پی آئی اے کے پینشنرز اور سسٹم کی بے حسی
محبوب الہیٰ
————–
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن پی آئی اے کے اکاؤنٹس آفس کے باہر جب احسان الہیٰ صاحب اپنی 30 سالہ ملازمت کے آخری دن ساتھیوں سے الوداعی مصافحہ کر رہے تھے تو ان کے چہرے پر ایک اطمینان بخش مسکراہٹ تھی
یہ مسکراہٹ اس یقین کا اظہار تھی کہ زندگی بھر کی دیانتداری اور گرم سرد موسموں میں ادارے کو دی گئی جوانی کا صلہ اب سکون کی صورت میں ملے گا
مگر وہ اس تلخ حقیقت سے بے خبر تھے کہ جس ادارے کو انہوں نے اپنا خون پسینہ دیا، وہی ادارہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے لیے ایک ایسی بھول بھلیاں ثابت ہوگا جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔
ریٹائرمنٹ کے چند ماہ بعد جب پہلی پینشن آئی تو احسان الہیٰ صاحب کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی یہ وہ رقم تھی جو برسوں پہلے کے معیارِ زندگی کے مطابق طے کی گئی تھی
جبکہ آج کی کمر توڑ مہنگائی نے روپوں کی وقعت کو مٹی میں ملا دیا ہے۔ پینشن میں اضافے کا نہ ہونا دراصل ریٹائرڈ ملازم کی سفید پوشی کا قتلِ عام ہے
یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، ہزاروں پینشنرز آج اسی ‘فکسڈ پینشن’ کے قیدی ہیں، جہاں آمدنی ساکت ہے اور اخراجات آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔
بڑھاپے کے ساتھ بیماریاں دستک دیتی ہیں، مگر پی آئی اے کے پینشنرز کے لیے سٹیٹ لائف یا میڈیکل کارڈ کی سہولت اب سہولت کے بجائے ایک ذہنی اذیت بن چکی ہے
اسپتالوں کے چکر، کبھی ڈاکٹر کے دستخط کی شرط، کبھی یہ دوا لسٹ میں نہیں کا عذر اور کبھی یہ ٹیسٹ کور نہیں ہوتا کی تکرار
نتیجہ وہی نکلتا ہے کہ سفید پوش پینشنر اپنی جمع پونجی سے ادویات خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ احسان الہیٰ صاحب جیسے ہزاروں ملازمین کے لیے میڈیکل سسٹم اب ایک ایسی الجھن ہے جس کا کوئی سرا نہیں ملتا۔
سب سے بڑا سوال گروپ انشورنس اور ریٹائرمنٹ فنڈز کا ہے۔ ملازمین کی زندگی بھر کی کٹوتیوں کا کوئی شفاف آڈٹ سامنے نہیں آتا۔ گروپ انشورنس کی فائلیں دفتروں کی دھول چاٹ رہی ہیں اور پینشنرز انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں
کئی ساتھی اس انتظار میں منوں مٹی تلے جا سوئے، مگر ان کے پسماندگان آج بھی انہی دفاتر کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں۔ پینشن فنڈز کا کوئی واضح حساب نہ ہونا ایک ایسی ادارہ جاتی ناکامی ہے جس پر خاموشی مجرمانہ ہے۔
جب سسٹم بے حس ہو جائے، تو اس کا اثر گھر کے اندرونی حالات پر پڑتا ہے۔ وہی شخص جو کل تک ادارے کا اثاثہ تھا، آج اپنے ہی گھر میں معاشی بوجھ محسوس کرنے لگتا ہے
احسان الہیٰ صاحب کو جب گھر کا راشن پورا کرنے کے لیے اپنی ریٹائرمنٹ پر ملی یادگاری گھڑی بیچنی پڑی، تو وہ لمحہ صرف ایک گھڑی کے بکنے کا نہیں بلکہ ایک قوم کے اخلاقی دیوالیہ پن کا تھا۔
یہ کالم محض ایک فریاد نہیں بلکہ ایک قومی سوال ہے کیا ہم اپنے محسنوں کو جنہوں نے ملک کے قومی ادارے کی آبیاری میں اپنی زندگیاں لگا دیں، بڑھاپے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے؟
پی آئی اے کے پینشنرز کی خاموشی ان کی کمزوری نہیں بلکہ ان کی تربیت کا حصہ ہے مگر ان کی یہ خاموشی سسٹم کے لیے ایک بڑا چارج شیٹ ہے
اگر آج ان کے حقوق، پینشن کی بحالی، میڈیکل کی شفافیت اور گروپ انشورنس کی ادائیگی کے لیے آواز نہ اٹھائی گئی، تو یاد رکھیے کہ کل ہر ملازم کا انجام یہی ہوگا۔ ہمیں سسٹم سے پوچھنا ہوگا ہمارے محسنوں کی زندگی بھر کی کمائی کا حساب کہاں ہے؟
تعارف: محبوب الہیٰ سینئر مزدور رہنما اور مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ کراچی کے صدر ہیں وہ طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ زیرِ بالا کالم میں انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ریٹائرڈ ملازمین کو درپیش سنگین معاشی اور طبی مسائل کی نشاندہی کی ہے، جو برسوں کی خدمت کے باوجود آج حکومتی اور انتظامی بے حسی کا شکار ہیں