سانحہ بلدیہ فیکٹری کب کیا ہوا ؟
رپورٹ ( عمیر شاہ ، نمائندہ لیبرنیوز )
ستمبر 2012 کی وہ شام کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کے سیکٹر 12 میں واقع علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری کے مزدوروں کے لیے ایک عام شام تھی، جہاں سینکڑوں مرد و خواتین اپنی شفٹ ختم کرنے اور اجرت حاصل کرنے کے منتظر تھے۔
لیکن اچانک اٹھنے والے دھوئیں اور آگ کے شعلوں نے چند ہی گھنٹوں میں اس فیکٹری کو ایک ایسے مقتل میں تبدیل کر دیا جس کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 260 سے زائد مزدور زندہ جھلس کر یا دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے، جبکہ دجنوں شدید زخمی ہوئے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین صنعتی حادثہ شمار کیا جاتا ہے۔
سانحے کا پس منظر اور فیکٹری کی صورتحال علی انٹرپرائزز ایک کثیر المنزلہ فیکٹری تھی جہاں بنیادی طور پر جرمنی کی ایک بڑی برانڈ ‘کک کے لیے جینز تیار کی جاتی تھی۔
حادثے کے وقت فیکٹری میں گنجائش سے زیادہ مزدور موجود تھے۔ عینی شاہدین اور بعد میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق فیکٹری میں ہنگامی اخراج کے راستے سرے سے موجود ہی نہیں تھے یا انہیں تالے لگا کر بند کر دیا گیا تھا تاکہ کپڑا چوری نہ ہو سکے۔
فیکٹری کی کھڑکیوں پر لوہے کی مضبوط جالیوں نے مزدوروں کے لیے باہر نکلنے کے تمام راستے مسدود کر دیے۔ جب آگ لگی تو عمارت کے اندر موجود دم گھٹتے ہوئے مزدوروں کے پاس باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا، اور تڑپتے ہوئے انسانوں کی چیخیں آج بھی لواحقین کے دلوں کو دہلا دیتی ہیں۔
ابتدائی طور پر اس واقعے کو شارٹ سرکٹ کے باعث لگنے والی ایک عام آگ قرار دیا گیا اور فیکٹری مالکان کے خلاف غفلت کا مقدمہ درج کیا گیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کیس نے ایک سنسنی خیز اور سیاسی رخ اختیار کر لیا
2015 میں رینجرز کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک جے آئی ٹی رپورٹ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ یہ آگ حادثاتی نہیں تھی، بلکہ سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے کراچی تنظیمی کمیٹی کے عہدیداران کی جانب سے فیکٹری مالکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ مانگا گیا تھا، اور بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیمیکل چھڑک کر آگ لگائی گئی
اس ہولناک انکشاف کے بعد کیس کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا۔ آٹھ سال تک جاری رہنے والی طویل قانونی جنگ، سینکڑوں گواہوں کے بیانات اور فرانزک شواہد اکٹھے کیئے گئے
ستمبر 2020 میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اپنا تاریخی فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو فیکٹری میں آگ لگانے کے جرم میں سزائے موت سنائی۔ عدالت نے فیکٹری کے چار چوکیداروں کو مجرموں کی معاونت کے جرم میں عمر قید کی سزا دی،
جبکہ ایم کیو ایم کے اس وقت کے اہم رہنما رؤف صدیقی سمیت چند دیگر ملزمان کو ثبوت نہ ہونے کی بنا پر بری کر دیا۔ سزائے موت پانے والے ملزمان نے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی، جس نے بعد ازاں ان کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔
جون 2026 میں اس ہائی پروفائل کیس میں اس وقت ایک اور بڑا اور غیر متوقع موڑ آیا جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے مرکزی ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا اور انہیں بری کرنے کا حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، اور قانون کے مطابق شک کا فائدہ ملزم کو ملنا چاہیے۔ عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے نے جہاں قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، وہاں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے بے بس خاندانوں کو ایک بار پھر گہرے صدمے اور مایوسی میں دھکیل دیا ہے
سانحہ بلدیہ ٹاؤن کو گزرے چودہ سال ہونے کو ہیں، لیکن مقتولین کے بوڑھے والدین، بیواؤں اور یتیم بچوں کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ جرمن خریدار کمپنی کی جانب سے ملنے والے معاوضے اور حکومتی امداد نے ان کے چولہے تو جلائے رکھے، مگر انصاف کی عدم فراہمی نے ان کے دلوں کو مستقل طور پر زخمی کر رکھا ہے۔
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر فیکٹری کو آگ لگانے والے مجرم نہیں تھے، تو پھر ان کے پیاروں کا قاتل کون ہے؟ یہ سوال آج بھی کراچی کے صنعتی افق پر انصاف کے نظام کے سامنے ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہے