July 23, 2026

محنت کشوں کے پسینے کی قیمت اور نظام کا جبر

 محنت کشوں کے پسینے کی قیمت اور نظام کا جبر

قاضی تحسین احمد ہاشمی

نیلسن منڈیلا کا ایک بڑا مشہور قول ہے جو لوگ صرف پانی سے نہاتے ہیں، وہ صرف کپڑے بدلتے ہیں، لیکن جو لوگ پسینے سے نہاتے ہیں، وہ تاریخ بدلتے ہیں

منڈیلا صاحب سے نہایت معذرت کے ساتھ، انہوں نے شاید اپنے ملک یا کسی اور خطے میں ایسا دیکھا ہوگا، لیکن پاکستان کی تلخ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے

پاکستان میں پسینے میں نہانے والے تاریخ بدلتے نہیں دیکھتے، بلکہ وہ نسل در نسل استحصال دیکھتے ہیں، جبر دیکھتے ہیں اور ظلم دیکھتے ہیں۔ میں نے تو اپنی زندگی میں پاکستان میں پسینے میں نہانے والوں کے پھٹے ہوئے کپڑے دیکھے ہیں، ان کے معصوم بچوں کے خالی پیٹ دیکھے ہیں، اور ان کی آنکھوں میں دم توڑتی حسرتیں دیکھی ہیں

تاریخ کیسے بدلتی ہے اور محنت کش اسے کیسے بدلتا ہے، یہ خواب میں نے پاکستان کے اس بدترین نظام میں کبھی پورا ہوتے نہیں دیکھا۔ آج تک پاکستان کے محنت کشوں کا حال ویسا ہی ابتر ہے جیسا شروع سے تھا

اس سال پیش کردہ بجٹ میں حکومت نے ملازمین، محنت کشوں اور خاص کر ای او بی آئی  پینشنرز کے ساتھ جو ظلم روا رکھا ہے، وہ اس سچائی کا سب سے بڑا اور تازہ ترین ثبوت ہے۔

موجودہ حکومت نے حال ہی میں مالیاتی سال 2026-2027 کا وفاقی بجٹ پیش کیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کے لیے ایک انتہائی شرمناک اور افسوسناک معاملہ سامنے آیا ہے۔

ہوش ربا مہنگائی کے اس دور میں، جہاں بجلی کے بل اور آٹے کا تھیلا غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے، حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں محض 07 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔

ظلم بالائے ظلم یہ کہ یہ اضافہ بھی کل تنخواہ پر نہیں بلکہ ‘بنیادی تنخواہ پر کیا جائے گا، اور پینشن کے لیے بیسک لائن کی اصطلاح استعمال کر کے ریٹائرڈ ملازمین کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا ہے

دوسری طرف اس ملک کے نجی کارخانوں اور بھٹوں پر کام کرنے والے محنت کش طبقے کی حالت زار اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔ محنت کشوں کی کم از کم ماہانہ اجرت، جو گزشتہ سال وفاقی حکومت نے اس سے بھی پچھلے سال کی 37,000 روپے کی سطح کو برقرار رکھتے ہوئے تجویز کی تھی

اس سال بھی بجٹ کے ابتدائی مرحلے میں 37,000 روپے ہی رکھنے کی کوشش کی گئی۔ بعد ازاں، شدید تنقید کے بعد یہ سفارش کی گئی کہ اسے بڑھا کر 40,000 روپے کر دیا جائے

لیکن المیہ یہ ہے کہ وفاق نے اس پر خود عملدرآمد کرانے کے بجائے یہ پورا معاملہ صوبائی حکومتوں کے حوالے کر دیا ہے

اب صوبائی حکومتیں مزدوروں کی اس کم از کم اجرت پر عملدرآمد کرانے میں کیا گل کھلائیں گی اور نجی مالکان کے سامنے کس طرح گھٹنے ٹیکیں گی، اس کا اندازہ لگانا پاکستان کے موجودہ سیاسی و انتظامی حالات میں کوئی مشکل کام نہیں ہے

اگر پاکستان کی معاشی بساط پر سب سے زیادہ کچلے جانے والے اور مظلوم ترین طبقے کی نشاندہی کرنی ہو، تو وہ بلاشبہ ای او بی آئی  کے پینشنرز ہیں۔ یہ وہ سفید پوش بزرگ ہیں جنہوں نے اپنی جوانی کے بیس بیس، تیس تیس سال نجی شعبے اور صنعتوں کو خون دے کر ملک کی معیشت کا پہیہ چلایا

 یہ بات بہت دفعہ ابلاغِ عامہ کے ذریعے کہی جا چکی ہے، کالموں میں لکھی جا چکی ہے، ٹاک شوز میں بتائی جا چکی ہے اور خود مقتدر حکومتی حلقے بھی اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ ای او بی آئی کے پینشنرز کبھی بھی قومی خزانے یا حکومت پر بوجھ نہیں بنے۔ ان کی پینشن ان کی اپنی ہی ملازمت کے دوران کٹنے والے فنڈز اور آجروں کے مروجہ کنٹریبوشن سے دی جاتی ہے

لیکن اس کے باوجود ان بزرگوں کے ساتھ جو سوتیلی ماں کا سلوک کیا جاتا ہے، اس کی مثال دنیا کے کسی مہذب ملک میں نہیں ملتی۔ ای او بی آئی پینشنرز کی پینشن میں سرکاری ملازمین کی طرح ہر سال اضافہ نہیں کیا جاتا۔

اگر کبھی ان کی قسمت جاگے اور پینشن میں اضافہ کیا بھی جائے، تو وہ بھی طویل انتظار کے بعد پورے 03 سال کے وقفے سے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، گزشتہ سال طویل احتجاج کے بعد پینشن میں 15 فیصد کا اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر اضافہ کیا گیا تھا اور وہ اضافہ روپے کے حساب سے کتنا تھا؟

صرف 1500 روپے۔ آج کے دور میں 1500 روپے میں ایک وقت کے پورے خاندان کی روٹی نہیں آتی۔ اب اس بجٹ کے بعد اگر کبھی مستقبل میں ان کی پینشن میں اضافہ کیا بھی گیا،

تو قانون کے مطابق وہ بھی مزید 03 سال کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا، جس پر صرف سر پیٹا جا سکتا ہے اور افسوس کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کا یہ موجودہ معاشی نظام اشرافیہ کو نوازنے اور محنت کش کو پیس کر رکھ دینے کے اصول پر چل رہا ہے۔ ایک طرف چینی، ریل اسٹیٹ اور صنعت کار اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ کے مزے اڑاتے ہیں، اور دوسری طرف صبح سے رات تک پسینہ بہانے والا مزدور رات کو اپنے بچوں کے لیے آدھی روٹی کا بندوبست بھی نہیں کر پاتا۔

جب تک اس ملک کا بجٹ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن اور سرمایہ داروں کے مفادات کو سامنے رکھ کر بنایا جائے گا، تب تک یہاں کا مزدور اسی طرح حسرتوں کا کفن پہن کر جیتا رہے گا

 حکومتِ وقت کو یاد رکھنا چاہیے کہ پسینے سے نہانے والا محنت کش اگر تاریخ نہیں بدل پا رہا، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ ہمیشہ خاموش رہے گا۔ جس دن اس طبقے کا صبر جواب دے گیا،

 اس دن یہ پورا فرسودہ نظام اس جبر کے بوجھ تلے خود ہی دفن ہو جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر کم از کم اجرت پر صوبوں سے عملدرآمد یقینی بنائے اور ای او بی آئی پینشنرز کی پینشن کو مہنگائی کے تناسب سے ہر سال بڑھانے کا قانون وضع کرے، ورنہ یہ بجٹ غریب کے لیے معاشی قتل نامے سے کم نہیں ہے

تعارف:قاضی تحسین احمد ہاشمی پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار، کالم نگار اور مزدور امور کے ماہر ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کے حقوق، صنعتی تعلقات اور طبقاتی نظام پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف محنت کش طبقے میں شعور بیدار کرنے اور لیبر قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی ہیں۔ وہ اپنے منفرد اور فکری اندازِ تحریر کے باعث ادبی اور صنعتی حلقوں میں یکساں مقبول ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp