جنوبی کوریا میں متنازع لیبر قانون یلو انویلپ لاء کا نفاذ
سیول ( لیبر نیوز ویب ڈیسک): جنوبی کوریا میں متنازع لیبر قانون یلو انویلپ لاء کے نفاذ کے ساتھ ہی ملک بھر میں صنعتی تناؤ کی ایک نئی لہر پیدا ہو گئی ہے
مارچ 2026 سے نافذ العمل ہونے والے اس قانون کے محض دو روز کے اندر ایک لاکھ کے قریب ذیلی معاہدہ پر کام کرنے والے ورکرز نے اصل کمپنی مالکان سے براہِ راست مذاکرات کا مطالبہ کر دیا ہے
اس نئے قانون کے تحت مالک کی تعریف کو وسعت دی گئی ہے، جس کے بعد اب بڑی کمپنیاں ان مزدوروں کے ساتھ بھی مذاکرات کرنے کی پابند ہوں گی جو براہِ راست ان کے ملازم نہیں بلکہ ٹھیکیداروں کے ذریعے کام کر رہے ہیں
کورین کنفیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کے مطابق 450 سے زائد یونینز نے 248 بڑی کمپنیوں کو مذاکرات کے نوٹس بھیجے ہیں۔
کاروباری حلقوں نے اس قانون کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے ہڑتالوں میں اضافہ ہوگا اور صنعتی امن متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ مزدور رہنما اسے اپنی تاریخی فتح قرار دے رہے ہیں۔