پاکستان میں مزدور قوانین کی مضبوطی اور آئی ایل او کے اقدامات
اسرار ایوبی
———
عالمی ادارہ محنت اقوام متحدہ کا ایک اہم ادارہ ہے جس کا اختیار بین الاقوامی معیارات محنت کے تعین کے ذریعہ دنیا بھر میں سماجی اور معاشی انصاف کو فروغ دینا ہے۔ اس ادارے کی بنیاد اکتوبر 1919 میں انجمن اقوام متحدہ کے تحت رکھی گئی تھی اور اس کا شمار اقوام متحدہ کے اولین اور قدیم ترین خصوصی اداروں میں ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ محنت کے 187 رکن ممالک ہیں، جن میں اقوامِ متحدہ کے 193 میں سے 186 رکن ممالک اور کُک آئی لینڈز شامل ہیں۔ اس کا مرکزی دفتر جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں واقع ہے، جبکہ دنیا بھر میں اس کے تقریباً 40 فیلڈ دفاتر موجود ہیں۔ یہ ادارہ 107 ممالک میں تقریباً 3,381 ملازمین پر مشتمل ہے،
جن میں سے 1,698 ماہرین تکنیکی تعاون کے پروگراموں اور منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ محنت کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا کہ دنیا میں سماجی ترقی کو فروغ دیا جائے اور صنعت و معیشت کے تین فریقین حکومت، آجران اور کارکنوں کے درمیان مکالمہ اور باہمی تعاون کے ذریعے سماجی و معاشی مفادات کے تنازعات پر قابو پایا جائے۔
عالمی ادارہ محنت کے معیارات کا مقصد دنیا بھر میں کام کی آزادی، مساوات، تحفظ اور وقار کے ماحول میں قابلِ رسائی، پیداواری عمل اور پائیدار روزگار کو یقینی بنانا ہے۔ یہ معیارات عالمی ادارہ محنت کے 189 کنونشنز اور معاہدوں میں بیان کئے گئے ہیں،
جن میں سے آٹھ کو 1998 کے بنیادی اصولوں اور حقوق برائے کام” کے اعلامیہ کے مطابق بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہ بنیادی کنونشنز کارکنوں کے لئے انجمن سازی کی آزادی، اجتماعی سودے بازی کے حق کے مؤثر اعتراف، جبری مشقت اور بچہ مزدوری کے خاتمے اور ملازمت و پیشہ جات میں امتیاز کے خاتمے کا تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے نظام میں عالمی ادارہ محنت کو اس کے منفرد سہ فریقی ڈھانچہ کی وجہ سے خاص مقام حاصل ہے، جہاں تمام معیارات، پالیسیاں اور پروگرام حکومتوں، آجر تنظیموں اور مزدور نمائندوں کی باہمی مشاورت اور منظوری سے طے کئے جاتے ہیں۔ یہ نظام عالمی ادارہ محنت کے تین مرکزی اداروں کے ذریعہ برقرار رکھا جاتا ہے
1- بین الاقوامی محنت کانفرنس، جو ہر سال منعقد ہوتی ہے اور بین الاقوامی معیارات محنت مرتب کرتی ہے ، گورننگ باڈی، جو انتظامی کونسل کے طور پر ادارے کی پالیسی اور بجٹ کا فیصلہ کرتی ہے بین الاقوامی لیبر آفس، جو اس کا مستقل سیکریٹریٹ ہے اور ادارے کی سرگرمیوں کا انتظام اور نفاذ کرتا ہے
اس سیکریٹریٹ کی سربراہی مغربی افریقی ملک جمہوریہ ٹوگو سے تعلق رکھنے والے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ہونگبو کر رہے ہیں، جنہیں 2022 میں گورننگ باڈی نے منتخب کیا تھا۔عالمی ادارہ محنت نے 2019 میں کام کے مستقبل سے متعلق ایک عالمی کمیشن قائم کیا تھا،
جس کی رپورٹ ایک روشن مستقبل کے لئے کام میں دنیا بھر کی حکومتوں کے لئے 21 ویں صدی کے محنت کے ماحول کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے دس سفارشات پیش کی گئی تھیں۔ ان سفارشات میں عالمگیر محنت ضمانت، پیدائش سے بڑھاپے تک سماجی تحفظ اور زندگی بھر سیکھنے کے حق کو شامل کیا گیا تھا۔
عالمی ادارہ محنت بین الاقوامی ترقی پر اپنی خاص توجہ کے باعث اقوام متحدہ کے ڈیولپمنٹ گروپ کا بھی رکن ہے، جو پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے کام کرنے والے اداروں کا اتحاد ہے
