سام سنگ کے 45 ہزار سے زائد ملازمین کی 18  روزہ ہڑتال کا اعلان

سیول( لیبر نیوز فارن ڈیسک )  آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی عالمی لہر اور میموری چپس کی مانگ میں ریکارڈ اضافے کے بعد، دنیا کی سب سے بڑی چپ بنانے والی کمپنی ‘سام سنگ الیکٹرانکس شدید اندرونی بحران کا شکار ہو گئی ہے

بونس کی غیر منصفانہ تقسیم کے معاملے پر کمپنی اور اس کی سب سے بڑی لیبر یونین کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں، جس کے بعد 45,000 سے زائد ورکرز نے 21 مئی سے 18 روزہ ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب انتظامیا نے اے آئی  چپس بنانے والے ورکرز کے لیے دوسرے شعبوں کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ بونس دینے کی تجویز پیش کی۔ یونین کا مطالعہ ہے کہ منافع میں سب کا حصہ برابر ہونا چاہیے اور سالانہ آپریٹنگ پرافٹ کا 15 فیصد بونس پول کے لیے مخصوص کیا جائے۔

اس طویل ہڑتال سے ایچ بی ایم  اور ڈی ریم  چپس کی عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے کمپنی کو روزانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جبکہ جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سپلائی چین کے تحفظ کے لیے ہڑتال کو محدود کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں