بیلاروس میں ٹریڈ یونینز پر ریاستی جبر
چوہدری سعد محمد
آج جب دنیا گلوبلائزیشن اور پائیدار ترقی کے دعووں کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، محنت کشوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کے چند ایسے تاریک گوشے بھی موجود ہیں جن پر عالمی برادری کی خاموشی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
میں یہاں ایشیا پیسیفک خطے کی ٹریڈ یونینز کی جانب سے اس فورم پر بیلاروس میں انجمن سازی کی آزادی کی مسلسل، سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرنے اور بیلاروس کے مظلوم محنت کشوں اور وہاں کی آزاد ٹریڈ یونینوں کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعلان کرنے کے لیے کھڑا ہوا ہوں
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا کنونشن نمبر 87 محض ایک قانونی دستاویز نہیں، بلکہ یہ عالمی مزدور تحریک کی روح اور آئی ایل او کے بنیادی ترین کنونشنز میں سے ایک ہے۔
یہ کنونشن دنیا بھر کے کارکنوں کو یہ واشگاف حق دیتا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی یا حکومتی مداخلت سے آزاد ہو کر اپنی پسند کی تنظیمیں قائم کریں، ان میں شامل ہوں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونین سرگرمیاں انجام دیں۔
لیکن بیلاروس کی موجودہ صورتحال ان بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اخلاقی وعدوں پر عمل درآمد میں ایک ایسی بدترین اور منظم ناکامی کی عکاسی کرتی ہے جس کی مثال حالیہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
بیلاروس کی موجودہ آمرانہ حکومت نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت وہاں کام کرنے والی تمام آزاد ٹریڈ یونینوں کو یکسر تحلیل کر دیا ہے۔
اس ریاستی جبر کا سب سے ہولناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب بیلاروس میں کوئی ایسی حقیقی، خودمختار اور آزاد مزدور تنظیم سرے سے موجود ہی نہیں رہی جو آزادانہ طور پر کارکنوں کے معاشی و سماجی مفادات کی نمائندگی کر سکے یا ان کا دفاع کرنے کی ہمت رکھے۔
وہاں کا عام کارکن اب عملاً اپنی پسند کی تنظیم بنانے یا آزاد یونینوں میں شامل ہونے کے حق سے محروم ہو چکا ہے۔ فیکٹریوں اور صنعتی مراکز میں کام کرنے والے محنت کشوں کو چوبیس گھنٹے حکومتی انتقامی کارروائیوں، ملازمت سے بے دخلی اور قید و بند کا ایک ایسا مسلسل خوف لاحق ہے جس نے ان سے سوچنے اور بولنے کی صلاحیت تک چھین لی ہے۔
اعداد و شمار اس بدترین ریاستی جبر کی گواہی دیتے ہیں۔ آج بھی بیلاروس کی تاریک جیلوں میں کم از کم 20 مخلص ٹریڈ یونین رہنما اور سرگرم کارکن قیدِ تنہائی کاٹ رہے ہیں۔
ظلم کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا؛ آزاد ٹریڈ یونین تحریک سے وابستہ 54 ممتاز نمائندوں کو ریاست نے نام نہاد “انتہا پسند” قرار دے دیا ہے، جبکہ 11 اعلیٰ عہدیداروں کو حکام کی جانب سے باقاعدہ “دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔ ان تمام انسانوں کا واحد “جرم” کیا تھا؟ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے غریب مزدوروں کے حقوق کا دفاع کیا، کارخانوں میں بیگار اور استحصال کے خلاف آواز اٹھائی، اور جائز ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ حقوقِ انسانی اور مزدور رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دینا بین الاقوامی قوانین کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہے۔
