وفاقی بجٹ 2026-27 اور محنت کشوں کا معاشی استحصال

عبدالمجید سالک

—————

پاکستان میں ہر سال بجٹ کی آمد کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ عام آدمی، دیہاڑی دار مزدور، اور سفید پوش طبقے کے لیے ریلیف اور خوشحالی کا پروانہ ثابت ہو، لیکن بدقسمتی سے امسال بھی وفاقی بجٹ روایتی طور پر محنت کشوں، ملازمین اور پنشنرز کے لیے شدید مایوس کن ثابت ہوا ہے۔

 حکومت نے عوامی توقعات اور زمینی حقائق کے برعکس ایک ایسا معاشی دستاویز پیش کیا ہے جو غریب کے مسائل کم کرنے کے بجائے اس کی معاشی موت کا سبب بنے گا۔

آج ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ عام آدمی بدترین مہنگائی، بے روزگاری اور قوتِ خرید میں مسلسل کمی کے ہولناک عذاب سے گزر رہا ہے۔ گیس، بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس نے مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کو کچل کر رکھ دیا ہے

حالیہ اقتصادی سروے خود حکومتی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا ایک واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے، جس کے فوراً بعد پیش کیا جانے والا بجٹ یہ صاف بتاتا ہے کہ یہ ملکی ضروریات کو سامنے رکھ کر نہیں، بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں  کی کڑی اور ظالمانہ شرائط پر آنکھیں بند کر کے تیار کیا گیا ہے۔

سب سے بڑا المیہ سرکاری ملازمین اور عمر رسیدہ پنشنرز کی تنخواہوں اور مراعات کا ہے۔ حکومت کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن میں محض 7 فیصد کا اونٹ کے منہ میں زیرہ نما اضافہ موجودہ کمر توڑ مہنگائی کے تناسب سے نہ صرف سراسر ناکافی ہے

بلکہ ان محنت کشوں کے ساتھ ایک مذاق اور کھلی ناانصافی ہے۔ کیا مقتدر حلقے اور ایوانوں میں بیٹھے اشرافیہ اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ 7 فیصد اضافے سے موجودہ دور میں آٹے کا ایک تھیلا یا بچوں کی ایک ماہ کی فیس بھی پوری نہیں ہوتی؟

ہماری معیشت کا یہ مضحکہ خیز اور افسوسناک پہلو بن چکا ہے کہ جب بھی ریاست پر مالی بحران آتا ہے، تو وفاقی حکومت اپنی نااہلی اور معاشی کمزوریوں کا پورا بوجھ صوبوں اور غریب عوام پر منتقل کر دیتی ہے دوسری طرف، حکمران طبقے کے غیر ضروری اخراجات، ان کا شاہانہ طرزِ حکمرانی، اور بیوروکریسی کی شاہ خرچیاں اور مراعات جوں کی توں برقرار رہتی ہیں

قرضوں پر قرضے لے کر معیشت کو چلانے اور نئے بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے عوام کا خون نچوڑنے کی یہ پالیسی ملک کو کسی ترقی کی طرف نہیں، بلکہ مستقل معاشی تباہی اور سٹرکچرل دیوالیہ پن کی طرف دھکیل رہی ہے۔

ایک پائیدار اور خود کفیل معاشی حکمت عملی وہ ہوتی ہے جس میں قرضوں کے بجائے زراعت، مقامی صنعت، اور ملکی برآمدات کے فروغ پر توجہ دی جائے۔ دنیا کی کامیاب قومیں اپنے کارخانوں کو آباد کرتی ہیں اور مزدور کو اس کا جائز حق دیتی ہیں، جبکہ ہمارے ہاں پالیسی سازوں کا تمام تر زور صرف فائلیں بدلنے اور عوام کو لولی پاپ دینے پر ہوتا ہے

ہم پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے حکومت سے یہ پرزور اور دوٹوک مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ظالمانہ بجٹ پر نظرثانی کی جائے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کم از کم 50 فیصد کا فوری اضافہ کیا جائے تاکہ وہ بنیادی انسانی ضروریات پوری کر سکیں

اس کے ساتھ ہی، عمر رسیدہ اور پسماندگان ملازمین کی بقا کے ضامن ادارے ای او بی آئی کی پنشن کو فوری طور پر دُگنا کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر، نجی اور سرکاری شعبے میں کام کرنے والے عام مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 50 ہزار روپے مقرر کی جائے، اور ماضی کے تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں مستقل بنیادوں پر ضم کر کے نئے پے سکیلز نافذ کیے جائیں۔

ریاست کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک محنت کش طبقہ خوشحال نہیں ہوگا، ملک میں صنعتی اور معاشی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

 مزدور کو خیرات یا قسطوں کے نیٹ ورک پر لگانے کے بجائے اسے ایک باوقار اور خود کفیل شہری بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، ورنہ عوام کا یہ معاشی لاوا کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے

تعارف : عبدالمجید سالک ایک ممتاز مزدور رہنما ہیں اور موجودہ وقت میں ملی لیبر فیڈریشن، پنجاب کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں. وہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ ان کی سماجی و معاشی فلاح و بہبود، اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف مضبوط آواز بلند کرنے کے لیے اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں