پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کا متنازع نوٹیفکیشن پر مزدور احتجاج

رپورٹ ( عامر سہیل ، ریذیڈنٹ ایدیٹر پنجاب )

پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ  کی جانب سے مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیمی وظائف اسکالرشپس پر سخت شرائط عائد کرنے کے حالیہ نوٹیفکیشن نے صوبے بھر میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری چوہدری سعد محمد نے مزکورہ نوٹیفکیشن نمبر PWWF(WEL)5(2)2025(664)/G.P(3595) کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے محنت کشوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش اور مزدور دشمن اقدام قرار دے کر ملک گیر احتجاج کا

اعلان کیا ہے

مزدور رہنما نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جب تک یہ متنازع نوٹیفکیشن فوری اور غیر مشروط طور پر واپس نہیں لیا جاتا، وہ پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گورننگ باڈی کے تمام اجلاسوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے. ان کا موقف ہے کہ مزدوروں کے مفاد کے خلاف کیے گئے کسی بھی فیصلے میں وہ شریکِ جرم نہیں بنیں گے.

ملی لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر رانا جبران نے ویلفیئر فنڈ کی انتظامیہ کی جانب سے کیئے جانے والے فیصلے کو جمہوری اور قانونی طریقہ کار کے منافی قرار دیا ہے

ان کا کہنا ہے کہ محنت کشوں کے خاندانوں کی فلاح و بہبود، تعلیم اور مستقبل پر اثر انداز ہونے والی کسی بھی پالیسی کو پہلے گورننگ باڈی کے سامنے رکھنا، اس پر بحث کرنا اور باضابطہ منظوری لینا قانونی طور پر لازم ہے، لیکن انتظامیہ نے ان تمام مراحل کو نظر انداز کر کے آمریت کا مظاہرہ کیا ہے

مزدور رہنماؤں کے مطابق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب انتظامیہ نے مزدوروں کے بچوں کے لیے اسکالرشپ کے حصول کے لیے 60 فیصد اور میڈیکل و انجینئرنگ کے طلبہ کے لیے 80 فیصد نمبروں کی شرط عائد کی. مزدور نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ شرائط غیر منصفانہ اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں.

اس حوالے سے درج ذیل نکات اٹھائے گئے ہیں جن میں مزدور کا بچہ اور اشرافیہ کا بچہ ایک جیسے حالات میں تعلیم حاصل نہیں کرتے مزدور کے بچوں کو مہنگی اکیڈمیز، ٹیوشنز، پرسکون ماحول، الگ اسٹڈی روم اور بجلی جیسی سہولیات میسر نہیں ہوتیں

اکثر محنت کش والدین پڑھے لکھے نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے بچوں کو گھر میں تعلیمی رہنمائی نہیں مل پاتی کٹھن حالات، غربت اور ذہنی دباؤ کے باوجود کسی ڈگری کا حصول ہی مزدور کے بچے کا اصل میرٹ ہے

مزدور نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ ان مزدور دشمن پالیسیوں پر خاموش تماشائی نہیں بنے رہیں گے. انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو محنت کشوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی، غصے اور بد اعتمادی کی تمام تر ذمہ داری پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کی انتظامیہ پر عائد ہوگی

مزدور تنظیموں نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن  اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں محنت کشوں کے بچوں سے چھینے جانے والے تعلیمی حق کا نوٹس لیں

ان کا مطالبہ ہے کہ اس نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے کر مزدور نمائندوں اور ٹریڈ یونینز کی مشاورت سے ایک ایسی منصفانہ پالیسی بنائی جائے جو غریب طلبا کو تعلیم کی طرف راغب کرے، نہ کہ انہیں مایوسی کی طرف دھکیلے.