رانا پلازہ المیے کے 13 سال مکمل کیا مزدور اب محفوظ ہیں؟

طیبہ تاثیر ( فارن نیوز ایڈیٹر)

24 اپریل 2013 کی وہ صبح جب ڈھاکہ کے نواح میں واقع آٹھ منزلہ رانا پلازہ عمارت محض نوے سیکنڈز میں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھی آج بھی عالمی فیشن انڈسٹری کے ضمیر پر ایک بوجھ ہے

اس ہولناک حادثے میں 1,134 محنت کشوں کی ہلاکت نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مغربی ممالک کے شو رومز میں لٹکے سستے اور چمکدار کپڑوں کی اصل قیمت غریب ممالک کے مزدور اپنی جان دے کر چکا رہے ہیں۔

اس المناک واقعے کے بعد عالمی لیبر یونینز، ‘انڈسٹری آل اور یونی گلوبل نے برانڈز پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک تاریخی مہم شروع کی جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اکارڈ وجود میں آیا

جسے اب انٹرنیشنل اکارڈ برائے صحت و سلامتی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے جس کے تحت عالمی برانڈز اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ جن فیکٹریوں میں ان کا مال تیار ہوتا ہے، وہاں آگ سے بچاؤ عمارت کی مضبوطی اور برقی حفاظت کے بین الاقوامی معیار برقرار رکھے جائیں

گزشتہ 13 برسوں میں اس اکارڈ کے تحت بنگلہ دیش کی ہزاروں فیکٹریوں کا معائنہ کیا گیا اور لاکھوں حفاظتی خامیاں دور کی گئیں۔ اس نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ محض رضاکارانہ نہیں بلکہ قانونی ہے یعنی اگر کوئی برانڈ یا فیکٹری مالک کوتاہی کرتا ہے تو اسے عدالت میں جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے

تاہم انڈسٹری آل کی حالیہ رپورٹ بتاتی ہے کہ چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اگرچہ بنگلہ دیش میں عمارتوں کے گرنے کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے

لیکن اب بھی کئی سپلائی چینز ایسی ہیں جہاں مزدوروں کو ٹریڈ یونین بنانے کی آزادی نہیں ہے مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حقیقی حفاظت صرف مضبوط ستونوں سے نہیں بلکہ مزدور کی مضبوط آواز سے آتی ہے

رانا پلازہ کی برسی پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اس کامیاب ماڈل کو دیگر ممالک تک پھیلایا جائے۔ پاکستان میں بھی علی انٹرپرائزز جیسے بڑے حادثات کے بعد اب پاکستان اکارڈ پر دستخط کیے جا رہے ہیں

جس کا مقصد یہاں کی ٹیکسٹائل صنعت کو محنت کشوں کے لیے محفوظ بنانا ہے اب تک درجنوں عالمی برانڈز اس معاہدے کا حصہ بن چکے ہیں، جو پاکستانی برآمدات کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہے

عالمی لیبر تنظیموں کا موقف ہے کہ عالمی فیشن برانڈز سالانہ کھربوں ڈالر کا منافع کماتے ہیں، لیکن اس منافع کا ایک قلیل حصہ بھی اگر فیکٹریوں کی بہتری پر خرچ کیا جائے تو رانا پلازہ جیسے ڈیتھ ٹریپس کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکتا ہے

آج رانا پلازہ کے متاثرین کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ صرف تعزیتی بیانات تک محدود نہ رہا جائے بلکہ ہر اس برانڈ کا احتساب کیا جائے جو اب بھی انٹرنیشنل اکارڈ کا حصہ بننے سے کتراتا ہے

لیبر ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک مزدور کو اپنی شکایت درج کرانے اور غیر محفوظ کام سے انکار کرنے کا حق نہیں ملے گا، تب تک صنعتی حادثات کا خطرہ منڈلاتا رہے گا

رانا پلازہ المیہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی زندگی کسی بھی تجارتی آرڈر سے زیادہ مقدم ہے۔ انٹرنیشنل اکارڈ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں زندگیوں کی ڈھال ہے جس کا تحفظ اور پھیلاؤ وقت کی اہم ضرورت ہے