تنخواہ کی ادائیگی میں ایچ آر کی مداخلت قانونی یا محض روایت

تحریر ( محمد اسلم عباسی ، جنرل سیکریٹری مہران ورکرز یونین حیدرآباد ) کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے میں تنخواہ اور پنشن کا بروقت اجرا ایک خالصتاً مالیاتی عمل ہوتا ہے، جس کی حتمی ذمہ داری فنانس ڈیپارٹمنٹ اور ادارے کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم، حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن سمیت کئی اداروں میں ایک عجیب و غریب رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں یونینز مالیاتی معاملات میں غیر متعلقہ انتظامی عہدیداروں، خصوصاً چیف ہیومن ریسورس آفیسر  کو غیر ضروری اہمیت دیتی نظر آتی ہیں۔

عام طور پر ایچ آر  شعبے کا کام ملازمین کی حاضری، رخصت اور سروس ریکارڈ کا ڈیٹا فراہم کرنا ہوتا ہے۔ قانونی طور پر یہ صرف ایک ‘ڈیٹا سپلائی’ کا عمل ہے، لیکن یونینز اکثر اس تکنیکی انحصار کو “اختیارِ منظوری” سمجھ بیٹھتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایچ آر صرف خام مال (ڈیٹا) فراہم کرتا ہے جس پر فنانس کا شعبہ بل تیار کرتا ہے۔ اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یونینز غیر ضروری طور پر ایچ آر کے گرد گھومتی ہیں، جس سے ان افسران کی ‘مصنوعی اہمیت’ میں اضافہ ہوتا ہے۔

یونینز کا بنیادی مقصد عید یا دیگر تہواروں پر ملازمین کو جلد از جلد ریلیف دلانا ہوتا ہے۔ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اگر ایچ آر نے کسی معمولی تکنیکی بنیاد پر فائل روک دی، تو ادائیگی میں ہفتوں کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ لہٰذا، وہ قانونی بحث میں الجھنے کے بجائے “راستہ صاف” رکھنے کی حکمتِ عملی اپناتی ہیں اور ایچ آر کو بھی اس عمل کا حصہ بنا کر پیش کرتی ہیں تاکہ بیوروکریٹک رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔

اگر کسی ادارے میں ‘سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز  واضح نہ ہوں، تو وہاں اختیارات کی تقسیم دھندلا جاتی ہے۔ ماضی میں ایچ آر افسران کی مالی معاملات میں مداخلت نے ایک ایسی ‘غلط روایت’ کو جنم دیا ہے جسے اب قانون سمجھ لیا گیا ہے۔ یونینز اسی روایت کا پیچھا کرتی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ عملی طور پر طاقت وہیں ہے، چاہے قانونی طور پر تمام اختیارات چیف فنانشل آفیسرکے پاس ہی کیوں نہ ہوں۔

کبھی کبھی یونینز مختلف افسران کے ساتھ اپنے “ورکنگ ریلیشن شپ” کی نمائش کے لیے بھی ایسی پبلسٹی کا سہارا لیتی ہیں۔ ایچ آر افسر کو مالیاتی معاملات میں اہمیت دے کر مستقبل کے انتظامی فوائد، جیسے بھرتیاں، ترقیاں اور تبادلے، کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس ابہام کو دور کرنے کے لیے تمام یونینز کو ایک واضح قانونی موقف پر ڈٹ جانا چاہیے۔ ضوابط بالکل سادہ ہیں کہ جب تک اختیارات کی یہ لکیر واضح نہیں ہوگی، غیر مالیاتی افسران ادائیگیوں میں رکاوٹ ڈال کر اپنی اہمیت جتاتے رہیں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ یونینز اشتہاری مہم اور پبلسٹی کے بجائے قانونی طریقہ کار کو مقدم رکھیں تاکہ محنت کشوں کو ان کا حق کسی کی مہربانی کے بجائے قانون کے تحت ملے

تعارف : محمد اسلم عباسی مہران ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری ہیں وہ اپنی تحاریر میں نتظامی گتھی کو سلجھاتے ہوئے کئی ایسے عوامل کی نشاندہی کرتے ہیں کن سے مزدروں کے مسائل کے حل کا راستہ کھلتا ہے