افکو کے محنت کشوں کی عظیم تاریخی جدوجہد
غلام مرتضیٰ تنولی
پاکستان کی تاریخ میں 28 مئی کا دن عظمت، غیرت اور ناقابلِ شکست عزم کا استعارہ ہے۔ ایک 28 مئی وہ تھا جب سنہ 1998ء میں پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں پر کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو یہ واضح اور دوٹوک پیغام دیا کہ یہ قوم اپنے دفاع، وقار، آزادی اور خودمختاری پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی
یہ صرف تکنیکی دھماکے نہیں تھے بلکہ ایک زندہ قوم کی جرات، خودداری اور عزمِ صمیم کا عالمی اعلان تھا۔ اس تاریخی اقدام کے بعد پاکستان دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنا اور دشمن پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ اب اس پاک سرزمین کی طرف میلی آنکھ اٹھانے والا خود مٹ جائے گا۔ تکبیر کے نعروں سے گونجتا ہوا یہ دن ملکی دفاع کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تسخیر بنا گیا
لیکن اس قومی اہمیت کے ساتھ ساتھ، 28 مئی کا دن افکو پاکستان کے محنت کشوں کے لیے بھی ایک غیر معمولی اور تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ ٹھیک سولہ سال بعد، یعنی 28 مئی 2014ء کو افکو کے مزدوروں نے کارپوریٹ دنیا میں رائج استحصالی ٹھیکیداری نظام، ناانصافی اور انتظامیہ کے ظلم کے خلاف اپنی ایک عظیم اور تاریخی جدوجہد کا آغاز کیا تھا
یہ وہ دن تھا جب کارخانوں کے حبس زدہ ماحول میں پسنے والے محنت کشوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب ظلم پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی، بلکہ مزدور اپنے جائز آئینی حقوق، پیشہ ورانہ عزت اور روزگار کے تحفظ کے لیے ہر قانونی میدان میں لڑے گا
یہ طبقاتی اور صنعتی جدوجہد کسی بھی طور آسان نہیں تھی۔ اس طویل سفر کے دوران مزدوروں پر انتظامیہ کی طرف سے شدید دباؤ آیا، نوکریوں سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئیں اور ہر قدم پر مالی و سماجی مشکلات کھڑی کی گئیں،
لیکن افکو کے غیور محنت کش نہ جھکے، نہ بکے اور نہ ہی اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے۔ انہوں نے اپنے اتحاد سے یہ ثابت کر دیا کہ جب مزدور یکجا ہو جائیں تو بڑے سے بڑا ظالمانہ اور سرمایہ دارانہ نظام بھی جڑ سے ہل جاتا ہے
افکو کے مزدوروں نے کارپوریٹ اشرافیہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے عدالتوں کا رخ کیا اور سالہا سال تک صبر آزما قانونی جنگ لڑتے رہے۔
آخرکار، محنت کشوں کی یہ استقامت رنگ لائی اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹھیکیداری نظام کے خلاف مزدوروں کے حق میں ایک تاریخی اور سنگِ میل فیصلہ صادر کیا
یہ عدالتی فیصلہ اس قدر اہمیت کا حامل تھا کہ اسے مستقل طور پر پاکستان کی لاء رپورٹ کا حصہ بنایا گیا، جو آج بھی ملک بھر کی مزدور تحریکوں کے لیے ایک قانونی نظیر کے طور پر موجود ہے۔ یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور یادگار کیس تھا
جہاں کسی بڑی اور مہنگی قانونی فرم کے بجائے ٹریڈ یونین کے جنرل سیکرٹری نے خود ذاتی حیثیت میں عدالتِ عظمیٰ کے سامنے دلائل دیے اور کارپوریٹ وکلاء کو شکست دے کر محنت کشوں کے حق میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔
یہ شاندار عدالتی فتح صرف کاغذوں تک یا مزدوروں کو مستقل کروانے تک ہی محدود نہیں رہی، بلکہ اس کے نتیجے میں سالہا سال سے محروم رکھے گئے کارکنان کو بیک بینیفٹس کی مد میں بھاری رقوم کی ادائیگی بھی یقینی بنائی گئی
اس فیصلے کے تحت ایک ایک مزدور کو تقریباً 35 لاکھ (3.5 ملین) روپے تک کی رقم ملی، جبکہ مجموعی طور پر محنت کشوں میں تقسیم کی جانے والی یہ رقم تقریباً 17 سے 18 کروڑ (170 سے 180 ملین) روپے بنتی ہے
یہ خطیر رقم صرف کوئی مادی معاوضہ نہیں تھی، بلکہ یہ محنت کش کے خون پسینے، برسوں کے صبر، لازوال قربانیوں اور سچائی کی فتح کا باقاعدہ اعتراف تھا۔
جس طرح ریاستِ پاکستان نے 28 مئی کو ایٹمی قوت بن کر ملکی سلامتی کے خلاف اٹھنے والے خطرات اور دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا تھا
بالکل اسی طرح افکو کے غیور مزدوروں نے اپنے اتحاد، استقامت، قربانی اور آئینی جدوجہد کے ذریعے ٹھیکیداری نظام کے فرعونوں کو شکست دے کر پاکستان کی لیبر ہسٹری میں ایک نیا باب رقم کیا لہو سے جو چراغ جلتے ہیں، وہ بجھ نہیں سکتے جو حق کی خاطر لڑتے ہیں، وہ جھک نہیں سکتے
یومِ تکبیر کے اس پرمسرت اور تاریخی موقع پر ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ جس طرح پاکستان اپنی جغرافیائی سلامتی کے دفاع کے لیے ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط کھڑا ہے،
اسی طرح اس ملک کا محنت کش طبقہ بھی اپنے معاشی حقوق، سماجی انصاف اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی جنگ ہر محاذ پر پوری قوت سے لڑتا رہے گا۔
پاکستان زندہ باد، محنت کش اتحاد زندہ باد۔