زیڈ اے بھٹو پاکستان کے محنت کشوں کا جیمز کونولی تھا
رپورٹ ( علی ملک ، ایڈیٹر لیبر نیوز )
تاریخ کے قبرستان میں بہت سے کتبے ایستادہ ہیں، لیکن کچھ نام وقت کی گرد میں گم ہونے کے بجائے یادوں کے کینوس پر مزید گہرے ہو جاتے ہیں
آج جب ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی منا رہے ہیں تو یہ محض ایک برسی نہیں بلکہ اس عہد کی بازگشت ہے جب پاکستان کے کارخانوں، کھیتوں اور گلیوں میں بسنے والے ہاری اور مزدور کو پہلی بار اپنی زبان اور شناخت ملی
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پسینے کی خوشبو کو عطرِ شاہی پر فوقیت دی اور ثابت کیا کہ ریاست کا اصل وارث وہ ہے جس کے ہاتھوں میں مزدوری کے چھالے ہیں
اگر ہم عالمی تاریخ کے اوراق الٹیں تو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت آئرلینڈ کے عظیم مارکسی انقلابی اور لیبر لیڈر سے جا ملتی ہے جس نے بندوق اور قلم دونوں سے محنت کشوں کی جنگ لڑی۔ وہ محض ایک سیاستدان نہیں تھا، بلکہ وہ مزدوروں کی ریاست کا معمار تھا
جس طرح کونولی نے کہا تھا کہ مزدور کی کوئی اپنی زمین نہیں ہوتی، لیکن وہ پوری زمین کا وارث ہے اسی طرح بھٹو نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر مزدور کو اس کی وراثت کا احساس دلایا
ذوالفقار علی بھٹو اور جیمز کونولی کے درمیان موازنہ محض اتفاق نہیں، بلکہ دو مختلف خطوں میں ایک ہی روح کی بازگشت ہے
کونولی کا ماننا تھا کہ آئرلینڈ کی آزادی مزدور کی آزادی کے بغیر ادھوری ہے اسی طرح بھٹو نے پاکستان میں اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگا کر یہ ثابت کیا کہ جب تک ہارے اور مزدور کو معاشی حقوق نہیں ملتے،
دونوں رہنماؤں نے عالمی سطح پر سامراجی قوتوں کو للکارا؛ کونولی نے برطانوی تاج کو، تو بھٹو نے سپر پاورز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی
جیمز کونولی نے آئرش مزدوروں کو سکھایا کہ وہ جو ہل چلاتا ہے، وہی زمین کا مالک ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بعینہٖ یہی فلسفہ سندھ کے ہاریوں اور پنجاب کے مزارعوں کو دیا بھٹو کا روٹی، کپڑا اور مکان دراصل کونولی کے اس قول کا عکس تھا کہ ریاست کا مقصد اپنے شہریوں کی مادی ضرورتیں پوری کرنا ہے نہ کہ صرف اشرافیہ کا تحفظ
دونوں لیڈروں کا انجام حیرت انگیز طور پر ایک جیسا ہے۔ برطانوی سامراج نے کونولی کو اس لیے قتل کیا کہ وہ آئرلینڈ کے غریبوں کو بیدار کر رہا تھا بھٹو کو اس لیے تختہ دار پر لٹکایا کیونکہ اس نے ایک محنت کش کو زبان دے دی تھی
کونولی کو کرسی پر بٹھا کر گولی ماری گئی اور بھٹو کو کال کوٹھڑی سے مقتل تک لے جایا گیا دونوں نے موت کو گلے لگایا مگر اپنے نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستانی سیاست کو ڈرائنگ رومز سے نکال کر فٹ پاتھوں پر لاکھڑا کیا، جہاں پسینہ بہانے والا ہاتھ ہی اصل طاقت بن کر ابھرا
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ اقتدار میں محنت کشوں کے لیے کیے گئے اقدامات محض سرکاری فائلیں نہیں تھیں، بلکہ ایک سماجی انقلاب کا دیباچہ تھیں۔
