سال 2026 کے یومِ مزدور کا عنوان عالمی مہنگائی رہا
محمد تابش (ہیڈ لیبر نیوز ریسرچ ڈیسک )
یکم مئی 2026 کو دنیا بھر میں محنت کشوں نے ایک ایسے وقت میں عالمی یومِ مزدور منایا گیا جب عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور مہنگائی کی لہر نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔
ایشیا سے لے کر یورپ اور امریکہ تک، کروڑوں مزدوروں نے سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق، بہتر اجرت اور کام کے محفوظ حالات کے لیے آواز بلند کی
بین الاقوامی ادارہ محنت اور عالمی مزدور تنظیموں کی جانب سے سال 2026 کے لیے یومِ مزدور کا عنوان “سماجی انصاف اور سب کے لیے باوقار کام رکھا گیا تھا
اس عنوان کا بنیادی مقصد اس بات پر زور دینا ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات صرف سرمایہ دار طبقے تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، بلکہ ہر محنت کش کو اس کی محنت کا منصفانہ صلہ اور کام کی جگہ پر عزت و وقار ملنا چاہیے۔
سال 2026 کے اجتماعات میں ماضی کے مقابلے میں زیادہ شدت دیکھی گئی۔ فرانس، ترکی، اور جنوبی کوریا میں بڑے پیمانے پر مہنگائی کے خلاف مزدور ریلیاں نکالی گئیں جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں
پیرس میں لاکھوں افراد نے پنشن اصلاحات اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ سیول میں ہزاروں ورکرز نے کم از کم اجرت میں فوری اضافے کا مطالبہ کیا
پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں مہنگائی کی وجہ سے مزدوروں کی حالتِ زار مزید ابتر دکھائی دی۔ یہاں احتجاج کا رخ صرف اجرتوں تک محدود نہیں تھا بلکہ سوشل سیکیورٹی، ای او بی آئی ای اور نجی کمپنیوں میں کنٹریکٹ سسٹم کے خلاف بھی شدید غم و غصہ پایا گیا۔
مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومتیں بڑے بڑے دعوے تو کرتی ہیں لیکن جب بات قانون سازی کی آتی ہے تو لیبر کوڈز جیسے اقدامات کے ذریعے مزدوروں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جاتے ہیں
2026 کے یومِ مزدور پر ایک نمایاں تبدیلی گیگ اکانومی یعنی آن لائن ڈیلیوری بوائز اور رائیڈ شیئرنگ ڈرائیورز کی بڑی تعداد میں شرکت تھی
ان ورکرز کا مطالبہ تھا کہ انہیں بھی باقاعدہ مزدور تسلیم کیا جائے اور انہیں حادثات کی صورت میں انشورنس اور دیگر طبی سہولیات فراہم کی جائیں
عالمی سطح پر مزدور اتحاد کی یہ لہر اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب محنت کش طبقہ محض روایتی تقاریر پر اکتفا کرنے کو تیار نہیں ہے۔
اگر حکومتوں نے بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور مہنگائی کا حل نہ نکالا تو یہ احتجاجی لہر عالمی سپلائی چین اور صنعتی پیداوار کو مفلوج کر سکتی ہے
دنیا بھر کے محنت کشوں نے سال 2026 کے یوم مزدور کا دن شکاگو کے شہداء کی یاد منانے کے ساتھ ساتھ اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا کہ جب تک دنیا میں استحصال باقی ہے، محنت کش کی جدوجہد جاری رہے گی