محنت کی نئی شکلیں

آدم عباس

انسان اپنی تاریخ خود بناتا ہے، مگر وہ اسے اپنی پسند کے حالات میں نہیں بناتا بلکہ ان حالات میں بناتا ہے جو ماضی سے اسے ورثے میں ملتے ہیں۔

انسانی تاریخ اسی بات کا اظہار کرتی نظر اتی ہے کہ ترقی کبھی سکون، جمود یا خوف سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ تضادات، کشمکش اور نئی پیچیدگیوں کے اندر سے جنم لیتی ہے۔

آج مصنوعی ذہانت یعنی اے آٸی کے حوالے سے جو خوف پایا جا رہا ہے کہ یہ انسان سے روزگار چھین لے گی، اسے تاریخ اور ڈاٸلیکٹکس کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم انسانی ارتقا کے پورے سفر کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر نئی ایجاد نے ابتدا میں بے یقینی پیدا کی مگر بالاخر اس نے انسانی شعور، انسانی آزادی اور انسانی امکانات کو مزید وسیع کیا۔

ڈاٸلیکٹیکل مٹیریلزم کا ایک بنیادی اصول تضادات کی وحدت و کشمکش ہے۔ اس قانون کے مطابق ہر شے کے اندر متضاد رجحانات موجود ہوتے ہیں، اور انہی کی کشمکش تبدیلی اور ارتقا کو جنم دیتی ہے۔

بیج کے اندر ہی بیج رہنے اور پودا بننے کا تضاد موجود ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنی موجودہ شکل سے چمٹا رہے تو کبھی درخت نہیں بن سکتا۔ اس کی اپنی نفی ہی اس کی ترقی بنتی ہے۔ یہی اصول سماج، معیشت اور ٹیکنالوجی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

انسانی تاریخ دراصل اوزاروں کی تاریخ بھی ہے۔ ابتداٸی انسان جب پتھر کے اوزار استعمال کرتا تھا تو اس کی زندگی کا بیشتر حصہ جسمانی مشقت میں گزرتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اوزار پیچیدہ ہوتے گئے۔

زراعت آٸی، پھر صنعت، پھر مشینیں، پھر کمپیوٹر، اور اب اے آٸی۔ اس پورے سفر میں ایک بات واضح دکھاٸی دیتی ہے کہ انسان مسلسل جسمانی محنت سے نکل کر ذہنی، تخلیقی اور تنظیمی محنت کی طرف بڑھتا گیا۔ گویا شعور خود کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بناتا چلا گیا۔ شعور دراصل پیچیدگی ہی کا نام ہے۔

وہ نئی گرہیں پیدا کرتا ہے، پھر انہی گرہوں کو سلجھاتے ہوٸے اپنی نئی سطحیں دریافت کرتا ہے۔

جب ٹریکٹر پہلی بار آیا تو لوگوں نے یہی کہا کہ اب کھیتوں میں کام کرنے والے بے روزگار ہو جاٸیں گے۔ وقتی طور پر تبدیلیاں ضرور آٸیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ٹریکٹر نے صرف پرانی محنت ختم نہیں کی بلکہ ایک نئی دنیا پیدا کی۔

زرعی انجینئرنگ، مشین سازی، ایندھن، ٹرانسپورٹ، مرمت، زرعی تحقیق اور جدید مارکیٹ جیسے بے شمار شعبے وجود میں آٸے۔ یہاں نفی کی نفی کا قانون واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ہاتھ کی محنت کی نفی ہوٸی مگر اس نفی نے ایک ایسی نئی معیشت کو جنم دیا جس میں پیداوار بھی بڑھی، امکانات بھی بڑھے اور محنت کی نئی شکلیں بھی پیدا ہوٸیں۔

ڈاٸلیکٹکس کے مطابق کوٸی بھی نئی قوت صرف پرانی شکل کو ختم نہیں کرتی بلکہ ایک نئے ماحول کو بھی جنم دیتی ہے۔ غلامی کے دور میں دولت، طاقت اور محنت کا ایک مخصوص نظام تھا۔ پھر جاگیرداری آٸی تو اس نے صرف غلامی کے اوزار نہیں بدلے بلکہ پورا سماجی ماحول بدل دیا۔

