آئی ایل او کا 114 ویں اجلاس میں کیا ہوا

رپورٹ ( طیبہ تاثیر،ایڈیٹر لیبر نیوز فارن ڈیسک )   

جنیوا میں منعقدہ بین الاقوامی لیبر کانفرنس  کا 114 واں سالانہ اجلاس محنت کشوں کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے

کانفرنس میں دنیا بھر کے 15 کروڑ سے زائد ڈیجیٹل اور آن لائن پلیٹ فارم ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے تاریخ میں پہلی بار ایک عالمی سطح پر پابندِ عزم قانون ڈیسنٹ ورک ان دی پلیٹ فارم اکانومی کنوینشن  متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے

مزدور تنظیموں نے اسے عالمی سطح پر مزدوروں کے حقوق کی ایک بہت بڑی تزویراتی فتح قرار دیا ہے یہ نئی بین الاقوامی کنوینشن مصنوعی ذہانت اور کام کے مستقبل کے حوالے سے جاری عالمی بحث کے لیے ایک اہم ترین مثال قائم کرتی ہے۔

اب تک رائیڈ ہیلنگ، فوڈ ڈیلیوری اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر الگورتھمک مینجمنٹ (کمپیوٹرائزڈ کوڈز) کے ذریعے ورکرز کو کام کی تقسیم، کارکردگی کی مانیٹرنگ اور بغیر کسی انسانی جائزے کے اچانک ملازمت سے فارغ ڈی ایکٹیویٹ  کر دیا جاتا تھا، جس میں کسی شفافیت کا وجود نہ تھا

اس نئی کنوینشن کے تحت اب ڈیجیٹل پلیٹ فارم ورکرز کو ان کے ملازمت کے اسٹیٹس سے قطع نظر الگورتھمک مینجمنٹ میں شفافیت، منصفانہ اجرت، سوشل سیکیورٹی، اور پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے حقوق حاصل ہوں گے۔

کنوینشن کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اب حقائق کی بنیاد پر پلیٹ فارم ورکرز کی درست زمرہ بندی کلاسیفیکیشن کی جائے گی جس سے کمپنیاں خود مختار ورکر کا جھوٹا دعویٰ کر کے مزدوروں کے حقوق غصب نہیں کر سکیں گی۔

کانفرنس کے دوران آجروں اور امریکی وفد کی جانب سے صنفی مساوات کے بنیادی تصورات کو تبدیل کرنے اور مصنوعی ذہانت میں صنفی تعصب کی بحث کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی

تاہم ورکرز گروپ نے شدید مزاحمت کر کے صنف پر مبنی تعصب، نفسیاتی خطرات اور صنفی مساوات کے حوالے سے انتہائی سخت اور تاریخی زبان کو برقرار رکھا۔ اس کے علاوہ، اجتماعی سودا کاری اور ٹریڈ یونین کی آزادی کو بنیادی ستون تسلیم کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سوشل ڈائیلاگ پر ماہرین کا خصوصی اجلاس بلانے کی منظوری بھی دی گئی

کانفرنس کے دوران ایک خصوصی نشست میں میانمار (برما) کی فوجی جنتا کے خلاف آرٹیکل 33 کے تحت کارروائی کی گئی۔ انٹرنیشنل یونین کے سیکرٹری جنرل آٹل ہوئی نے میانمار میں مارشل لاء کے تحت کام کرنے والے ساڑھے چار لاکھ گارمنٹ ورکرز کے شدید استحصال پر آواز اٹھائی

جو ماہانہ 100 ڈالر سے بھی کم کما رہے ہیں اور انہیں زبردستی اوور ٹائم اور فوجی بھرتی کے خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے عالمی برانڈز سے میانمار سے فوری اور ذمہ دارانہ انخلا اور یورپی یونین سے ترجیحی تجارتی مراعات  ختم کرنے کا مطالبہ کیا

جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے پیلس آف نیشنز کے باہر بیلاروس میں قید درجنوں ٹریڈ یونین رہنماؤں کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا گیا، جہاں ساڑھے تین سال قید کاٹ کر رہا ہونے والے بی کے ڈی پی  کے صدر الیگزینڈر یاراشوک بھی موجود تھے۔

عالمی مزدور رہنماوں نے کانفرنس کے نتائج کو سراہتے ہوئے کہا پلیٹ فارم اکانومی پر منظور ہونے والی یہ کنوینشن ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔

بین الاقوامی مزدور برادری نے تسلیم کر لیا ہے کہ ڈیجیٹل برانڈز کو مزدوروں کے حقوق کا احترام کرنا ہی ہوگا امریکہ اور بااثر سرمایہ کاروں کی جانب سے صنفی مساوات اور مزدور حقوق کی زبان کو کمزور کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور حکومتوں کو ان کے وعدوں کا پابند بنائے رکھے گی