سندھ  میں ورکرز ماڈل اسکولوں کو این جی اوز کے حوالگی پر تنازع

رپورٹ (  عمیر شاہ، نمائندہ لیبر نیوز )  صوبہ سندھ میں مزدوروں کے بچوں کے لیے قائم ورکرز ویلفیئر بورڈ کے اسکولوں کو نجی شعبے اور این جی اوز  کے سپرد کرنے کے فیصلے نے ایک نیا سیاسی اور سماجی تنازع کھڑا کر دیا ہے مزدور تنظیموں نے اس اقدام کو مزدور دشمن قرار دیتے ہوئے صوبائی وزیرِ محنت سعید غنی اور سندھ حکومت کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے

سندھ کے مزدور رہنماوں نے حکومتِ سندھ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اسکولوں کو ٹھیکے پر دینا دراصل غریب محنت کشوں کے بچوں سے تعلیم کا حق چھیننے کے مترادف ہے۔ مزدور رہنماؤں کا موقف ہے کہ یہ تعلیمی ادارے خالصتاً مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی اور ان کے ٹیکسوں سے چلتے ہیں، لہٰذا انہیں کسی بھی نجی ادارے یا این جی او کے حوالے کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں بنتا

مزدور تنظیموں اور رہنماؤں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف مزدور دشمن ہے بلکہ ان بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے جو ریاست نے محنت کش طبقے کو فراہم کر رکھے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “آخر کس بنیاد پر اور کن مفادات کے تحت عوامی اثاثوں کو نجی ہاتھوں میں فروخت کیا جا رہا ہے؟”

ان اسکولوں کا انتظام این جی اوز کے پاس جانے کے بعد سے مفت تعلیم کا تصور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مزدور رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اب ان اداروں میں غریب مزدوروں سے بھاری فیسیں وصول کی جا رہی ہیں، جو کہ ان کی قلیل آمدن کے مقابلے میں ناقابلِ برداشت ہیں۔ جہاں پہلے تعلیم مکمل طور پر مفت تھی، وہاں اب فیسوں کے نفاذ نے غریب بچوں کے لیے اسکولوں کے دروازے بند کرنا شروع کر دیے ہیں

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی انتظامی نااہلی چھپانے کے لیے ان اداروں کو ٹھیکے پر دے رہی ہے، جس کا خمیازہ صرف اور صرف مزدور کا بچہ بھگت رہا ہے۔

ملی لیبر فیڈریشن سمیت سندھ کی بڑی مزدور تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں کو این جی اوز کے سپرد کرنے کا فیصلہ فوری اور مستقل طور پر واپس لیا جائے۔ تنظیم نے واضح کیا ہے کہ اگر یہ ’نجکاری‘ فوری طور پر نہ روکی گئی تو احتجاج کا دائرہ صرف کراچی یا سندھ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پاکستان بھر کی مزدور تنظیمیں اس ناانصافی کے خلاف سڑکوں پر ہوں گی

مزدور تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ مزدور کے بچے کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس مزدور دشمن پالیسی کے خلاف ہر قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کیا جائے گا۔ اب گیند سندھ حکومت کے کورٹ میں ہے کہ وہ ان خدشات کا ازالہ کیسے کرتی ہے، یا پھر صوبے کو ایک بڑی صنعتی اور سماجی احتجاجی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