اسی طرح صنعتی انقلاب نے جاگیردارانہ دنیا کو توڑ کر ایک نئی صنعتی دنیا پیدا کی۔ پھر ڈیجیٹل انقلاب آیا جس نے روایتی صنعتوں اور بازاروں کی شکل بدل دی۔ اب اے آٸی اسی تاریخی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسانی تمدن کے ارتقا کا نیا مرحلہ ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر نیا ٹول اپنے ساتھ نیا ماحول بھی پیدا کرتا ہے۔ بیج جب پودا بنتا ہے تو وہ اسی ماحول میں نہیں رہتا جس میں بیج تھا بلکہ وہ اپنے گرد موجود فضا، زمین اور ماحول کو بھی بدل دیتا ہے۔

یہی ٹیکنالوجی کی اصل طاقت ہے۔ اوزار صرف پیداوار کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ انسانی تعلقات، آزادی، معیشت اور شعور کی نئی شکلیں بھی پیدا کرتے ہیں۔

اگر ہم غلامی کے دور کے انسان اور آج کے انسان کا موازنہ کریں تو فرق واضح ہے۔ غلام کے پاس اپنی زندگی پر اختیار نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس کی حیثیت محض زندہ رہنے تک محدود تھی۔ مگر جدید انسان نسبتا زیادہ معاشی، سماجی اور سیاسی آزادی رکھتا ہے۔

 وہ اپنے کام، اپنی تعلیم اور اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے کر سکتا ہے۔ یہ آزادی اچانک پیدا نہیں ہوٸی بلکہ صدیوں کے تکنیکی اور معاشی ارتقا کا نتیجہ ہے۔ جدید اوزاروں نے انسان کو صرف زیادہ پیداوار نہیں دی بلکہ زیادہ آزادی بھی دی۔

اسی تناظر میں اے آٸی کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ بہت سی روایتی اور تکراری نوکریاں ختم ہوں گی، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان غیر ضروری ہو جاٸے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی محنت ایک نئی سطح پر منتقل ہو رہی ہے۔ مستقبل میں زیادہ اہمیت تخلیقی صلاحیت، تحقیق، فلسفہ، ساٸنس، خلاٸی علوم، حیاتیات، نفسیات اور انسانی شعور کے ان میدانوں کو حاصل ہو سکتی ہے جہاں انسان اپنی فکری صلاحیتوں کو زیادہ گہراٸی سے استعمال کرے گا۔

آج بھی انسانی ذہن کا بڑا حصہ صرف معاشی بقا کی جنگ میں کھپ جاتا ہے۔ اگر اے آٸی انسان کو repetitive اور تھکا دینے والے کاموں سے نسبتا آزاد کر دے تو ممکن ہے کہ انسانی تہذیب پہلی بار اپنی وسیع تخلیقی صلاحیتوں کو زیادہ بڑے پیمانے پر استعمال کر سکے۔

کائنات ابھی تک انسان کے لیے ایک کھلا ہوا راز ہے۔ ہم ابھی تک زمین، زندگی، شعور اور کائنات کے بنیادی سوالات کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ انسان کے پاس مستقبل میں کام نہیں بچے گا، شاید انسانی شعور کی اصل وسعت کو محدود کر کے دیکھنا ہے۔

ڈاٸلیکٹکس ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ تاریخ سیدھی لکیر میں نہیں چلتی بلکہ تضادات، بحرانوں اور نئی تشکیلوں کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔ اس لیے اے آٸی کو صرف خوف کے زاویے سے دیکھنا تاریخی شعور کی کمی ہوگی۔

انسان کی اصل طاقت اس کی تخلیقی صلاحیت، اس کی موافقت اور اس کے شعور میں ہے۔ انسان نے ہمیشہ نئے اوزار پیدا کیے ہیں، اور پھر انہی اوزاروں نے انسان کو ایک نئی سطح کی آزادی، نئی پیچیدگی اور نئے شعور کی طرف دھکیلا ہے۔ اے آٸی بھی شاید اسی طویل انسانی سفر کا ایک نیا باب ہے

تعارف : آدم عباس ممتاز دانشور، مصنف، مترجم اور ترقی پسند نظریاتی استاد ہیں وہ طویل عرصے سے پاکستان میں مزدوروں، کسانوں اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق، اور ان میں اجتماعی سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے فکری سطح پر سرگرم ہیں پاکستان میں محنت کشوں کے اجتماعی شعور کی آبیاری کرنے والے چند گنے چنے فکری رہنماؤں میں سے ہیں