اقتدار سنبھالتے ہی فروری 1972 میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی انقلابی لیبر پالیسی کا اعلان کیا۔ اس پالیسی نے مزدور کو کرائے کا غلام’ سمجھنے کے تصور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا یہ لیبر پالیسی مزدور حقوق کی نئی سحر تھی
قائد مزدور شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار مزدوروں کو کارخانوں کی مینجمنٹ میں 20 فیصد نمائندگی دی گئی اب مزدور صرف مشین کا پرزہ نہیں فیصلے کا حصہ تھا
شہید ذوالفقار علی بھٹو نےنے مزدوروں کو منافع میں حصہ داری کے لیئے ورکرز پرافٹ پارٹیسی پیشن فنڈ قائم کیا جس کے ذریعے منافع میں مزدوروں کا حصہ 2 سے بڑھا کر 5 فیصد کر دیا گیا
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جانتے تھے کہ مزدور کا بڑھاپا اور بیماری محنت کش کے سب سے بڑے دشمن ہیں اس لیئے انہوں نے پاکستان میں ای او بی ائی اور سوشل سیکیورٹی کے ادارے قائم کیئے
شہید ذوالفقار علی بھٹونے محنت کش ملازمین کے لیے پنشن کا تصور قائم کیا 1976میں ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن کا قیام عمل میں لایا گیا، تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد مزدور کسی کا دستِ نگر نہ رہے مگر افسوس کہ آج بھٹو کا بنایا ہوا ادارہ مزدروں کی پینشن میں رکاروٹ بنا ہوا ہے
مزدروں کو صحت اور علاج معالجے کے لیئے پاکستان کے چاروں صوبوں میں سوشل سیکیورٹی کے اداروں کو متحرک کیا گیا تاکہ مفت علاج اور تعلیمی سہولیات مزدور کے دروازے تک پہنچ سکیں محنت کشوں کو سوشل سیکیورٹی کارڈز جاری کیے گئے جن کے ذریعے وہ اور ان کے اہل خانہ مخصوص لیبر ہسپتالوں میں مفت علاج، ادویات اور زچگی کی سہولیات حاصل کرنے کے حقدار ٹھہرے۔ یہ نظام آج بھی پاکستان میں سماجی تحفظ کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹونے 1971 میں ورکرز ویلفیئر فنڈ آرڈیننس کے ذریعے ایک ایسا نظام وضع کیا جس کے تحت صنعتی اداروں کے منافع کا ایک مخصوص حصہ براہِ راست مزدوروں کی فلاح پر خرچ ہونا تھا مزدروں کے لیئے مزدور بستیاں آباد کرنی کی سوچ بھی شہید ذوالفقار علی بھٹونے قائم کی
کراچی کے لانڈھی، کورنگی اور سائٹ سے لے کر پنجاب کے صنعتی شہروں تک لیبر کالونیز کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ کچی آبادیوں میں رہنے والا مزدور اپنے گھر کا مالک بن سکے
مزدور کی بیٹی کی شادی اور بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کی ذمہ داری ریاست نے اپنے سر لی، جو آج بھی ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت جاری ہے
مگر افسوس کہ ا ورکرز ویلفیئر فنڈ اور بورڈ کے افسران نے ان لیبر کالونیوں اور جہیز گرانٹ بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں اپنی ان گنت کرپشن کے نت نئے راستے نکال لیئے
شہید ذوالفقار علی بھٹوسے پہلے مزدور کی موت یا معذوری پر اس کا خاندان سڑک پر آ جاتا تھا 972 کی اصلاحات کے تحت تمام صنعتی اداروں کے لیے لازمی قرار دیا گیا کہ وہ اپنے ملازمین کی گروپ انشورنس کرائیں تاکہ کسی ناگہانی آفت کی صورت میں خاندان کو مالی سہارا مل سکے
شہید ذوالفقار علی بھٹونے قانون بنایا کہ ملازمت چھوڑنے یا ریٹائرمنٹ پر گریجویٹی ملے گی ہر سال کی ملازمت پر 20 دن کی تنخواہ کو قانونی حق بنایا گیا تاکہ مزدور خالی ہاتھ گھر نہ جائے