ایسے بھیانک حالات میں، بیلاروس کی حکومت کے زیرِ اثر کام کرنے والی نام نہاد ‘فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز’ کی جانب سے عالمی فورمز پر کامیاب سماجی مکالمے، اجتماعی معاہدوں کی کثرت یا کارکنوں کی مؤثر نمائندگی کے جو دعوے کیے جاتے ہیں، وہ ایک کھوکھلے پراپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں اور انہیں کسی صورت کنونشن نمبر 87 کی پاسداری کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جہاں آزاد اور خودمختار ٹریڈ یونینوں کا گلا گھونٹ دیا گیا ہو، وہاں کوئی حقیقی سماجی مکالمہ سرے سے ممکن ہی نہیں ہوتا۔ جب حقیقی ٹریڈ یونین رہنما سلاخوں کے پیچھے سڑ رہے ہوں، تو کاغذوں پر دستخط کیے گئے اجتماعی معاہدے انجمن سازی کی آزادی کا ثبوت نہیں بلکہ جبر کی دستاویز بن جاتے ہیں۔ اور جب کارکنوں کو اپنی پسند کی آزاد تنظیمیں قائم کرنے کا بنیادی حق ہی حاصل نہ ہو، تو وہاں آزادیِ اظہار یا لیبر رائٹس کی بات کرنا محض ایک مذاق ہے۔
ایشیا پیسیفک خطہ، جس کی نمائندگی کا اعزاز مجھے حاصل ہے، اپنے طویل تاریخی تجربات کی روشنی میں یہ بخوبی جانتا ہے کہ پائیدار ترقی، سماجی استحکام اور جامع اقتصادی نمو کبھی بھی آزاد اور خودمختار ٹریڈ یونینوں کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔ مزدور کی خوشحالی ہی معیشت کی حقیقی بنیاد ہے۔ اسی لیے ہم بیلاروس کی اس دگرگوں صورتحال کو صرف ایک ملک کا اندرونی معاملہ نہیں سمجھتے، بلکہ یہ بین الاقوامی محنتی معیارات کے پورے نظام کے لیے ایک سنگین اور کھلا چیلنج ہے۔ اگر آج بیلاروس کے حکمرانوں کو اس جبر کی اجازت دی گئی، تو کل دنیا کا ہر آمر اس راستے پر چلنے کی کوشش کرے گا
ہم اس کالم کے ذریعے اور ایشیا پیسیفک کے کروڑوں محنت کشوں کی طرف سے حکومتِ بیلاروس سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئی ایل او کے نگرانی کرنے والے اداروں کی سفارشات پر مزید کسی تاخیر کے بغیر فی الفور عمل درآمد شروع کرے۔ جیلوں میں قید تمام ٹریڈ یونین رہنماؤں اور کارکنوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے، آزاد ٹریڈ یونین تحریک کے خلاف جاری ریاستی جبر و استحصال کا فی الفور خاتمہ کیا جائے، اور ملک میں ٹریڈ یونینوں کی آزادانہ فعالیت کے لیے ضروری اور جمہوری ماحول بحال کر کے کنونشن نمبر 87 کی روح کے مطابق پاسداری یقینی بنائی جائے
بیلاروس کے محنت کش بھی دنیا بھر کے دیگر آزاد کارکنوں کی طرح انہی بنیادی انسانی حقوق کے مستحق ہیں جن کی ضمانت اقوامِ متحدہ دیتا ہے: یعنی آزادانہ طور پر تنظیم سازی کا حق، اپنی پسند کی تنظیموں کے ذریعے نمائندگی کا حق، اور کسی بھی قسم کی دھمکی، ہراسانی، انتقام یا عمر قید کے خوف کے بغیر اپنے جائز معاشی مفادات کے دفاع کا حق۔ جب تک بیلاروس کے مزدور کو یہ آزادی نہیں ملتی، عالمی مزدور تحریک چین سے نہیں بیٹھے گی اور ہماری یہ آواز دنیا کے ہر فورم پر گونجتی رہے گی
تعارف ، چوہدری سعد محمد پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں اور اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی گورننگ باڈی کے منتخب ممبر ہیں، پاکستان کی مزدور تحریک کا ایک معتبر عالمی چہرہ ہیں جو ملک کے محنت کشوں کے حقوق کی تحفظ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں جہاں عالمی اور قومی فورمز پر انجمن سازی کی آزادی جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کے خاتمے، اور ڈیجیٹل دور میں گیگ و پلیٹ فارم ورکرز کے سماجی تحفظ کے لیے مسلسل وکالت کرتے آ رہے ہیں،اپنی جرات مندانہ صحافتی تحریروں اور کالموں کے ذریعے بھی پاکستان اور دنیا بھر میں ٹریڈ یونینز پر ہونے والے ریاستی و کارپوریٹ جبر کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں