آئی ایل او عالمی لیبر کانفرنس میں المناک واقعہ
مہرین صدیقی ، نمائندہ لیبر نیوز جنیوا
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جاری بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کی 114ویں سالانہ کانفرنس اس وقت سوگ میں ڈوب گئی جب نائجیریا سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر اور ممتاز ٹریڈ یونین رہنما کانفرنس کے دوران اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔
اس اچانک موت نے نہ صرف نائجیریا کے وفد بلکہ عالمی سطح پر مزدور حقوق کے لیے کام کرنے والے مندوبین کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
مزدور رہنما کا نام کامریڈ عیسیٰ عثمان لادان تھا، جو نائجیریا کی طاقتور مزدور تنظیم ‘نائجیریا لیبر کانگریس کے ایک فعال رکن اور نیشنل یونین اف ہاسپیٹلٹی اینڈ ٹورازم ایمپلائز کے صدر تھے۔ وہ آئی ایل او کانفرنس میں نائجیریا کے مزدوروں کی نمائندگی کے لیے جنیوا گئے ہوئے تھے۔
نائجیریا لیبر کانگریس کے صدر جو اجیرو نے جنیوا سے ایک تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے اس افسوسناک خبر کی تصدیق کی ہے۔ بیان کے مطابق، کامریڈ عیسیٰ عثمان جنیوا میں کانفرنس کے سیشنز میں باقاعدگی سے شرکت کر رہے تھے اور مزدوروں کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔
تاہم، منگل اور بدھ کی درمیانی شب انہیں اچانک سینے میں شدید درد محسوس ہوا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر جنیوا کے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
اس واقعے کے بعد جنیوا میں نائجیریا کے مستقل مشن اور سفارت خانے نے سوئس حکام کے ساتھ مل کر قانونی کارروائی اور میت کو جلد از جلد نائجیریا منتقل کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ نائجیرین وفد میں شامل دیگر اراکین اور حکومتی نمائندے اس مشکل گھڑی میں مرحوم کے لواحقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں
کامریڈ عیسیٰ عثمان لادان نے اپنی پوری زندگی نائجیریا میں محنت کشوں کے حقوق، خاص طور پر ہوٹل، سیاحت اور سروسز کے شعبے سے وابستہ غریب ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے نائجیریا میں کم از کم اجرت کے تعین اور کام کے محفوظ ماحول کے لیے کئی کامیاب تحریکوں کی قیادت کی تھی۔
آئی ایل او کانفرنس میں موجود مختلف ممالک کے مزدور رہنماؤں، آجروں اور مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ کانفرنس کے اگلے سیشن کے آغاز پر ان کی یاد میں خاموشی اختیار کی گئی اور مزدور تحریک کے لیے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
نائجیریا کے وزیرِ محنت نے بھی اپنے ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ ملک ایک سچے اور مخلص مزدور رہنما سے محروم ہو گیا ہے جس کا خلا آسانی سے پُر نہیں کیا جا سکے گا۔
انٹرنیشنل لیبر کانفرنس کو دنیا بھر میں ‘مزدوروں کی عالمی پارلیمنٹ’ کہا جاتا ہے، جہاں ہر سال دنیا بھر سے حکومتوں، مزدور تنظیموں اور کاروباری مالکان کے نمائندے محنت کشوں کے قوانین، تحفظ اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید چیلنجز پر بحث کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ رواں سال کی کانفرنس میں نائجیریا کا وفد ملک میں جاری معاشی اصلاحات اور نئی اجرتوں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا
تاہم اس المناک واقعے نے کانفرنس کے ماحول کو اداس کر دیا ہے۔ نائجیریا لیبر کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کامریڈ عیسیٰ عثمان کا آخری دم تک مزدوروں کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے عالمی فورم پر دنیا سے رخصت ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے مشن سے کتنے مخلص تھے۔
ان کی میت اگلے چند روز میں نائجیریا کے شہر ابوجا پہنچنے کی توقع ہے جہاں ان کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کی جائے گی