بچپن کی مزدوری پاکستانی معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ
رانا جبران
ہر سال 12 جون کو دنیا بھر میں چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ معصوم بچوں کے استحصال کے خلاف آواز بلند کی جا سکے اور ان کے حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔
امسال یہ دن ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب عالمی سطح پر اس ناسور کے خاتمے کے لیے “آئیے اپنے وعدوں پر عمل کریں، چائلڈ لیبر کا خاتمہ کریں کا تھیم مقرر کیا گیا ہے
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل اور امید ہوتے ہیں، جنہیں اکثر ‘قوم کے پھول’ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ معاشرے کی معصومیت اور آنے والے کل کی نمائندگی کرتے ہیں
ہر بچہ محبت، دیکھ بھال، تحفظ، تعلیم اور ایک محفوظ ماحول میں بڑھنے کے مواقع کا مستحق ہے، جہاں بچپن کا دور خوشی، دریافت اور ذاتی ترقی سے عبارت ہونا چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے، دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان کے لاکھوں بچوں کے لیے یہ تلخ حقیقت انتہائی مختلف اور ہولناک ہے۔
اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چائلڈ لیبر کے خلاف جنگ نئی نہیں ہے۔ فلورنس کیلی جیسی نامور امریکی سماجی مصلح اور وکیل نے بیسویں صدی کے آغاز میں کارخانوں کے سفاکانہ حالات کو بے نقاب کر کے اور قانون سازی کے لیے لابنگ کر کے امریکی لیبر تحفظات کا وہ بنیادی ڈھانچہ قائم کیا
جسے آج دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ تاہم، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں یہ چیلنج آج بھی اپنی بدترین شکل میں موجود ہے۔ غربت، بے روزگاری، کمر توڑ مہنگائی، تعلیمی مواقع کی کمی، اور کمزور سماجی تحفظ کا نظام اکثر غریب خاندانوں کو اپنے لختِ جگر کم عمری میں ہی کام پر بھیجنے پر مجبور کر دیتا ہے
بہت سے معاملات میں، بچے ایسی بھاری ذمہ داریوں کے لیے جسمانی یا جذباتی طور پر تیار ہونے سے بہت پہلے ہی گھریلو آمدنی کا ذریعہ بن جاتے ہیں، جس کا نتیجہ ان کی بنیادی حقوق بشمول تعلیم، صحت اور تفریح سے مستقل محرومی کی صورت میں نکلتا ہے
بین الاقوامی تعریف کے مطابق، چائلڈ لیبر سے مراد وہ کام ہے جو بچوں کو ان کے بچپن، وقار اور تعلیمی مواقع سے محروم کرے اور ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما کو نقصان پہنچائے۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) اور یونیسیف کے حالیہ تخمینوں کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً 160 ملین (16 کروڑ) بچے چائلڈ لیبر کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں
یعنی عالمی سطح پر ہر دس میں سے ایک بچہ ایسے کام میں ملوث ہے جو اس کی صحت اور مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے
ان میں سے افریقہ 72 ملین بچوں کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ خطہ ہے، جبکہ ایشیا اور بحرالکاہل کا خطہ 62 ملین بچوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں سے نصف تعداد ایسے خطرناک کاموں میں مصروف ہے جو ان کی زندگیوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
پاکستان کے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں یہ تلخ حقیقت ہر چوراہے پر بکھری دکھائی دیتی ہے۔ بازاروں، بس ٹرمینلز، آٹو ورکشاپس اور مصروف گلیوں میں 5 سے 14 سال کے معصوم لڑکے اور لڑکیاں ٹریفک سگنلز پر پھول اور غبارے بیچتے، کاریں دھوتے، چائے کے ہوٹلوں پر برتن مانجتے اور جوتے پالش کرتے نظر آتے ہیں۔
ان میں سب سے خطرناک اور پوشیدہ شکل گھریلو چائلڈ لیبر ہے، جہاں نجی گھروں میں بند دروازوں کے پیچھے کام کرنے والے معصوم بچے عوامی نظروں سے اوجھل ہونے کے باعث جسمانی، ذہنی اور بعض اوقات جنسی بدسلوکی کا شکار ہوتے ہیں اور یہ معاملات اکثر رپورٹ بھی نہیں ہو پاتے
چائلڈ لیبر کے اثرات نہایت سنگین ہیں جو نسل در نسل غربت کے دائرے کو برقرار رکھتے ہیں۔ پاکستان کا آئین اگرچہ آرٹیکل 11 کے تحت جبری مشقت کی ممانعت کرتا ہے اور آرٹیکل 25-A کے ذریعے 5 سے 16 سال کے بچوں کے لیے مفت و لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے،
مگر ان قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ جو قوم اپنے بچوں کے استحصال کی اجازت دیتی ہے وہ دراصل اپنے مستقبل کا سودا کرتی ہے۔
اس عالمی دن کے موقع پر بطور پاکستانی ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے صرف حکومت کے بھروسے بیٹھنے کے بجائے ہمیں خود عملی کردار ادا کرنا ہوگا
اگر ہم میں سے ہر صاحبِ حیثیت پاکستانی ایسے ایک بچے کی تعلیم اور کفالت کی ذمہ داری اپنے ذمے لے لے اور انہیں معاونت فراہم کرے، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کا ہر بچہ اوزار چھوڑ کر قلم تھامے گا اور ملک کا مستقبل حقیقی معنوں میں روشن ہو جائے گا۔
تعارف: رانا جبران ملی لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر اور ملک کے ممتاز مزدور رہنما ہیں وہ پاکستان بھر کے محنت کشوں مختلف مزدور تنظیموں اور ان کی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے نظریے کے داعی ہیں۔ ان کی سوچ کا محور بکھری ہوئی مزدور قوت کو یکجا کر کے حقوق کے لیے ایک مشترکہ اور توانا جدوجہد کا آغاز کرنا ہے جس کے لیے وہ عملی طور پر ہمہ وقت سرگرمِ عمل ہیں