محفوظ ہجرت کا مشن

رپورٹ ، ( عامر سہیل ریذیڈنٹ ایڈیٹر پنجاب ) پاکستان سے ہر سال لاکھوں نوجوان بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کا رخ کرتے ہیں، لیکن معلومات کی کمی اورانسانی اسمگلروں کے ہاتھ چڑھ کر وہ اکثر اپنی جمع پونجی اور بسا اوقات جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں

اسی سنگین صورتحال کے تدارک اور تارکینِ وطن ورکرز کی قانونی راہنمائی کے لیے لاہور میں حکومتِ پاکستان، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن ، پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن اور جرمن ادارے گیز کی شراکت داری نے ایک اہم چار روزہ کیپسٹی بلڈنگ ورکشاپ کا انعقاد کیا جس کا مقصد راہنمائی سینٹرز کے رضاکاروں کی تربیت کرنا تھا

اس چار روزہ تربیتی پروگرام کا بنیادی ہدف ان رضاکاروں کو تیار کرنا ہے جو ملک کے مختلف اضلاع میں قائم مائیگرنٹ ورکرز راہنمائی سینٹرز کے ذریعے بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کو قانونی ہجرت کے فوائد اور غیر قانونی طریقوں کے جانی و مالی نقصانات سے آگاہ کریں گے

ورکشاپ میں وفاقی وزارتِ سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل، بیورو آف امیگریشن، اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن، اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن ، مائیگرنٹ ریسورس سینٹرزاور پاکستانی جرمن فسیلیٹیشن اینڈ ری انٹی گریشن سینٹر کے ماہرین نے شرکا کو تربیت دی

ورکشاپ کے دوران ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور یورپ جانے والے ورکرز اور طلبہ کو اکثر غیر متعلقہ اشخاص اور خود ساختہ ایجنٹوں کے چکمے میں آ کر اپنی جائیدادیں اور زیورات بیچنے پڑتے ہیں۔

غیر قانونی ہجرت نہ صرف مالی طور پر تباہ کن ہے بلکہ یہ انسانی زندگیوں کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ تربیتی سیشنز میں شرکا کو بتایا گیا کہ حکومتِ پاکستان کے ادارے کس طرح ان کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور کس طرح قانونی دستاویزات کے ذریعے بیرونِ ملک اپنے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے

اس کے علاوہ، کسی بھی وجہ سے خواہ جبری ہو یا اپنی مرضی سے وطن واپسی پر ورکرز کی دوبارہ آباد کاری اور ان کی سماجی و معاشی مدد کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی

پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری، ملک محمد مختار اعوان نے اس مشن کو ایک قومی فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فیڈریشن اس نیک مقصد کے لیے اپنے رضاکاروں کی خدمات پیش کر رہی ہے

ورکشاپ کے اختتام پر گفتگو کرتے ہوئے ملک مختار اعوان کا کہنا تھا پاکستان سے روزگار کی تلاش میں باہر جانے والے ورکرز ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں لیکن معلومات نہ ہونے کی وجہ سے وہ ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ کر لٹ جاتے ہیں

اس ورکشاپ کا مقصد اپنے رضاکاروں کو اتنا بااختیار بنانا ہے کہ وہ دور دراز دیہاتوں، محلوں اور اضلاع میں جا کر چھوٹے چھوٹے سیشنز کے ذریعے عوام کو آگاہی دے سکیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر پاکستانی محفوظ اور قانونی طریقے سے سفر کرے تاکہ اسے بیرونِ ملک کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے

انہوں نے مزید کہا کہ یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن آنے والے دنوں میں ملک کے مختلف شہروں میں راہنمائی سینٹرز کا نیٹ ورک مزید وسیع کرے گی تاکہ کوئی بھی محنت کش معلومات کی کمی کی وجہ سے دھوکہ نہ کھا سکے۔

چار روزہ ورکشاپ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں نہ صرف قانونی پہلوؤں پر بات ہوئی بلکہ عملی طور پر یہ بھی سکھایا گیا کہ کس طرح مقامی سطح پر لوگوں سے رابطہ کر کے انہیں محفوظ ہجرت کے لیے قائل کیا جائے

ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک نچلی سطح پر آگاہی نہیں پہنچے گی، غیر قانونی ہجرت کا ناسور ختم نہیں ہو سکتا۔

پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کی یہ کاوش نہ صرف محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک بڑا قدم ہے بلکہ اس سے ملک کے مثبت تشخص میں بھی اضافہ ہوگا، کیونکہ قانونی طریقے سے جانے والے ورکرز نہ صرف محفوظ رہتے ہیں بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کا ذریعہ بھی بنتے ہیں