سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے 260 سے زائد مزدوروں کا خون آج بھی انصاف کا طلبگار
کراچی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک ) سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے متاثرین اور مزدور تنظیموں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 260 سے زائد محنت کشوں کا خون آج بھی انصاف کا تقاضا کر رہا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے مرکزی ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریہ کی بریت کے بعد ایسا لگتا ہے کہ انسانی تاریخ کے اس بدترین صنعتی حادثے کا کوئی ذمہ دار ہی نہیں
مزدور رہنماؤں ناصر منصور، زہرہ خان اور حسنیٰ خاتون نے کہا کہ کیس کا رخ دانستہ طور پر بھتے اور دہشت گردی کی طرف موڑ کر اصل گناہ گاروں یعنی فیکٹری مالکان اور غفلت کے مرتکب سرکاری اداروں محکمہ محنت، فائر بریگیڈ، ای او بی آئی کو بچایا گیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جرمن برانڈ کی جانب سے فراہم کردہ معاوضے اور آئی ایل او کے پنشن فنڈز کو ورثاء کی مشاورت کے بغیر نجی انشورنس کمپنی میں منتقل کیا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیکٹریوں کے بند دروازوں اور ناقص سیکیورٹی کی انکوائری کر کے اصل ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے اور گروپ انشورنس کیس کا فوری فیصلہ کیا جائے۔