جاپان کی زوال پذیر ہوتی ہوئی صنعتی ترقی
قاضی تحسین احمد ہاشمی
————————
جاپان نے ترقی اور خوشحالی کی وہ تمام حدود پار کر لی ہیں جن کا تصور بھی مشکل تھا، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ عروج کے بعد زوال کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ ایک نیا طاقتور کھلاڑی عالمی سیاست میں آ رہا ہے جو جاپان کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔
اس سے قبل جب میں نے اپنے مضامین “ہندوستان ٹوٹ رہا ہے” اور “امریکہ ٹوٹ رہا ہے” لکھے تھے، تب ان علامات کا کہیں نشان نہیں تھا، مگر آج وہ پوری دنیا پر عیاں ہو چکے ہیں۔
جاپان بظاہر ایک پُرسکون، حسین، باوقار اور قانون کا پابند ملک یعنی جنت کا منظر پیش کرتا ہے، لیکن اس کے پیچھے باطنی حقیقت مختلف ہے دوسری جنگِ عظیم میں جاپان نے بے مثال بہادری اور بے دردی سے جنگ لڑی اور دنیا کو کامیکازخودکش حملوں سے متعارف کرایا
جنگجوئی اور خر دماغی میں یہ قوم افغانوں سے کم نہیں۔ اتحادیوں کو اندازہ تھا کہ اگر جاپان کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ خود تباہ ہو جائیں گے
اسی لیے ایٹم بم گرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنگ بندی کے بعد تباہ شدہ جاپان سے جنگی تاوان لینے کے لیے اسے ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈالا گیا، کیونکہ اتحادی جانتے تھے کہ جاپانی اپنے شہنشاہ کا حکم کبھی نہیں ٹالتے۔
اکثر جاپان کو پرامن ملک کہا جاتا ہے، لیکن وہ غیر اعلانیہ ایٹمی صلاحیت، بڑی فوج، بحریہ اور فضائیہ کیوں رکھتا ہے؟
پاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر شدید ناراضی ظاہر کرنے والا جاپان خود دنیا کو امن کا درس دیتا ہے، یہ عالمی اسٹریٹجی کا تضاد ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ مسلسل ایک ہی چیز کے استعمال سے اکتاہٹ پیدا ہوتی ہے؛ یہی حال جاپان کا ہے،
جہاں قانون کی بالادستی اور کامیابی اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ آگے کوئی منزل نظر نہیں آتی۔ جب چڑھائی ختم ہو جائے تو اترائی بہت تیزی سے شروع ہوتی ہے۔
جاپان کے زوال کے ٹھوس آثار آج ہی نظر آنے لگے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ آبادیاتی خودکشی ہے جاپان میں شرحِ پیدائش محض 1.3 بچے فی عورت رہ گئی ہے، جبکہ آبادی برقرار رکھنے کے لیے 2.1 کی شرح درکار ہے۔
سال 2023ء میں ریکارڈ کم ترین یعنی صرف 7 لاکھ 58 ہزار بچے پیدا ہوئے، جبکہ 15 لاکھ 80 ہزار اموات ہوئیں۔ جاپان ہر سال ہیروشیما جتنا پورا ایک شہر کھو رہا ہے اور 2070ء تک اس کی آبادی 125 ملین سے گھٹ کر 87 ملین رہ جائے گی
دوسرا بڑا بوجھ عمر رسیدہ آبادی کا ہے۔ جاپان کی 30 فیصد سے زائد آبادی 65 سال سے اوپر کی ہو چکی ہے، جس سے پنشن اور سوشل سیکیورٹی کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔
اندازہ ہے کہ 2040ء تک 10 لاکھ بزرگ تنہا مر جائیں گے آبادی نہ ہونے کے باعث ہر سال 400 سے 500 اسکول بند ہو کر گوداموں یا فیکٹریوں میں تبدیل ہو رہے ہیں اور دیہی علاقے بھوت شہر بنتے جا رہے ہیں
معاشی محاذ پر جاپان عالمی معیشتوں میں دوسرے سے چوتھے نمبر پر آ گیا ہے اور اس پر معیشت سے 250 فیصد زیادہ قرض کا بوجھ ہے۔ ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس اور کاروں کی صنعت میں چین اور جنوبی کوریا نے اسے پیچھے چھوڑ دیا ہے
اس کے ساتھ ہی جاپان میں سالانہ 20,000 سے زائد افراد خودکشی کرتے ہیں، جن میں نوجوان خواتین کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق جاپان میں پیدا ہونے والے بچے کے 39 سال کی عمر تک پہنچنے کے امکانات گھانا جیسے غریب ملک کے برابر رہ گئے ہیں
اس پر مستزاد یہ کہ جاپان زلزلوں اور سونامی کے دہانے پر ہے؛ 2011ء کا فوکوشیما جوہری حادثہ اب تک حل طلب ہے اور پرانے ایٹمی ری ایکٹرز کسی بھی وقت بڑی آفت کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس تباہی کی اصل وجہ جاپانی ثقافت ہے۔ نوجوان شادی کی ذمہ داریوں سے فرار چاہتے ہیں، کام کا جنون اس حد تک ہے کہ لوگ دفاتر میں مر رہے ہیں اور بچوں کی پرورش اتنی مہنگی ہے کہ جوڑے بچے پیدا کرنے سے کتراتے ہیں۔
حکومت کے نقد انعامات اور مراعات بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ جاپان نے اپنے خالق کو چھوڑ دیا ہے اور وہ اللہ کی بجائے اپنے بادشاہ کو مانتے ہیں۔ یہ ملک باہر سے چمکتے ہوئے خوبصورت سیب کی مانند ہے جسے اندر سے کیڑے لگ چکے ہیں۔ وقت اور حالات بدلتے ہیں میں نے اپنی 70-75 سالہ عمر میں کئی ممالک کو بنتے اور مٹتے دیکھا ہے۔ جاپان بھی ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا۔ تاریخ میری اس پیشن گوئی کی گواہی دے گی
تعارف:قاضی تحسین احمد ہاشمی پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار، کالم نگار اور مزدور امور کے ماہر ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کے حقوق، صنعتی تعلقات اور طبقاتی نظام پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف محنت کش طبقے میں شعور بیدار کرنے اور لیبر قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی ہیں۔ وہ اپنے منفرد اور فکری اندازِ تحریر کے باعث ادبی اور صنعتی حلقوں میں یکساں مقبول ہیں