عالمی ادارہ محنت کی تاریخ میں دو اہم سنگِ میل نمایاں حیثیت کے حامل ہیں، پہلا، 1919 میں معاہدۂ ورسائی، جس کے تحت عالمی ادارہ محنت قائم کیا گیا تھا اور دوسرا 1944 کا اعلامیہ فلاڈیلفیا، جس نے اقوام متحدہ کے تحت عالمی ادارہ محنت کی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کیا اور اس بنیادی اصول کی توثیق کی کہ “محنت کوئی جنس نہیں ہے۔
پاکستان 1947 میں اپنے قیام کے بعد سے عالمی ادارہ محنت کا ایک اہم اور فعال رکن رہا ہےاور اس نے عالمی ادارہ محنت کے آٹھ بنیادی عہد ناموں سمیت 36 کنونشنز کی توثیق کی ہے۔ جبکہ حکومت پاکستان، آجر تنظیموں اور مزدور تنظیموں کے نمائندے مختلف ادوار میں بارہا عالمی ادارہ محنت کی گورننگ باڈی میں نمایاں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
پاکستان کے لئے عالمی ادارہ محنت کنٹری آفس 1970 میں کراچی میں قائم کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں دارالحکومت اسلام آباد منتقل کر دیا گیا، جہاں حکومتِ پاکستان کی جانب سے عطیہ کردہ اراضی پر اس کے دفتر کی عمارت قائم ہے۔
پاکستان میں عالمی ادارہ محنت کے اہم امور میں مختلف شعبے شامل رہے ہیں، جن میں بین الاقوامی معیارات محنت کا فروغ، بچہ مزدوری اور جبری مشقت کی روک تھام اور خاتمہ، قابلِ روزگار مہارتوں کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، صنفی مساوات کو مرکزی دھارے میں لانا، لیبر مارکیٹ گورننس کو مضبوط بنانا، تنازعات اور بحرانوں کے بعد روزگار اور معاشی بحالی، سماجی تحفظ کی اسکیموں اور سوشل سیفٹی نیٹس کا دائرہ وسیع کرنا، خصوصاً غیر رسمی معیشت میں، نیز سہ فریقی نظام نوکارپوریٹ ازم پر مبنی ایک معاشی نظام، جو مخلوط معیشت اور آجر تنظیموں، مزدور یونینوں، اور حکومت کے درمیان سہ فریقی معاہدوں پر قائم ہوتا ہے
اس نظام میں ہر فریق ایک سماجی شراکت دار کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا ہے تاکہ تعاون، مشاورت، مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعہ معاشی پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں۔
سہ فریقی نظام میں حکومت معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور مزدور یونینوں اور کاروباری مفاداتی گروہوں کے درمیان مذاکرات میں حصہ لے کر معاشی پالیسیوں کے تعین میں معاونت کرتی ہے۔
عالمی ادارہ محنت کا کنٹری آفس اسلام آباد، پاکستانی کارکنوں کے لئے باوقار روزگار اور سماجی انصاف کے حصول کے لئے اپنے شراکت داروں کی کوششوں میں بھرپور معاونت فراہم کرتا ہے۔
عالمی ادارہ محنت پاکستان میں ڈیلیورنگ ایز ون کے تحت اقوام متحدہ کے اصلاحاتی پروگرام کا ایک فعال رکن ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے دیگر اداروں، کثیرالجہتی اور دوطرفہ ایجنسیوں، نیز غیر سرکاری اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر قومی معاشی و سماجی ترقی کے اہداف اور بین الاقوامی وعدوں، جیسے پائیدار ترقیاتی اہداف اور دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے حصول میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
پاکستان میں عالمی ادارہ محنت کے کام کا دائرہ بین الاقوامی معیارات محنت کی توثیق میں معاونت سے لے کر لیبر پالیسی سازی، مزدور انتظامیہ، محنت اور روزگار/صنعتی تعلقات، پیشہ ورانہ تحفظ و صحت، سماجی تحفظ، قابلِ روزگار مہارتوں اور فنی تربیت، مزدوروں کی تعلیم، خواتین مزدوروں کے حقوق، صنفی مساوات اور کام کی جگہ پر عدم امتیاز، بچہ مزدوری کے خاتمے، جبری مشقت کی روک تھام ، کارکنوں کی ہجرت، دیہی انفراسٹرکچر اور روزگار و معاشی بحالی سمیت متعدد شعبوں تک پھیلا ہوا ہے
