ذوالفقار علی بھٹو مزدوروں کا حقیقی معمار
احمد زیب
——————-
پاکستان کی سیاسی اور صنعتی تاریخ میں اگر کسی ایک شخصیت نے محنت کش طبقے کو محکومی سے نکال کر شراکت داری کے مقام پر کھڑا کیا تو وہ بلاشبہ شہید ذوالفقار علی بھٹو تھے آج جب ہم پاکستان کے مزدوروں، کسانوں اور ہنرمندوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، تو درحقیقت ہم اس عمارت کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں جس کی بنیاد ستر کی دہائی میں رکھی گئی تھی۔ بھٹو صاحب نے صرف نعرے نہیں دیے، بلکہ وہ قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جس پر آج بھی پاکستان کی لیبر سیاست کھڑی ہے
شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں لیبر ڈیپارٹمنٹ کو محض ایک سرکاری دفتر سے نکال کر ایک فعال قوت بنایا گیا۔ انہوں نے مزدور کی سماجی حفاظت کے لیے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن، ورکر ویلفیئر بورڈ اور سوشل سیکیورٹی جیسے انقلابی ادارے قائم کیے
یہ وہ ادارے تھے جنہوں نے پہلی بار پاکستانی مزدور کو یہ احساس دلایا کہ بڑھاپا، بیماری یا حادثہ اس کے لیے موت کا پروانہ نہیں بلکہ ریاست اس کی پشت پر کھڑی ہے لیبر کورٹس کا قیام ایک ایسا سنگِ میل تھا جس نے کارخانہ دار اور مزدور کے درمیان طاقت کے توازن کو برابر کیا اور محنت کش کو قانونی تحفظ فراہم کیا
بھٹو صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ ٹریڈ یونینز پر عائد غیر جمہوری پابندیوں کا خاتمہ تھا۔ انہوں نے مزدور کو آواز دی اور اسے یہ یقین دلایا کہ وہ معیشت کا محض ایک پرزہ نہیں بلکہ اس ملک کا سب سے مضبوط ستون ہے کسانوں کو زمین کی ملکیت اور شناخت دے کر انہوں نے دیہی معیشت میں روح پھونک دی۔ ان اصلاحات کا مقصد ایک ایسا پاکستان بنانا تھا جہاں پسے ہوئے طبقات ایوانوں میں اپنی نمائندگی محسوس کر سکیں
آج پاکستان کی معیشت کا پہیہ انہی محنت کش ہاتھوں سے چل رہا ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے جو بھٹو نے مزدور کی ڈھال کے طور پر بنائے تھے۔ پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن موجودہ معاشی حالات میں مزدوروں کے حقوق سلب کرنا اور ان کے تحفظ کے لیے بنے اداروں کی کارکردگی کو محدود کرنے کو انتہائی قابلِ مذمت سمجھتی ہے
آج کا مزدور مہنگائی، بے روزگاری اور غیر منصفانہ پالیسیوں کی چکی میں پس رہا ہے۔ ٹریڈ یونینز کی آزادی کو سلب کرنا درحقیقت جمہوریت کی جڑوں پر وار کرنے کے مترادف ہے حکومت فوری طور پر مزدور دوست’ پالیسیوں کو بحال کرے اور ان اداروں کی خود مختاری کو یقینی بنائے جو مزدور کے ریٹائرمنٹ فنڈز اور فلاح و بہبود کے ذمہ دار ہیں۔
مزدور اور کسان اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کے بغیر ترقی کا ہر خواب ادھورا ہے۔ ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کے اس نظریے کو زندہ رکھنا ہوگا کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کا محنت کش طبقہ ہے۔
پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، ٹریڈ یونینز کی بحالی اور منصفانہ اجرت کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ یہ صرف ایک گروہ کا مطالبہ نہیں بلکہ قومی فریضہ ہے، کیونکہ جب تک مزدور خوشحال نہیں ہوگا، پاکستان کی معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی
تعارف: احمد زیب پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے مرکزی صدر ہیں اور طویل عرصے سے مزدوروں کے حقوق اور صنعتی اصلاحات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں فیڈریشن ملک بھر کے محنت کشوں کی آواز بن کر ابھری ہے۔