مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ، پاکستان میں کارگو ہینڈلنگ کے نئے ریکارڈ
رپورٹ ( حسن خان، ہیڈ کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال اور عالمی تجارتی راہداریوں میں بدلتی ہوئی جغرافیائی ترجیحات نے پاکستان کے بحری شعبے بالخصوص کراچی کی پورٹ قاسم کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں
ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پورٹ قاسم پر خام تیل، کوئلہ اور ایل این جی بردار جہازوں کی آمد کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔ سعودی عرب کی بندرگاہ سے 24 مارچ کو روانہ ہونے والا خام تیل بردار جہاز ایم ٹی پینٹوزالی’ 38 ہزار 965 میٹرک ٹن تیل لے کر پورٹ قاسم پہنچ گیا ہے، جسے فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز کیا جائے گا۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پورٹ قاسم پر کارگو ہینڈلنگ کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 300 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی معیشت اور بحری تجارتی صلاحیت کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔
پورٹ قاسم اتھار کے حکام کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال 31 مارچ کو یومیہ مجموعی کارگو ہینڈلنگ محض 57 ہزار 198 میٹرک ٹن تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ 68 ہزار 850 میٹرک ٹن کی سطح پر پہنچ گئی ہے
سب سے زیادہ حیران کن اعداد و شمار برآمدی شعبے سے سامنے آئے ہیں، جہاں ہینڈلنگ کی شرح میں سالانہ 1600 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
گزشتہ برس اسی روز برآمدی کارگو کا حجم محض 1904 میٹرک ٹن تھا، جو رواں برس بڑھ کر 31 ہزار 914 میٹرک ٹن ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح درآمدی کارگو بھی 55 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھ کر 1 لاکھ 36 ہزار 936 میٹرک ٹن ہو چکا ہے
جنوبی افریقہ کی بندرگاہ ‘رچرڈز بے’ سے 16 مارچ کو روانہ ہونے والا کوئلہ بردار جہاز ‘ایم وی امینہ جہاں’ 50 ہزار 184 میٹرک ٹن کوئلہ لے کر پہنچا ہے۔ ایک اور بڑا جہاز کیسیئوپی جی آر بھی جنوبی افریقہ ہی سے 58 ہزار 536 میٹرک ٹن کوئلہ لے کر پاکستان پہنچا ہے جسے پی آئی بی ٹی ٹرمینل پر ہینڈل کیا جا رہا ہے قطر سے ایک ایل این جی بردار جہاز کی آمد نے بھی گیس کی فراہمی کے سلسلے کو تقویت دی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پورٹ قاسم پر آپریشنل سرگرمیاں اپنے عروج پر رہیں۔ مجموعی طور پر 8 نئے بحری جہازوں کی آمد ہوئی، جبکہ 10 جہازوں کو بیک وقت ہینڈل کیا گیا۔ ان میں 5 بلک کارگو، 3 مائع کارگواور 2 کنٹینر شپس شامل تھے
حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت پورٹ پر جہازوں کی روانگی اور آمد کا نظام انتہائی مستعدی سے کام کر رہا ہے، جہاں 2 جہاز روانہ ہو چکے ہیں اور مزید 3 کی روانگی متوقع ہے۔
تجارتی و صنعتی ماہرین کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث بحری راستوں کی حفاظت اور متبادل بندرگاہوں کی تلاش نے پاکستان کی اہمیت بڑھا دی ہے
پورٹ قاسم پر کارگو ہینڈلنگ میں یہ ریکارڈ اضافہ نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثرات مرتب کرے گا بلکہ عالمی سپلائی چین میں پاکستان کے کلیدی کردار کو بھی واضح کرے گا
برآمدات میں 1600 فیصد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے بحری راستوں کا استعمال پہلے سے کہیں زیادہ فعال ہو چکا ہے
پورٹ حکام کا کہنا ہے کہ اگر تجارتی سرگرمیوں کی یہی رفتار برقرار رہی تو رواں مالی سال کے اختتام تک پورٹ قاسم محصولات کی وصولی اور کارگو ہینڈلنگ کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دے گی
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی معیشت کی بحالی کے لیے برآمدات پر مبنی نمو پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے