ولیکا اسپتال کا نیازی وارڈ انتظامی بے حسی کی نذر

رپورٹ ( عمیر شاہ ، نمائندہ لیبر نیوز )

کسی بھی ادارے کی پہچان صرف اس کی بلند و بالا عمارتوں یا سالانہ بجٹ کے اعداد و شمار سے نہیں ہوتی، بلکہ ان لوگوں کی قربانیوں سے ہوتی ہے جو اپنے فرض کی انجام دہی کے لیے اپنی جان تک نذرانہ کر دیتے ہیں

سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن کی تاریخ میں ایک ایسا ہی روشن نام میاں محمد نیازی کا ہے جنہوں نے ادارے کے ملازمین کے مفاد کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی

 تاہم آج ان کی یادگار اور ان کے نام سے منسوب ہسپتال کا وارڈ انتظامیہ کی مبینہ سرد مہری اور عدم دلچسپی کا اشتہار بن چکا ہے

میاں محمد نیازی کی زندگی بہادری اور حب الوطنی سے عبارت تھی۔ وہ محض ایک سرکاری ملازم نہیں تھے، بلکہ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بہادری دکھانے پر تمغۂ بصالت حاصل کرنے والے ایک سابق فوجی بھی تھے۔

سیسی میں اپنی ملازمت کے دوران انہوں نے ثابت کیا کہ وردی بدلنے سے جذبۂ شجاعت تبدیل نہیں ہوتا۔

2 مئی 1991 کا دن سیسی کی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ جب میاں محمد نیازی بینک سے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے نقد رقم لے کر ولیکا ہسپتال پہنچے ہی تھے کہ گھات لگائے ڈاکوؤں نے کیش لوٹنے کی کوشش کی۔ نیازی شہید نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر تن تنہا ان مسلح ڈاکوؤں کا مقابلہ کیا

ڈاکوؤں کی گولیوں نے ان کا سینہ تو چھلنی کر دیا لیکن وہ محنت کشوں کی محنت کی کمائی لٹنے سے بچا گئے اس عظیم شجاعت کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں بعد از مرگ تمغۂ شجاعت سے نوازا

شہید کی اس لازوال قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اس وقت کے وزیرِ محنت عابد اختر اور سیسی انتظامیہ نے ولیکا ہسپتال کے ایک وارڈ کو نیازی شہید وارڈ کے نام سے منسوب کیا تھا

ماضی میں سابق وزراء محنت خواجہ محمد اعوان اورعادل صدیقی جیسے وزرائے محنت نے بھی اس یادگار کی اہمیت کو تسلیم کیا اور اس کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی اقدامات کیے۔

سیسی کے سابق سینیر افیسر ظفر نیازی کا کہنا ہے کہ ماضی کی نسبت صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے انہوں نے وزیرِ محنت سندھ سعید غنی اور کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فائلیں چھوڑ کر خود ہسپتال کا دورہ کریں اور اس تاریخی وارڈ کی حالتِ زار کا جائزہ لیں

سیسی آفیسرز مینیجمنٹ فاؤنڈیشن کے چیئرمین عابد بخاری نے بھی شہید کے یومِ وفات پر اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ تاریخی وارڈ اب اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے جو وارڈ کبھی ادارے کے بہادر سپوت کی نشانی اور عملے کے لیے مخصوص طبی سہولت کا مرکز تھا، وہ اب انتظامی غفلت کے باعث چند خستہ حال کمروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

سیسی سے رئٹائر افیسر چودھری رفیق کا کہنا تھا کہ سیسی کے ماتحت ولیکا اسپتال میں نیازی شہید وارڈ کی موجودہ حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے انتظامیہ نے جان بوجھ کر اس محسن کی نشانی کو بھلا دیا ہے وارڈ کی زبوں حالی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وارڈ کا بڑا حصہ اب دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور اس کی اصل حیثیت ختم کر دی گئی ہےاسٹاف کے لیے مخصوص طبی سہولیات اب ناپید ہو چکی ہیں، جس کے باعث ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے

سیسی کے سابق افسر عثمان میمن نے لیبر نیوز کو بتایا کہ نیازی وارڈ کی تزئین و آرائش کی کمی اور عمارت کی خستہ حالی ایک قومی ہیرو کی عظمت کی توہین کے مترادف ہے یادگار کی یہ حالت سیسی انتظامیہ کی اس سوچ کی عکاس ہے جہاں فرض شناسوں کی قربانیوں کی کوئی قدر باقی نہیں رہی

دو مئی کو میاں محمد نیازی شہید کی برسی کے موقع پر سیسی کے سابقہ اور حالیہ افسران اور ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ نیازی شہید وارڈ کو فوری طور پر اس کے اصل مقصد سیسی اسٹاف کے لیے مخصوص علاج کے لیے بحال کیا جائے وارڈ کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت اور تزئین و آرائش  کی جائے اسے ایک ماڈل وارڈ میں تبدیل کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اس محسن کے کردار اور قربانی سے واقف ہو سکیں۔

میاں محمد نیازی کی قربانی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ سیسی جیسا ادارہ ان لوگوں کی محنت اور خون سے سینچا گیا ہے جنہوں نے دوسروں کے تحفظ کو مقدم جانا۔

اب یہ سیسی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ اپنے ہیرو کی یادگار کو محفوظ بنا کر اپنی تاریخ کو سنوارتی ہے یا اسے بے حسی کی نذر کر کے اسے تاریخ کا ایک سیاہ باب بنا دیتی ہے