کراچی کے صنعتی زونز یا کا قبرستان

صمیم طارق

———

کراچی جسے کبھی روشنیوں کا شہر اور پاکستان کا معاشی انجن کہا جاتا تھا مگر یہ آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا یہ شہر اور اس کے بڑے صنعتی زونز سائٹ، کورنگی، لانڈھی اور نارتھ کراچی حکومتی بے حسی اور انتظامی بدحالی کا شکار ہو کر ایک ایسے معاشی چیلنج میں بدل چکے ہیں جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے

کراچی کے صنعتی علاقوں کی صورتحال کسی جنگ زدہ علاقے سے مختلف نہیں ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، سیوریج کے گندے پانی سے بھرے ہوئے راستے اور بجلی و گیس کی غیر یقینی فراہمی نے صنعت کاروں اور مزدوروں دونوں کا جینا محال کر دیا ہے

بین الاقوامی تجارتی مقابلوں میں جہاں وقت کی پابندی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے، وہاں کراچی کے ٹریفک جام اور تباہ حال سڑکیں سپلائی چین کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں

ایک ٹرک جسے انڈسٹریل ایریا سے بندرگاہ تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگنا چاہیے، وہ ٹریفک اور کھڈوں کی وجہ سے کئی گھنٹے ضائع کر دیتا ہے۔

اس تاخیر کی وجہ سے نہ صرف ایندھن کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ لاجسٹکس کی لاگت میں وہ اضافہ ہوتا ہے جو پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں بنگلہ دیش، بھارت اور ویتنام کے مقابلے میں مہنگا اور غیر مسابقتی بنا دیتا ہے۔

اس تمام تر بحران کا سب سے المناک پہلو وہ محنت کش ہے جو اس معیشت کے پہیے کو اپنے خون پسینے سے چلاتا ہےکراچی کا مزدور آج صرف مہنگائی سے نہیں بلکہ شہر کے بدتر ٹرانسپورٹ نظام اور انفراسٹرکچر سے بھی لڑ رہا ہے

ایک عام مزدور روزانہ چار سے پانچ گھنٹے صرف سفر کی اذیت میں گزارتا ہے۔ کھٹارا بسوں میں لٹک کر، گرد و غبار اور دھوئیں کے درمیان جب وہ فیکٹری پہنچتا ہے تو اس کی آدھی توانائی سڑکوں پر ہی دم توڑ چکی ہوتی ہے۔

جسمانی تھکن اور ذہنی تناؤ کا براہِ راست اثر مزدور کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ ایک تھکا ہوا مزدور نہ تو معیار برقرار رکھ سکتا ہے اور نہ ہی حادثات سے محفوظ رہ سکتا ہے

مزید برآں ٹریفک جام کے دوران اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے مزدوروں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے جو ان کی پیشہ ورانہ زندگی کو مزید مفلوج کر رہا ہے

مسئلہ صرف وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے کراچی کے صنعتی زونز سے اربوں روپے کا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، لیکن اس کا ایک فیصد بھی ان علاقوں کی ترقی پر خرچ نہیں ہوتا

گورننس کی ناکامی کا عالم یہ ہے کہ معمولی سی بارش پورے صنعتی نظام کو مفلوج کر دیتی ہے۔ فیکٹریاں بند ہو جاتی ہیں، خام مال سڑ جاتا ہے اور برآمدی آرڈرز منسوخ ہو جاتے ہیں۔

اب زبانی جمع خرچ کا وقت گزر چکا ہے اگر حکومت واقعی ملکی معیشت کو سہارا دینا چاہتی ہے تو اسے اہم اقدامات فوری طور پر کرنے ہوں گے

کراچی کے صنعتی علاقوں سے حاصل ہونے والے ریونیو کا ایک مخصوص حصہ لازمی طور پر انہی علاقوں کے انفراسٹرکچر، سڑکوں کی تعمیر اور نکاسی آب کے لیے مختص کیا جائے

صنعتی زونز کے لیے خصوصی ورکرز شٹل سروس شروع کی جائے تاکہ محنت کشوں کا سفری وقت کم ہو اور وہ باعزت طریقے سے کام پر پہنچ سکیں

صنعتی ٹریفک کے لیے الگ کوریڈورز بنائے جائیں تاکہ مال بردار گاڑیوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ نہ آئے۔

کراچی کے صنعتی زونز کا بحران محض ایک شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی ایمرجنسی ہے اگر معیشت کی شہ رگ اسی طرح کٹتی رہی تو ملک کی صنعتی ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا

حکومت اور مقتدر حلقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معیشت کا پہیہ سڑکوں کی ہمواری اور مزدور کے اطمینان سے جڑا ہے۔ جب تک مزدور توانا اور راستہ صاف نہیں ہوگا، ترقی کی منزل کا حصول ناممکن ہے

تعارف : صمیم طارق کا شمار کراچی کے متحرک مزدور رہنماؤں میں ہوتا ہے، جو خاص طور پر ملی لیبر فیڈریشنکے پلیٹ فارم سے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں نمایاں ہیں۔ ان کی شناخت ایک ایسے نقاد اور تجزیہ نگار کی ہے جو لیبر قوانین اور ان کے زمینی حقائق کے درمیان موجود فرق کو اعداد و شمار کے ساتھ پیش کرتے ہیں