پنجاب میں لیبر قوانین کی پامالی، فوڈ ورکرز فیڈریشن کا وزیر محنت پنجاب کو خط

رپورٹ : عامر سہیل ، ریذیڈنٹ ایڈیٹر لیبر نیوز پنجاب

 پاکستان فوڈ ورکرز فیڈریشن لاہور ریجن کی جانب سے صوبائی وزیرِ محنت و انسانی وسائل محمد منشاء اللہ بٹ کو ارسال کردہ ایک تفصیلی یادداشت میں پنجاب بھر کی صنعتوں، بالخصوص فوڈ اور ہوٹلنگ کے شعبوں میں رائج مزدور قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے

تنظیم کے  رہنما محمد سرور بابا کے مطابق صوبے کی 90 سے 95 فیصد فیکٹریوں میں لیبر قوانین کا سرے سے کوئی اطلاق نہیں ہو رہا، جس کے باعث لاکھوں محنت کش اپنے جائز قانونی حقوق اور بنیادی مراعات سے مستقل محروم ہیں

شکایتی خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صنعتی اداروں میں ملازمت کے آغاز پر ورکرز کو کوئی تقرری نامہ  جاری نہیں کیا جاتا۔ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت کے قانون کو یکسر نظر انداز کر کے غیر ہنر مند ملازمین کو پوری تنخواہ نہیں دی جاتی

اس کے علاوہ مزدوروں کو فیکٹری کارڈ، ٹکٹ نمبر یا ایمپلائز نمبر تک فراہم نہیں کیے جاتے۔ گیٹس پر شفافیت کا کوئی نظام موجود نہیں؛ ڈیوٹی کے اوقات، چھٹیوں، تنخواہ کی مقررہ شرح کے بورڈ اور قوانینِ محنت کے معلوماتی چارٹس غائب ہیں

فیکٹریوں میں ورکرز کو سالانہ، اتفاقیہ اور طبی رخصت کی سہولت میسر ہے نہ ہی کوئی لیو کارڈ جاری ہوتا ہے، یہاں تک کہ تہواروں کی سرکاری چھٹیوں سے بھی محروم رکھا جاتا ہے

 محنت کشوں کو قانونی 10-C بونس، کمپنی منافع کا 5 فیصد حصہ اور اوور ٹائم کی مروجہ ڈبل اجرت ادا نہیں کی جا رہی۔ ملازمین کی لازمی گروپ انشورنس، سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی  کارڈز نہ بنوانے سے ان کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے

لیبر فیڈریشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صنعتی اداروں میں ابتدائی طبی امداد  کا مناسب بندوبست نہیں ہے اور فیکٹری ایکٹ کے تحت حفظانِ صحت کے اصولوں کو یکسر پامال کیا جا رہا ہے۔ خواتین ورکرز کے لیے ڈے کیئر سینٹرز مفقود ہیں جبکہ سستے کھانے کے لیے کینٹینز اور فیئر پرائس شاپس بھی قائم نہیں کی جا رہیں۔

فیڈریشن کے مطابق سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ اگر کوئی ورکر ان خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے یا ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں حصہ لینے کی کوشش کرے، تو انتظامیہ اسے نوکری سے برطرف کر دیتی ہے اور انتقامی کاروائی کے طور پر ناجائز مقدمات میں ملوث کر دیا جاتا ہے۔ مزدوروں کو یونین سازی اور شاپ اسٹیوارڈز کے قیام کی آزادی بھی حاصل نہیں ہے

لیبر تنظیم نے پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کے طریقہ کار کو انتہائی پیچیدہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مزدوروں کی میرج گرانٹ، اسکالرشپ اور ڈیتھ گرانٹ کی سالوں سے زیرِ التوا درخواستوں پر فوری عمل درآمد کرایا جائے

اور ساتھ ہی سیسی اور ویلفیئر فنڈ سے عارضی راشن کارڈز کے بجائے ورکرز کے لیے ایک مستقل اور مخصوص فنڈ قائم کیا جائے

فیڈریشن نے صوبائی وزیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام معاملات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے کارخانوں کا انتظامی آڈٹ کرایا جائے اور حادثات کی صورت میں ورکرز یا ان کے لواحقین کی فوری قانونی دادرسی کو یقینی بنایا جائے۔