پنجاب میں لیبر رائٹس کی ہنگامی صورتحال برقرار، ڈیجیٹل ورکر رجسٹریشن کا عدالتی حکم
لاہور( لیبر نیوز ویب ڈیسک ) لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں غیر منظم اسٹون کرشنگ کی صنعت کو لیبر رائٹس کی ہنگامی صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکا مٹی کے ذرات کا شکار ہونے والے مزدوروں میں ہلاکتوں کی شرح 95 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
پبلک لائرز فرنٹ کی دہائی پرانی پٹیشن پر سماعت کے دوران جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیے کہ غریب محنت کش بنیادی طبی سہولیات کے بغیر انتہائی مخدوش حالت میں مر رہے ہیں
عدالت نے تشویش کا اظہار کیا کہ اسٹون کرشنگ اور کان کنی سے وابستہ مزدوروں کی اکثریت لیبر حکام کے پاس سرے سے رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔
دستاویزی ریکارڈ کی اس عدم موجودگی کے باعث یہ محنت کش لیبر قوانین کے حفاظتی دائرہ کار سے باہر ہیں، جس کی وجہ سے نہ تو فیکٹری مالکان کا کوئی احتساب ہوتا ہے اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں کو سوشل سیکیورٹی یا طبی مراعات مل پاتی ہیں
عدالت نے صوبائی سطح پر مزدوروں کی فوری ڈیجیٹل ورکر رجسٹریشن شروع کرنے اور فیکٹری مالکان سے معاوضے کی وصولی کا سخت حکم دیا ہے