July 23, 2026

بھکاری فیکٹری لمیٹڈ

 بھکاری فیکٹری لمیٹڈ

عارف روہیلہ

پاکستان پیپلز پارٹی کا شاید سب سے کامیاب سیاسی منصوبہ وہ نہیں جو کسی ڈیم، یونیورسٹی، صنعتی زون یا ٹیکنالوجی پارک کی شکل میں نظر آئے، بلکہ وہ منصوبہ ہے جو ہر سال بجٹ میں اربوں روپے لے کر بھی غربت کو ختم کرنے کے بجائے اس کا مستقل ریکارڈ مرتب کرتا رہتا ہے۔ اس منصوبے کا نام ہے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام۔

مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں اس پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ غریب کی مدد ہونی چاہیے یا نہیں۔ یقیناً ہونی چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ آخر سترہ سال سے جاری اس پروگرام کے باوجود غریب کی زندگی کیوں نہیں بدلی؟ اگر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مستحقین کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے تو کہیں نہ کہیں نظام کا بنیادی فلسفہ ہی ناکام ہو چکا ہے۔

اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں شاید ہی کبھی اس بنیادی سوال پر سنجیدہ بحث ہوئی ہو۔ حکومتی بینچ ہوں یا اپوزیشن، سب اس معاملے پر غیر معمولی اتفاق رائے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بجلی کے نرخوں پر شور مچ جاتا ہے، تنخواہوں پر ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے، وزارتوں کی تقسیم پر ایوان گونج اٹھتا ہے

 مگر جب اربوں روپے کے اس پروگرام کا معاملہ آتا ہے تو عجیب خاموشی چھا جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اشرافیہ نے طے کر لیا ہو کہ غریب کو خود کفیل بنانے کے بجائے مستقل محتاج رکھنا زیادہ محفوظ سیاسی سرمایہ کاری ہے

مزاحیہ مگر افسوسناک منظر یہ ہے کہ ایک نوجوان یونیورسٹی سے ڈگری لے کر نکلتا ہے، نوکری نہیں ملتی، صنعت بند پڑی ہے، کاروبار مہنگائی سے کراہ رہا ہے، لیکن حکومت اطمینان سے اعلان کرتی ہے کہ امدادی رقم میں اضافہ کر دیا گیا ہے

گویا مریض کے علاج کے بجائے اسے درد کش گولیاں دی جا رہی ہوں اور پھر اسے صحت مند قرار دیا جا رہا ہو۔ دنیا کی کامیاب قوموں نے غربت کا مقابلہ کارخانوں سے کیا، ہم نے فارموں سے کیا۔ انہوں نے ہنر سکھایا، ہم نے قسطیں بانٹیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو روزگار دیا، ہم نے انہیں فہرستوں میں شامل کیا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

اسلام بھی محنت، خودداری اور خود کفالت کا درس دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے افضل ہے۔ اگر ایک ریاست اپنے شہریوں کو ہمیشہ لینے والا ہاتھ بنائے رکھے تو وہ اس حدیث کی روح کے بالکل برعکس سمت میں سفر کر رہی ہوتی ہے

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا واقعہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ جب وہ مدینہ منورہ پہنچے تو انصار نے انہیں اپنا آدھا مال پیش کیا، مگر انہوں نے فرمایا مجھے بازار کا راستہ بتا دیجیے  چند ہی عرصے میں وہ تجارت کے ذریعے خوشحال ہو گئے

انہوں نے امداد کو مستقل سہارا نہیں بنایا بلکہ محنت کو ذریعہ بنایا۔ یہی اسلامی معاشی سوچ ہے، مدد ضرور دی جائے مگر انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے۔

افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست دان غریب کو ماہی گیری سکھانے کے بجائے ہر سال ایک نئی بالٹی پکڑا دیتے ہیں پھر بجٹ تقریروں میں غربت کے خاتمے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں

اگر 838 ارب روپے کا بڑا حصہ فنی تعلیم، چھوٹے کاروبار، نوجوانوں کے لیے بلاسود قرضوں، صنعتی زونز اور روزگار پیدا کرنے والے منصوبوں پر لگایا جاتا تو شاید آج لاکھوں خاندان امداد لینے کے بجائے ٹیکس دینے والوں میں شامل ہوتے

اصل مسئلہ غربت نہیں، غربت کی سیاست ہے۔ ایک خود کفیل شہری سوال کرتا ہے، اپنے حقوق مانگتا ہے اور حکمرانوں کا احتساب کرتا ہے۔ لیکن ایک محتاج شہری اگلی قسط کے انتظار میں رہتا ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے حکمران طبقے کو کارخانے سے زیادہ امدادی فہرستیں اور روزگار سے زیادہ رجسٹریشن مراکز پسند ہیں۔

یہ حقیقت تلخ ہے مگر ناقابلِ تردید بھی۔ قومیں خیرات سے نہیں، کردار، محنت، تعلیم اور صنعت سے ترقی کرتی ہیں۔ وقتی امداد ضرورت مند کے لیے رحمت ہے،

لیکن جب امداد ہی معاشی پالیسی بن جائے تو وہ ترقی کا راستہ روک دیتی ہے۔ پاکستان کو مستقل امدادی فہرستوں سے زیادہ مستقل روزگار کی ضرورت ہے

بھکاری کارڈ سے زیادہ ہنر کارڈ کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہر سال بجٹ آئے گا، رقم بڑھے گی، سیاسی نعرے بلند ہوں گے، تصویریں چھپیں گی، پارلیمنٹ خاموش رہے گی، اور غربت بدستور دروازے پر بیٹھی مسکراتی رہے گی

تعارف: عارف روہیلہ محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں اور مختلف فورمز پر مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی پہچان صنعتی تعلقات، لیبر قوانین کی پاسداری اور محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی انتھک اور اصولی جدوجہد ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp