ڈیجیٹل مزدوروں کا نیا عالمی قانون

وسیم جمال

———–

عصرِ حاضر میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار پیش رفت نے جہاں روزگار کے روایتی تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، وہاں ایک وسیع تر غیر رسمی معیشت کو بھی جنم دیا ہے جسے گیگ اکانومی کہا جاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں نوجوان بائیکیا، ان ڈرائیو، کریم، اور فوڈ پانڈاجیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے وابستہ ہیں

 یا پھر بطور فری لانسر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ عالمی اصطلاح میں انہیں ’ڈیجیٹل پلیٹ فارم ورکرز‘ کہا جاتا ہے، جو دن رات سڑکوں پر سخت موسمی حالات کا سامنا کرتے ہیں یا اسکرینز کے سامنے بیٹھ کر ملکی معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں

اس تمام تر معاشی شراکت داری کے باوجود، اب تک کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ ان کارکنان کو کسی بھی قانونی فریم ورک کے تحت باقاعدہ مزدور تسلیم ہی نہیں کیا گیا

روایتی فیکٹریوں یا دفاتر کے برعکس، یہ افرادی قوت کسی بھی قسم کے تحریری معاہدے، سوشل سیکیورٹی، پنشن، یا میڈیکل کورج سے یکسر محروم چلی آ رہی تھی

کمپنیوں کی جانب سے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا ٹھوس وجہ کے اچانک اکاؤنٹ بلاک کر دینے کی روش نے ان محنت کشوں کو شدید معاشی عدم تحفظ کا شکار کر رکھا تھا، جہاں ان کی داد رسی کے لیے کوئی فورم موجود نہیں تھا

اس سنگین نوعیت کے عالمی مسئلے کے حل کے لیے حال ہی میں جنیوا سے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جون 2026ء میں بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن  کے 114 ویں سالانہ اجلاس میں دنیا بھر کی حکومتوں، آجروں اور لیبر یونینز کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر ایک تاریخی قانون منظور کیا ہے

جسے آئی ایل او کنونشن نمبر 193 کا نام دیا گیا ہے۔ یہ بین الاقوامی سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد معاہدہ ہے، جو خاص طور پر ڈیجیٹل اور آن لائن پلیٹ فارم ورکرز کے حقوق کے قانونی تحفظ کے لیے وضع کیا گیا ہے

اس نئے عالمی کنونشن کی بنیادی شقوں کا خبری اور تحلیلی جائزہ لیا جائے تو چند اہم ترین نکات سامنے آتے ہیں جو مستقبل کے لیبر مارکیٹ کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

کنونشن 193 ڈیجیٹل کمپنیوں کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ اپنے ورکرز کے معاشی استحصال کا سدِباب کریں۔ قانون کے تحت ہر رائڈر، ڈرائیور اور ڈیجیٹل کارکن کے لیے محنت کے تناسب سے منصفانہ معاوضے اور اجرت کی ایک بنیادی کم از کم حد کا تعین لازم قرار دیا گیا ہے، تاکہ بڑھتی ہوئی عالمی مہنگائی کے تناظر میں ان کا معیارِ زندگی برقرار رہ سکے

کسی کسٹمر کی یکطرفہ شکایت یا خودکار نظام کے تحت ورکرز کی آئی ڈی بند ہو جانا ایک عام سٹرکچرل مسئلہ رہا ہے۔ نئے قانون کے تحت کمپنیوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ اکاؤنٹ بلاک کرنے کی صورت میں ورکر کو تحریری طور پر ٹھوس وجوہات فراہم کریں

ورکر کو اس فیصلے کے خلاف باقاعدہ اپیل کا حق حاصل ہوگا، اور سب سے اہم بات یہ کہ بلاکنگ کے حتمی جائزے کے عمل میں انسانی مداخلت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صرف خودکار الگورتھم کی بنیاد پر کوئی ناانصافی نہ ہو۔

ڈیجیٹل کمپنیاں اپنے خفیہ کمپیوٹر کوڈز اور الگورتھم کے ذریعے بونس کی شرح، ریٹنگ کے معیار اور کام کی تقسیم کا فیصلہ کرتی ہیں

 کنونشن کمپنیوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے اس خودکار نظام کو شفاف بنائیں اور ورکرز کو واضح طور پر بتائیں کہ یہ سسٹم کس طرح کام کرتا ہے اور ان کی کارکردگی کا موازنہ کیسے کیا جاتا ہے۔

سڑکوں پر امن و امان کی خراب صورتحال، ناگہانی آفت یا شدید موسم کی صورت میں اگر کوئی ورکر کام کرنے سے انکار کرتا ہے، تو کمپنی اسے کسی بھی قسم کا جرمانہ یا سزا دینے کی مجاز نہیں ہوگی

اس کے علاوہ، آن لائن یا آف لائن کام کے دوران کسٹمرز یا کمپنی عملے کی جانب سے ہر قسم کے تشدد اور ہراسگی کے خلاف ورکرز کو مکمل تحفظ فراہم کرنا ریاستوں کی ذمہ داری ہوگی۔

اس قانون کی رو سے اب ڈیجیٹل ورکرز کو بھی روایتی صنعتی مزدوروں کی طرح اپنی باقاعدہ یونینز تشکیل دینے اور اپنے مطالبات کے لیے کمپنیوں کے ساتھ میز پر بیٹھ کر اجتماعی مذاکرات کرنے کا قانونی حق تسلیم کر لیا گیا ہے۔

پالیسی میکنگ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ کیا یہ قانون پاکستان میں فوری طور پر نافذ العمل ہو جائے گا؟ تکنیکی طور پر آئی ایل او کنونشن کی منظوری کا مطلب یہ ہے کہ عالمی سطح پر ان کے حقوق کا فریم ورک طے پا چکا ہے

اب اگلا اور کلیدی مرحلہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس کنونشن 193 کی باقاعدہ توثیق  کا ہے۔ جب ریاستِ پاکستان اس کی توثیق کرے گی، تو وہ اپنے قومی لیبر قوانین میں ترامیم کرنے اور انہیں مقامی سطح پر آپریٹ کرنے والی تمام رائڈ ہیلنگ اور فوڈ ڈیلیوری کمپنیوں پر سختی سے نافذ کرنے کی پابند ہوگی۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ آئی ایل او کنونشن 193 کو عالمی لیبر ہسٹری میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے، جو مجبور اور غیر منظم محنت کشوں کو ایک بااختیار اور باعزت قانونی شناخت فراہم کرتا ہے

اب یہ پاکستان کے پالیسی سازوں، لیبر تنظیموں اور پڑھے لکھے نوجوانوں پر منحصر ہے کہ وہ حکومت پر اس کنونشن کی جلد از جلد توثیق کے لیے دباؤ بڑھائیں، تاکہ ملک کے لاکھوں گیگ ورکرز کا معاشی مستقبل محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکے

————–

تعارف : وسیم جمال سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں بطور ڈائریکٹر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، ادارے کی ساکھ کو بہتر بنانے اور محنت کشوں کے قوانین کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں آپ کا کردار نمایاں ہے، آپ آجروں مالکان اور اجیروں محنت کشوں کے درمیان خوشگوار اور متوازن صنعتی تعلقات قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ اور صنعتی امن کے قیام کے لیے آپ کی خدمات اور انتظامی صلاحیتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