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سے پہلے فیکٹری مالک جب چاہتا مزدور کو نکال دیتا تھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ویسٹ پاکستان انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ آرڈیننس میں ترمیم کر کے بغیر نوٹس برطرفی کا خاتمہ کیا۔ اب ہر برطرفی کے لیے ٹھوس قانونی وجہ اور تحریری شوکاز ضروری قرار پایا
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مزدور کو سیٹھ کے رحم و کرم سے نکال کر قانون کے سائے میں لا کھڑا کیا لیبر کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا مزدوروں کے مسائل کے فوری حل کے لیے علیحدہ لیبر عدالتیں قائم کی گئیں۔ اب کوئی سیٹھ کسی مزدور کو ایک قلم کی جنبش سے فارغ نہیں کر سکتا تھا؛ اسے عدالت میں اپنی صفائی دینا پڑتی تھی چھوٹے تنازعات کے لیے نچلی سطح پر عدالتیں بنائیں تاکہ انصاف مزدور کی دہلیز تک پہنچے
شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ماننا تھا کہ جاہل مزدور کو آسانی سے غلام بنایا جا سکتا ہے اس لیئے انہوں نے فیکٹریوں میں اسکول بنوائے بڑے صنعتی اداروں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے ورکرز کے لیے تعلیمِ بالغان کے مراکز قائم کریں۔
شہید ذوالفقار علی بھٹونے مزدروں کو یونین سازی کا حق دلوایا آئی ایل او کے کنونشنز کی روشنی میں ٹریڈ یونینز کو وہ طاقت دی گئی کہ وہ اجتماعی سودے بازی سی بی اے کے ذریعے اپنی اجرتیں خود طے کروانے کے قابل ہو سکیں
آج ورکرز ویلفیئر فنڈ سے ملنے والا ڈیتھ گرانٹ ہو یا شادی گرانٹ یہ سب اس فکر کے ثمرات ہیں جو 1970 کی دہائی میں ایک کرشماتی لیڈر نے بیجی تھی۔ بھٹو نے مزدور کو صرف ‘حق’ نہیں دیا، بلکہ اسے ‘انسان’ ہونے کا وقار بخشا۔
سوچا جائے تو بھٹو نے مزدور کو صرف حقوق نہیں دیے، بلکہ اسے انکار کی جرات دی۔ اس نے تھرپارکر کی تپتی ریت سے لے کر ملک کے طول و عرض میں دھوئیں سے بھرے کارخانوں تک ایک ہی سبق پڑھایا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس سچائی کو منوایا کہ ریاست کا پہلا حق اس شخص پر ہے جو سڑک بناتا ہے، جو کپڑا بنتا ہے اور جو اناج اگاتا ہے
آج 47 سال گزرنے کے بعد بھی جب کسی مزدور کو بیٹی کی شادی کے لیے گرانٹ ملتی ہے یا جب کوئی بزرگ ای او بی آئی کے دفتر سے پنشن وصول کرتا ہے تو وہاں بھٹو کی روح مسکراتی محسوس ہوتی ہے
بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا کر جسم تو ختم کر دیا گیا، لیکن وہ مزدور دوستی کا جو فلسفہ دے گئے وہ آج بھی پاکستان کی ٹریڈ یونین تحریکوں کے لیے مشعلِ راہ ہے
جیمز کونولی مغرب کے افق پر چمکنے والا وہ ستارہ تھا جس نے پسینے کی تقدیس لکھی اور ذوالفقار علی بھٹو مشرق کی اس بنجر زمین کا وہ بادل تھا جس نے پیاسے کھیتوں اور سوکھے کارخانوں کے مزدور کسانوں پر انکے حقوق کی بارش کی دونوں نے ثابت کیا کہ تاریخ فاتحین نہیں لکھتے بلکہ وہ لکھتے ہیں جو عوام کے دکھوں کو اپنی سولی بنا لیتے ہیں
شہید ذوالفقار علی بھٹو کو مشرق کا جیمز کونولی کہنا اس لیے بجا ہے کہ دونوں نے سیاست کو محلات سے نکال کر مزدور کی جھونپڑی میں داخل کر دیا تھا
پاکستانی مزدوروں کے لیئے ذوالفقار علی بھٹو صرف ایک نام نہیں، بلکہ محنت کشوں کے وقار کی ایک لازوال داستان ہے