طبقاتی اتحاد اور نظریاتی مزدور سیاست کا زوال
عبدالستار نیازی
————-
مزدور تحریکوں کی تاریخ ہمیشہ سے طبقاتی شعور، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کی امین رہی ہے۔ کارخانے کی بھٹی ہو یا تعمیراتی سلیب، پسینہ بہانے والے ہاتھ کبھی ایک دوسرے کا رنگ، نسل یا عقیدہ نہیں دیکھتے۔
لیکن جب سرمایہ دارانہ ہتھکنڈے یا مفاد پرست عناصر محنت کشوں کے اس فولادی اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، تو تحریکیں کمزور اور حقوق پامال ہو جاتے ہیں
آج میں اپنے چالیس سالہ طویل مزدور تجربے کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے ایک ایسی ہی فکر انگیز اور تلخ صورتحال کا نقشہ کھینچ رہا ہوں، جو موجودہ دور کی لیبر سیاست کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
انٹرنیشنل انڈسٹریز لمیٹڈ کے محنت کشوں کے مابین حالیہ تنظیمی تبدیلیوں اور بلا مقابلہ انتخاب کے پسِ منظر میں، میں اپنا ایک انتہائی اہم اور چشم کشا مؤقف سامنے لانا فرض سمجھتا ہوں۔
مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑ رہا ہے کہ آئی آئی ایل کی طویل تاریخ میں نے کبھی ایسی ناپسندیدہ صورتحال نہیں دیکھی، جہاں کسی یونین نے اپنے مفادات کی خاطر مزدوروں کو تقسیم کرنے کے لیے قومیت یا مذہب جیسے حساس معاملات کا سہارا لیا ہو
میں نے اپنی پوری زندگی میں ہر ادارے اور کارخانے میں یہی دیکھا ہے کہ مزدور ہمیشہ نظریات، تنظیم کی پالیسیوں اور اصولوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں، اور یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
لیکن یہاں کبھی بھی مذہب یا قومیت کی بنیاد پر تفریق نہیں دیکھی گئی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ روایتی مزدور سیاست کی مروجہ اقدار کو پامال کرتے ہوئے پہلے ہمارے محنت کشوں کو قومیت کے نام پر لڑانے کی کوشش کی گئی اور پھر رہی سہی کسر مذہب کا کارڈ کھیل کر پوری کرنے کی کوشش کی گئی، جو مزدور تحریک کی روشن روایات کے یکسر خلاف ہے
میرا بنیادی نقطہ وہی ابدی سچائی ہے جس کا اعادہ میں بار بار کرتا ہوں مزدور کی نہ کوئی مخصوص قوم ہوتی ہے اور نہ کوئی علیحدہ مذہب، مزدور صرف اور صرف مزدور ہوتا ہے۔ جب ایک ورکر صبح فیکٹری کے گیٹ سے اندر داخل ہوتا ہے، تو اس کی اصل پہچان اس کا کارڈ اور اس کا طبقہ ہوتا ہے
اس کا دکھ، اس کی تکلیف، اس کے بچے کی فیس، اور اس کے گھر کا راشن بالکل ایک جیسا ہوتا ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی لسانی گروہ یا عقیدے سے ہو
مزدور کی اصل طاقت اس کا طبقاتی اتحاد اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے کی جانے والی مشترکہ جدوجہد ہے۔ جب مزدوروں کو لسانی یا مذہبی بنیادوں پر بانٹ دیا جائےتو مالکان اور انتظامیہ کے لیے ان کا استحصال کرنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مزدور تحریکوں نے نظریاتی سیاست کو چھوڑ کر تعصب کا راستہ اپنایا، وہ بکھر گئیں اور کارپوریٹ اشرافیہ جیت گئی۔ ہمیں ہر اس رجحان، ہر اس تقریر اور ہر اس منشور سے سختی سے بچنا چاہیے جو محنت کشوں کے اس اتحاد کو رائی برابر بھی کمزور کرے۔
یہی وہ بنیادی اور گہری وجہ تھی جس نے مجھے اور دیگر سنجیدہ مزدور رہنماؤں کو ایک غیر معمولی فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ میں نے وقت سے پہلے بھانپ لیا تھا کہ اگر ان زہریلے معاملات کو یہیں نہ روکا گیا، تو مستقبل میں ورکرز کے اندر شدید انتشار، نفرت اور پراگندگی پھیلے گی، جس کا خمیازہ پوری یونین اور فیکٹری کے ملازمین کو بھگتنا پڑے گا
ان مسموم حالات کو روکنے اور مزدوروں کے اتحاد کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے ہم نے یہ متفقہ حکمتِ عمل وضع کی کہ الیکشن کے روایتی ہنگاموں کے بجائے، تمام امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب کرا دیا جائے
تاکہ دشمن عناصر کو مزدور صفوں میں گھس کر نفرت پھیلانے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔ میرا یہ فیصلہ وقتی طور پر انتشار کا سدِباب ضرور ہے
لیکن یہ اس بات کا خطرے کا الارم بھی ہے کہ اب مزدور تحریکوں کو اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کا محاسبہ خود کرنا ہوگا، ورنہ نظریاتی سیاست کا جنازہ نکل جائے گا۔
