محنت کشوں کے لیے بجلی کا بل یا معاشی قتل؟
تحریر( عارف روہیلہ ) پاکستان میں بجلی کا بحران اب محض لوڈ شیڈنگ یا قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا پیچیدہ مالیاتی جال بن چکا ہے جس نے عام شہری، صنعت اور ملکی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔
ایک طرف آزاد بجلی گھروں کے ساتھ کیے گئے سنگین معاہدے ہیں اور دوسری طرف ٹیرف کا وہ ‘سلیب سسٹم’ جو صرف دو یونٹ کے فرق سے صارف کا بجٹ تباہ کر دیتا ہے۔ یہ تضاد اب صرف معاشی بحث نہیں رہا، بلکہ ایک بنیادی آئینی اور قانونی سوال بن کر ابھرا ہے۔
بجلی کے اس پورے بحران کی جڑ وہ معاہدے ہیں جنہیں ‘کیپیسٹی پیمنٹس’ کہا جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، حکومت ان کمپنیوں کو بجلی پیدا نہ کرنے کی صورت میں بھی اربوں روپے ادا کرنے کی پابند ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ طلب میں کمی کے باوجود یہ ادائیگیاں جاری رہتی ہیں،
جس کا سارا بوجھ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور دیگر ٹیکسوں کی صورت میں غریب صارفین کی جیب سے نکالا جاتا ہے۔ یہ صورتحال بالکل ایسی ہی ہے کہ آپ کسی دکان سے سودا نہ خریدیں، لیکن دکان کھلی ہونے کے جرمانے کی مد میں اسے ماہانہ رقم ادا کریں۔
پاکستان میں بجلی کے ٹیرف کا ڈھانچہ کسی ‘ٹیکسٹ بک ٹریپ’ سے کم نہیں۔ اگر ایک صارف 199 یونٹ استعمال کرتا ہے تو اسے رعایت ملتی ہے، لیکن جیسے ہی ریڈنگ 201 یونٹ پر پہنچتی ہے، پچھلے تمام یونٹس کی قیمت بھی مہنگے ترین ریٹ پر چلی جاتی ہے۔
یہ غیر متناسب بوجھ نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ اس سے شفافیت کا فقدان بھی پیدا ہوتا ہے۔ صارفین کو اکثر یہ سمجھ ہی نہیں آتا کہ ان کے بل میں شامل درجن بھر ٹیکسز اور سرچارجز آخر کس مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
محنت کشوں کے لیے بجلی کا بل یا معاشی قتل؟ یہ سوال آج ہر مزدور کی زبان پر ہے۔ ایک دیہاڑی دار یا قلیل تنخواہ دار ملازم، جو پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی کے باعث دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے، جب مہینے کے آخر میں اپنی بساط سے بڑا بجلی کا بل دیکھتا ہے تو وہ صرف معاشی طور پر نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
محنت کش طبقے کے لیے یہ بل اب محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ان کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کا پروانہ بن چکا ہے۔ جب ایک مزدور کی آدھی سے زیادہ اجرت صرف بجلی کے بل کی نذر ہو جائے، تو اسے ‘معاشی قتل’ کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے؟ یہ نظام محنت کشوں کو ترقی کی دوڑ سے باہر نکال کر بقا کی جنگ میں دھکیل رہا ہے۔
پاکستان کا آئین ہر شہری کو منصفانہ زندگی اور بنیادی سہولیات تک رسائی کی ضمانت دیتا ہے۔ جب ریاست کی پالیسیاں عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا ناممکن بنا دیں، تو یہ براہِ راست آئین کے آرٹیکل 9 حقِ زندگی اور آرٹیکل 25 مساوات کی خلاف ورزی معلوم ہوتی ہے۔
ماہرینِ قانون کے مطابق اس نظام کو چیلنج کرنے کے لیے تین بڑے راستے موجود ہیں۔ ہائی کورٹ میں سلیب سسٹم کی امتیازی نوعیت کے خلاف پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے، عوامی مفاد کے تحت آئی پی پیز کے معاہدوں کی عدالتی جانچ کی استدعا کی جا سکتی ہے تاکہ دیکھا جائے کہ کیا یہ معاہدے عوامی مفاد کے خلاف تو نہیں، اور ریگولیٹری اتھارٹی کے سامنے ٹیرف کے غیر شفاف طریقہ کار پر احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ بجلی کے بل کو سادہ اور ٹیکسوں سے پاک کیا جائے۔ کیپیسٹی چارجز کے معاہدوں پر نظرِ ثانی اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ جب تک آئی پی پیز کو دی جانے والی مراعات اور عام صارف پر ڈالے گئے بوجھ کے درمیان توازن پیدا نہیں کیا جائے گا،
یہ مالیاتی جال ملکی ترقی کو نگلتا رہے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ سلیب سسٹم کو نرم کرے اور براہِ راست سبسڈی صرف ان لوگوں کو دے جو واقعی اس کے حقدار ہیں۔ یہ مسئلہ صرف بجلی کا نہیں، بلکہ انصاف اور شفافیت کا ہے۔
جب ریاست کے معاہدے چند گروہوں کو فائدہ پہنچائیں اور کروڑوں عوام کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیں، تو وہ نظام اپنی اخلاقی اور قانونی بنیادیں کھو دیتا ہے۔ اصلاح اب انتخاب نہیں، بلکہ بقا کا مسئلہ ہے۔
تعارف: عارف روہیلہ محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں اور مختلف فورمز پر مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی پہچان صنعتی تعلقات، لیبر قوانین کی پاسداری اور محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی انتھک اور اصولی جدوجہد ہے۔