پروفیسر محمد شفیع ملک سات دہائیوں پر محیط مزدور تحریک کا فکری مینار

تحریر ( اسرار ایوبی ) ( قسط اول ) پاکستان کی مزدور تحریک، صنعتی تعلقات اور حقوقِ نسواں کے برعکس محنت کشوں کے حقوق کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی، پروفیسر محمد شفیع ملک کا نام ایک عہد ساز شخصیت کے طور پر ابھرے گا۔ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا اور ایک ایسا ادارہ ہیں

جنہوں نے اپنی زندگی کی سات دہائیاں تعلیم، تحقیق، صحافت اور مزدوروں کی فکری آبیاری کے لیے وقف کر دیں۔ 1928 میں ہندوستان کی ریاست الور میں پیدا ہونے والے شفیع ملک آج 97 برس کی عمر میں بھی اسی جذبے سے سرشار ہیں جس سے انہوں نے 1949 میں اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا

پروفیسر شفیع ملک تحریکِ پاکستان کے عینی شاہد ہیں اور ان کی شخصیت میں وہ نظریاتی پختگی اسی دور کی مرہونِ منت ہے جب وہ 1946 میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن تجارہ کے صدر بنے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اگست 1947 میں ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی اور پھر حیدرآباد منتقل ہوا۔

 ہجرت کی صعوبتیں اور بے سروسامانی کا عالم ان کے عزم کو متزلزل نہ کر سکا۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کلرک کے طور پر کیا لیکن علم کی پیاس نے انہیں دوبارہ تعلیمی میدان میں لا کھڑا کیا۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کیا اور پھر تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔

فروری 1949 میں حیدرآباد کے ایک باغ میں میر رسول بخش تالپور اور مرزا ابراہیم کی تقاریر نے شفیع ملک کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ محنت کشوں کے مسائل اور ان کے استحصال کی کہانیوں نے ان کے اندر ایک تڑپ پیدا کی، جس کے بعد انہوں نے امیر جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی کی فکری رہنمائی میں مستقل طور پر مزدوروں کی تنظیم سازی کا بیڑہ اٹھایا۔ ان کا پہلا بڑا منصوبہ زیل پاک سیمنٹ فیکٹری حیدرآباد تھا جہاں انہوں نے 1956 میں سیمنٹ لیبر ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی اور ایک تاریخی ریفرنڈم میں 98 فیصد ووٹ لے کر اپنی قیادت کا لوہا منوایا

پروفیسر شفیع ملک کی انفرادیت ان کا ‘صنعتی تعلقات کا اسلامی ماڈل’ ہے وہ روایتی ٹریڈ یونین ازم، جو اکثر محاذ آرائی پر مبنی ہوتا ہے، کے بجائے آجر اور اجیرکے درمیان حقوق و فرائض کے توازن کے قائل ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ مزدور کو صرف حقوق ہی نہیں بلکہ اپنی ذمہ داریاں بھی پہچاننی چاہئیں تاکہ پیداواری عمل میں اضافہ ہو اور ملک معاشی طور پر مستحکم ہو۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے 1989 میں ماہنامہ ‘الکاسب’ جاری کیا، جو آج بھی محنت کشوں کا واحد فکری ترجمان ہے

شفیع ملک صاحب کی خدمات کا دائرہ صرف سڑکوں پر احتجاج تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں سندھ کے ملازمین کی نمائندگی بھی کرتے رہے۔ وہاں ان کا کردار ہمیشہ ایک درویش صفت دانشور کا رہا، جو قانون کی باریکیوں کو انسانی ہمدردی کے ترازو میں تولتے تھے۔ 1986 میں جب میرا ان سے پہلا تعارف ہوا، تو ان کی وضع داری اور شفقت نے مجھے ان کا گرویدہ بنا لیا۔ انہوں نے ہی میری صحافتی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے ‘الکاسب’ کی ادارت کی ذمہ داری مجھے سونپی، جو میری عملی زندگی کا ایک سنہری باب ثابت ہوا۔

آج جب پاکستان میں مزدور تحریک مختلف بحرانوں کا شکار ہے اور یونینز اپنی افادیت کھو رہی ہیں، پروفیسر شفیع ملک کی تعلیمات مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی خودنوشت ‘اسلامی مزدور تحریک کی سفر کہانی’ صرف ایک یادداشت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک نصاب ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے سیاست کو تجارت نہیں بلکہ عبادت سمجھا اور ہمیشہ محنت کش طبقے کے وقار کے لیے آواز اٹھائی۔

پاکستان کی مزدور تاریخ پروفیسر محمد شفیع ملک کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ وہ آج بھی نیشنل لیبر فیڈریشن کے فکری ستون ہیں اور ان کی موجودگی محنت کشوں کے لیے ایک سایہ دار درخت کی مانند ہے، جس کی جڑیں سات دہائیوں کی قربانیوں سے سینچی گئی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے پیش کردہ حقوق و فرائض کے توازن والے ماڈل کو آج کے صنعتی ماحول میں نافذ کیا جائے تاکہ مزدور اور صنعت دونوں خوشحال ہو سکیں

تعارف : اسرار ایوبی ای او بی آئی کے ایک ریٹائرڈ افسر ہیں جنہیں آب مزدور دنیا ایک کہنہ مشق کالم نگار کی حیثیت سے جانتی ہے، جو طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق اور سماجی و سیاسی موضوعات پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے پروفیسر محمد شفیع ملک کی زیرِ نگرانی ماہنامہ الکاسب میں اہم خدمات انجام دیں اور مزدور تحریک کو قریب سے دیکھا ہے