برسوں کی قانونی جدوجہد کے بعد محنت کش کی جیت

تحریر ( اسرار ایوبی ) پاکستان میں ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشنکے پیچیدہ قوانین اور ریکارڈ کی خامیاں اکثر محنت کشوں کے لیے پنشن کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ تاہم، کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ شہری، نور محمد کے کیس میں ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی کے حالیہ فیصلے نے انصاف کی ایک نئی امید روشن کر دی ہے۔

محنت کش نور محمد جو کراچی کی ایک کمپنی مون لائٹ پاک لمیٹڈ میں 1981 سے 2000 تک یعنی تقریباً دو دہائیوں تک وابستہ رہے، اس وقت قانونی مشکل کا شکار ہو گئے جب ای او بی آئی نے ان کی بیمہ شدہ ملازمت کی مدت کو صرف سات سال (1981 سے 1988 تک) تسلیم کیا

ای او بی آئی کے ایکٹ 1976 کے تحت تاحیات پنشن حاصل کرنے کے لیے کم از کم 15 سال کی بیمہ شدہ ملازمت لازمی ہے۔ ادارے کے ریکارڈ میں نو سال کی کمی کا مطلب یہ تھا کہ نور محمد اپنی پوری زندگی کی محنت کے بعد بھی پنشن کے حق دار نہیں ٹھہر رہے تھے۔

ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی I (سندھ و بلوچستان) کے سامنے ہونے والی سماعت کے دوران، نور محمد نے خود اپنا کیس لڑا اور فیکٹری کارڈز سمیت دیگر اہم دستاویزات پیش کیں اتھارٹی کے سربراہ، غلام محمد نے جب ای او بی آئی کے اپنے ڈیٹا بیس اور PICE ڈیٹا کا جائزہ لیا، تو حیران کن طور پر وہاں نور محمد کی سروس 1999 تک درج تھی۔ ریکارڈ کی اس تضاد نے واضح کر دیا کہ درخواست گزار کا دعویٰ درست تھا اور ان کی خدمات کو ریکارڈ میں شامل کرنے میں کوتاہی برتی گئی تھی۔

اتھارٹی نے اپنے فیصلے میں نور محمد کی سروس کو یکم دسمبر 1981 سے 31 دسمبر 1999 تک تسلیم کرتے ہوئے اسے 15 سال سے زائد قرار دیا۔ اس فیصلے کے اہم نکات میں نور محمد کو تاحیات اولڈ ایج پنشن کا حق دار قرار دے دیا گیا ہے عدالتی حکم کے مطابق، دیگر قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد یہ پنشن ماہ ستمبر 2025 سے نافذ العمل ہوگی ریجنل آفس ناظم آباد کو فوری طور پر اس کیس کو نمٹانے اور پنشن جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان ملازمین کے لیے ایک مثال ہے جو ریکارڈ کی درستی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ کیس ثابت کرتا ہے کہ اگر محنت کش کے پاس اپنی ملازمت کے دستاویزی ثبوت جیسے سروس کارڈ یا پے سلپ موجود ہوں، تو وہ ای او بی آئی کے ڈیٹا بیس میں موجود غلطیوں کو چیلنج کر کے اپنا حق حاصل کر سکتے ہیں

تعارف : اسرار ایوبی ای او بی آئی کے ایک ریٹائرڈ افسر ہیں، جن کی شناخت اب ایک ایسے سرگرم رہنما اور کالم نگار کی بن چکی ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی محنت کشوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں