کم از کم اجرت پر عملدرآمد کے لیے مزدوروں کا اتحاد ناگزیر ہے، صوبائی وزیر سعید غنی
کراچی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک ) وزیرِ محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ حکومت اکیلے وسائل کی کمی کے باعث ہزاروں فیکٹریوں کی انسپکشن اور کم از کم 40 ہزار روپے اجرت کے قانون پر عملدرآمد نہیں کروا سکتی۔
انہوں نے مزدوروں پر زور دیا کہ وہ استحصال کے خلاف متحد ہو کر مقررہ اجرت سے کم پر کام کرنے سے انکار کر دیں، تو مالکان خود ان کے پیچھے آئیں گے۔
سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہوم بیسڈ ورکرز کو تسلیم کیا ہے اور اب تک 6 لاکھ مزدور رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جنہیں تعلیم اور صحت کے سوشل سیکورٹی کارڈ دیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت غریب خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے 20 لاکھ گھر بنا کر دے رہی ہے جن کی مالکان صرف خواتین ہوں گی