ای او بی آئی کے بے بس بزرگ

اسرار ایوبی

————–

پاکستان میں سماجی تحفظ کا نظام ہمیشہ سے ہی بحث کا موضوع رہا ہے، لیکن ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن کی موجودہ صورتحال اس وقت ایک سنگین انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکی ہے

 وہ ادارہ جسے نجی شعبے کے لاکھوں محنت کشوں، بیواؤں اور معذور افراد کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ‘باوقار ڈھال’ بننا تھا آج خود بدترین گورننس، انتظامی عدم استحکام اور احتساب کے فقدان کا شکار ہو کر لرز رہا ہے۔

کسی بھی ادارے کی کامیابی کا دارومدار اس کی مستقل اور وژنری قیادت پر ہوتا ہے۔ ای او بی آئی جیسے حساس ادارے میں، جہاں اربوں روپے کے فنڈز اور لاکھوں خاندانوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہے،

مستقل چیئرمین کا نہ ہونا ایک مجرمانہ غفلت ہے حکومت کی جانب سے تین تین ماہ کی قلیل مدتی توسیع پر مبنی عارضی بھرتیاں نہ صرف ادارے کی پالیسی سازی کو مفلوج کر رہی ہیں بلکہ احتساب کے عمل کو بھی کمزور کر رہی ہیں۔ جب سربراہ کو معلوم ہو کہ وہ محض چند ہفتوں کا مہمان ہے، تو وہ طویل المدتی اصلاحات کے بجائے صرف ‘وقت گزاری’ کو ترجیح دیتا ہے

آڈٹ رپورٹس بارہا اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھا چکی ہیں کہ ادارے کے بعض اہلکار اور بااثر آجر ایک ناپاک گٹھ جوڑ میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ملازمین کی اصل تعداد چھپانا کنٹری بیوشن کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنا اور مالی بے ضابطگیاں اب معمول بن چکی ہیں۔

جب نفاذ کے ذمہ دار افسران ہی ڈیٹا کی تصدیق کے بجائے آجروں کو سہولت فراہم کرنے لگیں، تو اس کا براہِ راست بوجھ اس بوڑھے پنشنر پر پڑتا ہے جو زندگی بھر اپنی کمائی کا ایک حصہ اس امید پر جمع کرواتا رہا کہ بڑھاپے میں اسے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا۔

سعید احمد کا کیس محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا استعارہ ہے ایک شخص جس کی پنشن منظور ہو چکی  جو ایک سال سے رقم وصول کر رہا ہے اسے اچانک انٹرنل آڈٹ کے نام پر بغیر کسی اطلاع کے ادائیگی روک دی جاتی ہے

جب وہ ضعیف العمری میں دفاتر کے چکر کاٹتا ہے، تو اسے جواب دینے والا کوئی نہیں۔ یہ ‘بیوروکریٹک بے حسی’ ان بزرگوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے جو پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہیں۔

ای او بی آئی کو درپیش مسائل صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی ہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس کے کمزور طبقوں کے ساتھ برتاؤ سے ہوتی ہے۔

موجودہ حالات میں ای او بی آئی کی ساکھ کو بچانے کے لیے میرٹ پر مبنی مستقل چیئرمین کی فوری تعیناتی وقت کی ضرورت ہے تا کہ آجروں اور کرپٹ افسران کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جا سکے ، پنشنرز کے لیے دستاویزی پیچیدگیوں کا خاتمہ اور آن لائن شکایات کا ازالہ کیا جائے تا کہ نادہندہ آجروں سے واجبات کی وصولی کے لیے موثر قانونی کارروائی ممکن ہو سکے

وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے۔ اگر آج ان بزرگوں کو ان کا حق نہ ملا، تو کل کوئی بھی محنت کش اس نظام پر اعتماد نہیں کرے گا۔ ای او بی آئی کو مضبوط بنانا اب محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کے لاکھوں بزرگ شہریوں کی بقا کا سوال ہے

تعارف : اسرار ایوبی ای او بی آئی کے ایک ریٹائرڈ افسر ہیں جنہیں آب مزدور دنیا ایک کہنہ مشق کالم نگار کی حیثیت سے جانتی ہے، جو طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق اور سماجی و سیاسی موضوعات پر قلم اٹھا رہے ہیں