پروفیسر محمد شفیع ملک سات دہائیوں پر محیط مزدور تحریک کا فکری مینار
اسرار ایوبی
———
دوسری قسط : پروفیسر محمد شفیع ملک نے اپنی یادداشت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ 1957ء میں زیل پاک سیمنٹ فیکٹری کی یونین کو سی بی اے کا درجہ ملنے کے بعد میں نے امیر جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو یونین کے نو منتخب عہدیداران کی تقریب حلف برداری میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی تھی۔
مولانا مودودی نے ازراہ نوازش ہماری درخواست قبول کرلی تھی اور آپ اس تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر لاہور سے حیدر آباد تشریف لائے تھے۔یہ تاریخی تقریب حلف برداری زیل پاک سیمنٹ فیکٹری کی کینٹین میں منعقد کی گئی تھی۔جس میں نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے فیکٹری کے جنرل منیجر مسٹر پی ایس پیڈرسن نے بھی شرکت کی تھی۔ لہٰذا اس موقعے کی مناسبت سے مولانا مودودی نے انگریزی زبان میں خطاب کیا تھا۔
اس وقت ملک میں سیاسی محاذ آرائی اپنے عروج پر تھی اور 1956ء کے عبوری آئین کے تحت ملک میں عام انتخابات منعقد ہونے جارہے تھے جس کے لیے ماہ فروری 1959ء کی کوئی تاریخ طے ہوچکی تھی۔ چنانچہ پروفیسر محمد شفیع ملک کی حیدرآباد میں شہری سیاست اور ٹریڈ یونین تحریک میں غیر معمولی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں جماعت اسلامی کی طرف سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے نامزد کیا گیا تھا
لیکن ابھی انتخابی مہم اپنے عروج پر تھی کہ جنرل محمد ایوب خان نے اکتوبر 1958ء میں ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔جس کے نتیجہ میں ملک میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کیے جانے کے نتیجہ میں عام انتخابات منسوخ کردیے گئے۔ ملک میں مارشل لاء کے نفاذ اور سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندی کے بعد پروفیسر محمد شفیع ملک کی مکمل توجہ ٹریڈ یونین تحریک کی جانب مرکوز ہوگئی تھی۔
فوجی حکومت کے دور میں ملک میں سیاسی سرگرمیوں سمیت ٹریڈ یونین تحریک کی سرگرمیوں کو بھی سخت ناپسند کیا جاتا تھا اور استحصال کے شکار مظلوم محنت کش طبقہ کے حقوق کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنے کو ایک سنگین جرم سمجھا جاتا تھا۔خصوصا اس آمرانہ حکومت کو مزدور تحریک میں جماعت اسلامی کا عمل دخل تو سرے سے پسند نہیں تھا۔
لہٰذا مزدور رہنماء پروفیسر محمد شفیع ملک کو بھی ایوبی دور آمریت میں ابتلاء اور آزمائش کے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑا اور یہاں تک کے مارشل لاء کے دوران حیدرآباد شہر کی انتظامیہ کی جانب سے بے بنیاد الزامات کے تحت ان کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔ پروفیسر محمد شفیع ملک اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ غالباً مئی/جون1959ء کی بات ہے۔ عیدالاضحی میں کوئی 10دن باقی تھے، میں نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوا تھا کہ اسی دوران گھر کے دروازہ پر کسی نے دستک دی۔ اس وقت میری رہائش شاہی بازار سے متصل ایڈوانی اسٹریٹ میں تھی۔
معلوم ہوا کہ سٹی پولیس اسٹیشن کے دو سادہ لباس پولیس اہلکار میری گرفتاری کا پروانہ لائے ہیں۔ وجہ گرفتاری فتح ٹیکسٹائل ملز حیدرآباد کے محنت کشوں کے مسائل کے متعلق میرا ایک اخباری بیان تھا۔ چنانچہ اس بیان کی پاداش میں مجھے عادی مجرموں کی طرح ہتھکڑیاں لگاکر گرفتار کیا گیا اوردوسرے روز عدالت کے حکم پر حیدر آباد جیل میں قید کردیا گیا۔ میرے ساتھ اس جرم میں نامزد کیے گئے اس اخبار کے ایڈیٹر اور رپورٹر بھی جیل بھیج دیے گئے تھے۔
دوسرے روز ہمیں خبر ملی کہ ہمارے خلاف بغاوت کے جرم میں خصوصی فوجی عدالت میں مقدمہ چلے گا۔ اس دوران محمد احمد میمن ایڈووکیٹ نے ہماری وکالت کی ہامی بھرلی تھی۔ ایک ہفتے جیل میں قید رہنے کے بعد ہمیں پولیس کے زبردست پہرہ میں فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔جہاں مختصر سماعت کے بعد ہمارا مقدمہ سرسری سماعت کی فوجی عدالت حیدرآباد کو بھیج دیا گیا۔
فوجی عدالت میں مقدمہ کی پہلی پیشی پر ہمارے وکیل محمد احمد میمن نے سماعت کے دوران اگرچہ پیشہ ورانہ انداز میں اپنے ٹھوس دلائل دیئے، لیکن اس دوران میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ پیشی پر اپنے کیس کی ازخود پیروی کروں گا اور انہوں نے اپنے اس فیصلہ سے امیر جماعت اسلامی کو بھی مطلع کردیا تھا۔
چنانچہ پروفیسر محمد شفیع ملک نے اگلے پیشی پر فوجی عدالت کے سامنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ مارشل لاء عدالت کو اس بات کا پورا علم ہوگا کہ فتح ٹیکسٹائل ملز حیدرآباد کے محنت کشوں کو فیکٹری کی انتظامیہ سے کچھ جائز شکایات اور مسائل درپیش ہیں۔
میں لیبر فیڈریشن آف پاکستان کا سینئر نائب صدر ہوں اور ان محنت کشوں کی جائز شکایات کے ازالہ کے لیے ڈائریکٹر لیبر حیدرآباد کے ذریعے فیکٹری کی انتظامیہ کو متوجہ کرتا رہا۔ لیکن اس کے باوجود ملز کی انتظامیہ نے سینکڑوں محنت کشوں کے جائز مسائل کے حل کے لیے کوئی توجہ نہیں دی۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ ڈائریکٹر لیبر اس وقت ٹریننگ پر ملک سے باہر ہیں اور ہمارا فیکٹری کی انتظامیہ سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہے۔
اگر ڈائریکٹر لیبر ٹریننگ کے سلسلہ میں بیرون ملک نہ گئے ہوتے تو ہمیں اس مسئلہ کے متعلق اخباری بیان جاری کرنے کی نوبت پیش نہ آتی۔ فتح ٹیکسٹائل ملز کی انتظامیہ کو حیدرآباد کی ضلعی انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے اس لیے وہ محکمہ محنت کے کسی افسر کو کسی کھاتے میں نہیں ڈالتی۔
اس لیے ہمارا خیال ہے کہ ہمارے اخباری بیان نے فیکٹری کے محنت کشوں کی ڈھارس بندھائی ہے کہ ان کے جائز مسائل اور حل کرانے کے لیے کچھ ہمدرد لوگ موجود ہیں اور انہیں قانون ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں
پروفیسر شفیع ملک کے مطابق اس کیس میں استغاثہ کا پورا زور میرے اخباری بیان کا وہ حصہ تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر فتح ٹیکسٹائل ملز کی انتظامیہ نے محنت کشوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش نہ کی تو نتائج کی ذمہ داری فیکٹری انتظامیہ پر ہوگی
چنانچہ پروفیسر محمد شفیع ملک کے دلائل سننے کے بعد فوجی عدالت نے آپ پر 200 روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ فیصلہ سنائے جانے کے بعد فوجی عدالت کے باہر زیل پاک سیمنٹ فیکٹری، انڈس گلاس فیکٹری اور فتح ٹیکسٹائل ملز کے محنت کشوں کی بڑی تعداد نے پھولوں کے ہار پہنا کر آپ کا پرتپاک استقبال کیا۔
یہ حیدر آباد کی تاریخ میں کسی ٹریڈ یونین رہنما کی مارشل لاء کے دوران پہلی گرفتاری اور بالآخر باعزت رہائی تھی۔ سرسری سماعت کی فوجی عدالت سے رہائی کے بعد پروفیسر محمد شفیع ملک عارضی طور پر لاہور منتقل ہوگئے تھے۔ اس دوران انہیں مئی 1960ء میں ایک دن لاہور میں مارشل لاء ایڈمنسٹریشن، حیدر آباد کی جانب سے ایک دلچسپ خط موصول ہوا جس میں انگریزی زبان میں تحریر تھا
لیکن پروفیسر محمد شفیع ملک کی حیدرآباد سے عارضی طور پر لاہور منتقلی کے باوجود حکومت وقت کو آپ کا حیدرآباد میں مزدور تحریک میں بھرپور طور سے حصہ لینا اور حیدر آباد کے محنت کشوں اور شہریوں کو درپیش مختلف مسائل کے حل کے لیے مقامی سیاست میں سرگرم کردار ادا کرنا پسند نہ آیا۔
چنانچہ حکومت نے آپ کے مقاصد کی راہ میں مزید رکاوٹیں ڈالنا شروع کردیں اور اس دوران ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ حیدر آباد کے حکم پر پروفیسر محمد شفیع ملک اور ان کے ایک ساتھی یاور حسین کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے بدنام زمانہ غنڈہ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرادیا گیا اور اس کا نوٹس انہیں لاہور بھیج دیا گیا۔
اس دوران جب آپ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ حیدر آباد کی جانب سے موصولہ نوٹس لے کر مولانا مودودی کے کمرے میں داخل ہوئے تو مولانا مودودی نے اپنے ایک ساتھی سے بلند آواز میں ازراہ تفنن کہا کہ ’’ ارے بھئی ملک غلام علی صاحب! دیکھیے میرے کمرے میں دو غنڈے داخل ہوگئے ہیں،ذرا انہیں روکیں‘‘۔اس موقع پرمولانا مودودی کے اس ہلکے پھلکے مذاق نے سخت تناؤ کی کیفیت میں مبتلا ان دونوں کے ذہنی بوجھ کو خاصا کم کردیا تھا۔
اس طرح پروفیسر محمد شفیع ملک کو محنت کشوں کے حقوق کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنے کی پاداش میں حکومت کی جانب سے بدنام زمانہ غنڈہ ایکٹ سمیت متعدد بار جھوٹے مقدمات اور قید وبند کی صعوبتوں سے بھی گزرنا پڑا لیکن آپ ہمیشہ سرخرو رہے۔
پروفیسر محمد شفیع ملک چونکہ اوائل عمری سے ہی پابند صوم و صلوٰۃ اور دینی مزاج کے حامل تھے، لہذا آپ دور طالب علمی سے ہی اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوگئے تھے، آپ کو حیدر آباد شہر کے پہلے ناظم جمعیت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
بعد ازاں نظم نے آپ کی بھرپور قوت اظہار اورموثر تنظیمی صلاحیت کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کو صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان کی جمعیت کا ناظم مقرر کردیا تھا اور آپ 1951 ء تا 1956ء تک ان اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے۔
(جاری ہے)