پی آئی اے کبھی پاکستان کی پہچان ہوا کرتی تھی

محبوب الہی

پاکستان میں بعض قوانین ایسے بھی بنتے ہیں جنہیں پڑھ کر لگتا ہے کہ ریاست نے کئی سال سوچ بچار کے بعد کوئی تاریخی فیصلہ کیا ہے، لیکن چند برس بعد انہی قوانین کےبارے میں یہی ریاست یوں رویہ اختیار کرتی ہے جیسے وہ کسی اور کی غلطی تھی۔ پی آئی اے کنورژن ایکٹ 2016 اور اس کی 2026 میں متوقع منسوخی اسی المیے کی ایک زندہ مثال ہے

پی آئی اے کبھی پاکستان کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ ایک وقت تھا جب مشرق وسطیٰ اور ایشیا کی کئی ایئرلائنز اس کے تجربات سے سیکھتی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ سیاسی مداخلت، غیر پیشہ ورانہ فیصلوں، ضرورت سے زیادہ بھرتیوں، ناقص کاروباری حکمت عملی اور انتظامی کمزوریوں نے اس قومی ادارے کو خسارے کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔

2016 میں حکومت نے فیصلہ کیا کہ پی آئی اے کو روایتی کارپوریشن کے ڈھانچے سے نکال کر کمپنی کے ماڈل پر منتقل کیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے ”پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (کنورژن) ایکٹ 2016“ منظور کیا گیا۔

اس وقت حکومت کا مؤقف تھا کہ دنیا کی کامیاب ایئرلائنز جدید کارپوریٹ ماڈل پر چلتی ہیں۔ ان کے بورڈ زیادہ خودمختار ہوتے ہیں، فیصلے تیزی سے ہوتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ کہا گیا کہ اگر پی آئی اے کو بھی ایک کمپنی کی شکل دے دی جائے تو اس میں نجی سرمایہ کاری آسکے گی

انتظامی اصلاحات ہوں گی اور مستقبل میں نجکاری کا راستہ بھی ہموار ہوگا۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ ایک پرانی گاڑی کے مالک نے دعویٰ کیا کہ مسئلہ انجن میں نہیں بلکہ نمبر پلیٹ میں ہے، لہٰذا نمبر پلیٹ تبدیل کردی گئی اور امید باندھ لی گئی کہ اب گاڑی جہاز کی رفتار سے دوڑے گی۔

لیکن حقیقت یہ تھی کہ پی آئی اے کا بنیادی مسئلہ صرف قانونی حیثیت نہیں تھا۔ مسئلہ کاروباری حکمت عملی، سیاسی دباؤ، غیر ضروری اخراجات، کمزور احتساب اور انتظامی ناکامیوں کا تھا۔ عمارت کا رنگ بدلنے سے بنیادوں کی دراڑیں ختم نہیں ہوتیں۔

 دس سال گزر گئے اربوں روپے کے خسارے، قرضوں کے بوجھ اور بار بار کی اصلاحاتی کوششوں کے باوجود وہ نتائج حاصل نہ ہوسکے جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ پھر نجکاری کا مرحلہ آیا تو ایک نیا مسئلہ سامنے آگیا۔

حکومت کو محسوس ہوا کہ 2016 کا قانونی ڈھانچہ خود نجکاری کے عمل میں پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ بعض قانونی اور مالیاتی معاملات، اثاثوں اور ذمہ داریوں کی تقسیم، اور نجکاری کے لیے درکار واضح قانونی راستے میں یہ ایکٹ رکاوٹ بن گیا

چنانچہ اب 2026 میں اسی قانون کو منسوخ کرنے کی تجویز سامنے آگئی جسے کبھی نجات دہندہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص گھر کا دروازہ تبدیل کرے، پھر دس سال بعد اعلان کرے کہ اصل مسئلہ تو یہی دروازہ تھا جسے اس نے خود لگوایا تھا۔

مزاحیہ پہلو یہ بھی ہے کہ 2016 میں قوم کو بتایا گیا تھا کہ یہی مستقبل کا راستہ ہے، جبکہ 2026 میں قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ مستقبل کی طرف جانے کے لیے پہلے اسی راستے کو بند کرنا ہوگا۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے بل میں کہا جا رہا ہے کہ پرانا قانون ختم ہوگا

لیکن اس قانون کے تحت گزشتہ دس برس میں جو اقدامات کیے گئے وہ برقرار رہیں گے۔ یعنی شادی بھی برقرار رہے گی لیکن نکاح نامہ منسوخ سمجھا جائے گا۔ ملازمین کے حوالے سے بھی ہر دور میں ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ان کے حقوق محفوظ رہیں گے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سرکاری ملازمین یہ جملہ اتنی بار سن چکے ہیں کہ اب بعض لوگ اسے وعدہ کم اور روایتی رسم زیادہ سمجھتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ 2016 کا قانون درست تھا یا 2026 کا فیصلہ درست ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر 2016 میں تمام ماہرین، مشیر، وزارتیں اور پارلیمانی کمیٹیاں اس قانون کو بہترین حل قرار دے رہی تھیں تو آج اس کی ناکامی کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟

اگر ایک دکاندار غلط سودا خرید لے تو نقصان اس کی جیب سے جاتا ہے۔ اگر ایک فیکٹری مالک غلط سرمایہ کاری کرے تو جوابدہی اس کی ہوتی ہے۔ لیکن ریاستی معاملات میں اکثر نقصان عوام برداشت کرتے ہیں اور فیصلے کرنے والے نئی فائلوں کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔

پی آئی اے کا اصل مسئلہ آج بھی وہی ہے جو دس سال پہلے تھا۔ ایک مضبوط اور پیشہ ور انتظامیہ، سیاسی مداخلت سے آزادی، مالی نظم و ضبط، واضح کاروباری حکمت عملی اور مستقل پالیسی۔ جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جائے گا، قانون بدلتے رہیں گے، عنوان بدلتے رہیں گے

کمیٹیاں بنتی رہیں گی، رپورٹس لکھی جاتی رہیں گی، مگر نتائج وہی رہیں گے۔ افسوس یہ ہے کہ دنیا کی کامیاب قومیں ادارے بناتی ہیں اور ہم اکثر اداروں پر تجربات کرتے رہتے ہیں

پی آئی اے کی کہانی دراصل ایک ایئرلائن کی کہانی نہیں، بلکہ پاکستان میں پالیسی سازی کے اس المیے کی کہانی ہے جہاں مسئلہ حل کرنے کے بجائے اکثر صرف فائل کا کور تبدیل کیا جاتا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے جہازوں سے زیادہ تیزی سے ہمارے قوانین ٹیک آف اور لینڈ کرتے رہتے ہیں

تعارف: محبوب الہیٰ سینئر مزدور رہنما اور مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ کراچی کے صدر ہیں وہ طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ زیرِ بالا کالم میں انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ریٹائرڈ ملازمین کو درپیش سنگین معاشی اور طبی مسائل کی نشاندہی کی ہے، جو برسوں کی خدمت کے باوجود آج حکومتی اور انتظامی بے حسی کا شکار ہیں