کیا دنیا کے مزدور ایک نئی عام ہڑتال کی جانب بڑھ رہے ہیں ؟

رپورٹ ( شمائلہ عمر ، نمائندہ لیبر نیوز برطانیہ )

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کے وسط تک پہنچتے پہنچتے عالمی سطح پر محنت کشوں کی تحریکیں ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہیں جہاں عام ہڑتال کا تصور محض تاریخ کی کتابوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک جیتا جاگتا امکان بن کر ابھرا ہے۔

حالیہ برسوں میں برطانیہ، یورپ اور ایشیا کے کئی حصوں میں ہونے والے احتجاجی سلسلوں نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو مزدوروں کو ایک ملک گیر یا عالمی سطح کی بڑی ہڑتال سے روک رہے ہیں اور وہ کیا محرکات ہیں جو اس کی راہ ہموار کر رہے ہیں

عالمی معیشت میں مہنگائی کے طوفان اور اجرتوں کے جمود نے محنت کش طبقے کو دیوار سے لگا دیا ہےکارپوریٹ منافع میں تو ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن عام مزدور کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے

یہی وہ بنیادی وجہ ہے جو اساتذہ، نرسوں، ریلوے ورکرز اور فیکٹری ملازمین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بقا کی جنگ شدت اختیار کر جائے تو مختلف شعبوں کے مزدور اپنے انفرادی مطالبات کے بجائے ایک مشترکہ نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں

عام ہڑتال کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ سخت گیر لیبر قوانین ہیں جو کئی ممالک میں دہائیوں کے دوران نافذ کیے گئےیہ قوانین یونینز کی طاقت کو محدود کرتے ہیں اور ہڑتال کے حق کو پیچیدہ قانونی ضابطوں میں جکڑ دیتے ہیں

اس کے علاوہ، جدید معیشت میں ‘گیگ ورک اور فری لانسنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان نے مزدوروں کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے، جس کی وجہ سے روایتی یونین سازی مشکل ہو گئی ہے

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے لاکھوں ورکرز اب بھی اس جدوجہد میں شامل ہونے کے لیے ایک منظم ڈھانچے کی تلاش میں ہیں۔

ان رکاوٹوں کے باوجود 2026 میں مزدور تحریکوں کے اندر ایک نئی قسم کی یکجہتی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اب صرف فیکٹری مزدور ہی نہیں بلکہ سفید پوش ملازمین بھی یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے مسائل مشترک ہیں

ماحولیاتی تبدیلیوں اور مصنوعی ذہانت  کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی مزدوروں کو اپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند کر دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر آج اجتماعی سودے بازی  نہ کی گئی تو آنے والی نسلوں کے لیے روزگار کے مواقع مزید سکڑ جائیں گے

عام ہڑتال صرف ایک معاشی عمل نہیں بلکہ ایک سیاسی بیان ہوتا ہے۔ یہ ریاست اور سرمایہ دارانہ نظام کے لیے ایک براہِ راست چیلنج ہے کہ اگر ہم کام روک دیں تو دنیا رک جائے گی

اگرچہ ابھی تک کوئی ملک گیر عام ہڑتال مکمل طور پر وقوع پذیر نہیں ہوئی، لیکن حالیہ احتجاجی لہریں ظاہر کرتی ہیں کہ محنت کشوں کا غصہ نقطہ ابال تک پہنچ چکا ہے۔

مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ لیبر یونینز کس طرح موجودہ قانونی رکاوٹوں کو عبور کرتی ہیں اور کس طرح غیر منظم شعبے  کے مزدوروں کو اپنے ساتھ ملاتی ہیں