گلشن معمار لیبر اسکوائر میں مزدوروں کی طویل جدوجہد کے بعد بجلی کے میٹرز کی تنصیب
کراچی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک ) گلشن معمار لیبر اسکوائر میں طویل انتظار اور کئی سالوں کی اذیت کے بعد بالآخر بجلی کے میٹرز لگانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے برسوں کی تاخیر نے سندھ ورکرز ویلفئیر بورڈ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں
لیبر اسکوئر گلشن معمار کے محنت کشوں کا کہنا ہے کہ بنیادی ضرورت یعنی بجلی کے حصول کے لیے انہیں برسوں احتجاج اور دفاتر کے چکر کاٹنے پڑے
مزدوروں کا کہنا ہے کہ یہ عمل افسوسناک ہے کہ اپنے ہی فنڈز سے بننے والی بستیوں میں محنت کشوں کو بنیادی انسانی حقوق کے لیے بھی کمیٹیوں اور طویل جدوجہد کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوٹو سیشنز کے بجائے مزدور بستیوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
گلشن معمار لیبر کالونی کے ریہائشیوں کے مطابق مزدوروں کے فنڈز سے چلنے والے ادارے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ’ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ الاٹمنٹ کے ساتھ ہی تمام بنیادی سہولیات فراہم کرتا، مگر انتظامی غفلت کے باعث مزدور ابادیاں طویل عرصے تک اندھیروں میں ڈوبی رہیں
اگرچہ رہائشیوں نے اس پیش رفت پر چار رکنی کمیٹی کی جدوجہد کو سراہا ہے تاہم یہ صورتحال سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیا جارہا ہے
مزدور رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف میٹرز کی تنصیب کافی نہیں بلکہ بورڈ سندھ بھر کی دیگر مزدور کالونیوں میں بھی پینے کے صاف پانی، گیس اور نکاسی آب جیسے سنگین مسائل فوری حل کرے۔