جبر، دباؤ یا خوف کا ماحول پیدا کرنے میں نہیں، بلکہ صرف اور صرف قانون کی بالادستی میں چھپا ہے

فیکٹری مالکان کو یہ سچائی کھلے دل سے تسلیم کرنی ہوگی کہ لیبر قوانین اور بین الاقوامی معاہدات پر من و عن عمل درآمد ہی کارخانوں میں تنازعات کو کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ صنعتی مسائل کو حل کرنے کے لیے غیر متعلقہ یا بیرونی دباؤ کا استعمال حالات کو سلجھانے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دیتا ہے

جس سے محنت کش طبقے میں بے چینی بڑھتی ہے اور بالآخر اس کا نقصان ملکی معیشت کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام فریقین مل بیٹھ کر مثبت مکالمے کا آغاز کریں اور قانون کو اپنا راستہ بنانے دیں۔

 

تعارف : ناصر منصور پاکستان کی مزدور تحریک کے ایک ممتاز رہنما اور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان  کے جنرل سیکرٹری ہیں، پاکستان کی مزدور تحریک کے ایک ممتاز رہنما اور بین الاقوامی لیبر قوانین کے ماہر ہیں، جو دہائیوں سے محنت کشوں کے حقوق اور سماجی انصاف کے لیے سرگرم عمل ہیں مزدوروں کی مبینہ ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانا اور ہاریوں کے معاشی استحصال کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کرنا انکی اولین پہچان ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp