دبئی سے پاکستانی محنت کشوں کی بے دخلی کا بحران
رپورٹ ( فیصل شہزاد ، نمائندہ لیبر نیوز عرب امارات )
متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط دوستانہ تعلقات اس وقت ایک مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں، جس کا براہِ راست خمیازہ وہاں مقیم پاکستانی محنت کشوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
اس سنگین صورتحال میں کس طرح بدلتی ہوئی علاقائی سیاست نے عام مزدوروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے
اس بحران کی بنیاد وہ سفارتی خلیج ہے جو پاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے باعث پیدا ہوئی ہے
ایک طرف پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف متحدہ عرب امارات ان کوششوں سے نالاں دکھائی دیتا ہے
اماراتی حکام کا غصہ اس بات پر ہے کہ پاکستان نے اماراتی تنصیبات پر ہونے والے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی اس شدت سے مذمت نہیں کی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران متحدہ عرب امارات نے بڑے پیمانے پر پاکستانی کارکنوں کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے 20 سے زائد ایسے پاکستانیوں کے انٹرویو کیے جنہیں اچانک گرفتار کر کے بغیر کسی قانونی دفاع کے ڈی پورٹ کر دیا گیا
ان میں سے بیشتر کا تعلق شیعہ کمیونٹی سے تھا، جو برسوں سے اماراتی کمپنیوں میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں نہ تو اپنے بقایا جات وصول کرنے کا موقع دیا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ان کا جرم کیا ہے
متحدہ عرب امارات پاکستان کے لیے ترسیلاتِ زر کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ لاکھوں پاکستانی وہاں محنت مزدوری کر کے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالتے ہیں۔
اگر ملک بدری کا یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو اس سے نہ صرف لاکھوں خاندان خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے بلکہ پاکستان کی پہلے سے نحیف معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچے گا غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی پاکستان کے لیے ایک نیا مالیاتی بحران پیدا کر سکتی ہے۔
اس تمام صورتحال میں پاکستانی دفترِ خارجہ کی خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جہاں انسانی حقوق اور عالمی و قومی مزدور تنظیمیں اس جبری بے دخلی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں،
وہاں حکومتِ پاکستان کی جانب سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان ایک مشکل صورتحال میں پھنسا ہوا ہے
جہاں اسے ایک طرف اپنے برادر اسلامی ملک اور معاشی شراکت دار کو منانا ہے اور دوسری طرف پڑوسی ملک ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور ثالثی کے کردار کو بھی برقرار رکھنا ہے
اگر یہ سفارتی دراڑ جلد نہ بھری گئی تو خدشہ ہے کہ ہزاروں دیگر پاکستانی بھی اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اس وقت شدید خوف و ہراس کا شکار ہے
اور وہ اپنی حکومت کی جانب دیکھ رہی ہے کہ وہ ان کے روزگار اور تحفظ کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔ یہ بحران محض چند سو افراد کی بے دخلی کا نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اس کے بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے حقوق کا ایک بڑا امتحان ہے