اگر بھٹو آج زندہ ہوتے

محمد خان ابڑو

—————–

چار اپریل پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جو محض ایک عدالتی فیصلے کی یاد نہیں، بلکہ ایک نظریے اور قومی خودداری کے قتل کی علامت کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کو جسمانی طور پر ہم سے جدا کر دیا گیا، مگر ان کی سیاسی بصیرت آج بھی پاکستانی سیاست کے رگ و پے میں دوڑ رہی ہے۔

 آج جب دنیا ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایک ممکنہ عالمی تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے، تو یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اگر بھٹو آج زندہ ہوتے تو پاکستان کا عالمی نقشے پر کیا کردار ہوتا؟

بھٹو صاحب نے پاکستان کو ایک ایسی خود مختار ریاست کے طور پر متعارف کرایا تھا جو کسی عالمی طاقت کے زیرِ اثر نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہے۔

اگر وہ آج موجود ہوتے، تو پاکستان کبھی بھی کسی جنگی بلاک کا حصہ نہ بنتا۔

 ان کی خارجہ پالیسی کا محور مسلم امہ کا اتحاد اور ملکی خودداری تھا۔ وہ یقیناً ایران کے ساتھ ہمارے تاریخی اور جغرافیائی تعلقات کو ترجیح دیتے،

مگر ساتھ ہی ایسی دانشمندانہ سفارت کاری اختیار کرتے کہ پاکستان کسی بھی ایسی محاذ آرائی کا ایندھن نہ بنتا جو اسے معاشی یا عسکری نقصان پہنچائے۔

فلسطین کے معاملے پر بھٹو صاحب کا مؤقف ہمیشہ دوٹوک رہا۔ وہ وہی لیڈر تھے جنہوں نے اسلامی سربراہی کانفرنس کے ذریعے مسلم دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا تھا۔

آج کے حالات میں وہ عالمی سطح پر فلسطین کے حقِ خودارادیت کے لیے ایک ایسی ہی بھرپور مہم کی قیادت کر رہے ہوتے۔

موجودہ دور میں آصف علی زرداری کی مفاہمتی سیاست دراصل اسی بھٹو ازم کا تسلسل ہے، جو داخلی استحکام کو بیرونی دباؤ کے خلاف ڈھال بناتی ہے۔

اسی طرح بلاول بھٹو زرداری نے عالمی فورمز پر جس جرات کے ساتھ اسلاموفوبیا اور علاقائی امن پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا ہے وہ بھٹو کی اسی جرات مندانہ سفارت کاری کی عکاسی ہے

آج جب پاکستان کو داخلی معاشی چیلنجز اور خارجی خطرات کا سامنا ہے، ہمیں اسی “بھٹو ازم” کی ضرورت ہے جو عوام کو طاقت کا سرچشمہ مانتی ہے۔ بھٹو صاحب کا پیغام واضح تھا

 پاکستان کی طاقت اس کے عوام اور خود مختار فیصلوں میں ہے۔ اگر وہ آج زندہ ہوتے، تو پاکستان کو کسی کی جنگ کا حصہ بنانے کے بجائے ایک ذمہ دار اور باوقار ثالث کے طور پر عالمی امن کا محور بناتے

چار اپریل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ لیڈر مر سکتے ہیں، مگر ان کے نظریات ہی قوموں کو اندھیروں سے نکال کر روشن مستقبل کی راہ دکھاتے ہیں

تعارف: مصنف سینئر صحافی، کالم نگار، تجزیہ کار اور ادیب ہیں، جو سندھ کے سیاسی، سماجی اور عوامی مسائل پر بے باک اور مدلل انداز میں قلم اٹھانے کے لیے پہچانے جاتے ہیں، ان کی تحریروں میں تاریخی شعور، سماجی حساسیت اور عوامی نقطۂ نظر کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے، جس کے باعث ان کا شمار سندھ کے مؤثر اور معتبر قلم کاروں میں کیا جاتا ہے