گیئر تھامس ٹونسٹول عالمی ادارہ محنت کنٹری آفس اسلام آباد کے سربراہ ہیں، جنہیں عالمی ادارہ محنت نے 3 جنوری 2023 کو پاکستان میں عالمی ادارہ محنت کنٹری آفس اسلام آباد کا ڈائریکٹر مقرر کیا تھا۔
ناروے سے تعلق رکھنے والے ٹونسٹول نے 2003 میں عالمی ادارہ محنت میں شمولیت اختیار کی اور انہوں نے ادارے کے ہیڈ کوارٹر اور فیلڈ دونوں سطحوں پر مختلف کلیدی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ پاکستان آنے سے قبل عالمی ادارہ محنت کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل برائے فیلڈ آپریشنز اینڈ پارٹنر شپس کے دفتر میں سینئر ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر فائز تھے،
جہاں وہ 2016 سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس سے پہلے وہ عدیس ابابا، ایتھوپیا میں عالمی ادارہ محنت کے ریجنل آفس برائے افریقہ میں ریسورس موبلائزیشن اسپیشلسٹ اور آپریشنز اسپیشلسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔انہوں نے عالمی ادارہ محنت میں اپنے کیریئر کا آغاز بیورو فار جینڈر ایکویلیٹی سے کیا،
جہاں وہ چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر کے طور پر ترقیاتی تعاون کے منصوبوں کے ایک پورٹ فولیو کی نگرانی کرتے تھے۔ مسٹر ٹونسٹول نے اپریل سے اکتوبر 2022 تک عالمی ادارہ محنت کے نئے منتخب ہونے والے ڈائریکٹر جنرل کی ٹرانزیشن ٹیم میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
ٹونسٹول جینڈر اینڈ ڈیولپمنٹ میں ایم فل اور ڈیولپمنٹ ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ میں اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے حامل ہیں۔ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کی ایک بیٹی ہے۔
گیئر ٹونسٹول ایک تجربہ کار بین الاقوامی ماہر محنت کی حیثیت سے اپنی نمایاں شناخت رکھتے ہیں، وہ پاکستان میں باوقار روزگار کے فروغ اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے مختلف پروگراموں کی نگرانی کرتے ہیں۔ ان کی بصیرت افروز قیادت میں عالمی ادارہ محنت کا کنٹری آفس اسلام آباد پاکستان میں باوقار کام کے کنٹری پروگرام پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہا ہے۔
ان کی اہم ترجیحات اور اقدامات میں کارکنوں کی کام کی جگہ پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت شامل ہیں۔ٹونسٹول خاص طور پر کان کنی، ٹرانسپورٹ اور تعمیرات جیسے خطرناک شعبوں میں محفوظ کام کے ماحول کے فروغ پر زور دیتے ہیں۔
ان کی کوشش ہے کہ مزدوروں کو صنعتی حادثات اور غیر محفوظ حالات سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ وہ مزدور قوانین پر مؤثر عملدرآمد، کارکنوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور خواتین و مردوں کے درمیان مساوی مواقع کے فروغ پر توجہ دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ محنت کنٹری آفس اسلام آباد حکومت، آجر تنظیموں اور ٹریڈ یونینز کے مابین سماجی مکالمہ کے ذریعہ تعاون اور مشاورت کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے تاکہ محنت سے متعلق پالیسیوں میں تمام فریقوں کی شمولیت یقینی بنائی جا سکے۔
ماہر محنت گیئر ٹونسٹول پاکستان میں ادارہ جاتی مضبوطی کے لئے مزدورقوانین کی نگرانی، عملدرآمد اور تعمیل کے ادارہ جاتی نظام کو بہتر بنانے پر بھی بھرپور توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں تاکہ مزدوروں کے حقوق کا مؤثر تحفظ ممکن ہو سکے
تعارف : اسرار ایوبی ای او بی آئی کے ایک ریٹائرڈ افسر ہیں جنہیں آب مزدور دنیا ایک کہنہ مشق کالم نگار کی حیثیت سے جانتی ہے، جو طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق اور سماجی و سیاسی موضوعات پر قلم اٹھا رہے ہیں