لیبر قوانین 2025 اور محنت کشوں کا تحفظ

رپورٹ  ( محمد تابش ) اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین اور لیبر قوانین محنت کشوں کو ایک محفوظ اور باوقار زندگی گزارنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ تاہم آگہی کی کمی اور انتظامی غفلت کے باعث لاکھوں ملازمین اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں حالیہ قانونی ترامیم اور پاکستان لیبر لاز 2025 محنت کشوں کے حقوق کے لیئے ایک روشنی کی کرن ہے

لیبر نیوز سروے کے مطابق منیمم ویجز آرڈیننس 1961 کے تحت، حکومت نے جولائی 2024 سے غیر ہنر مند مزدور کی کم از کم تنخواہ 37,000 روپے ماہانہ مقرر کی تھی، جو 2025 میں بھی نافذ العمل ہے۔ یہ قانون تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی ادارہ اس سے کم تنخواہ دے رہا ہے، تو یہ سنگین قانونی خلاف ورزی ہے

پاکستان کے لیبر قوانین کے مطابق کسی بھی ملازم سے ایک ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 48 گھنٹے کام لیا جا سکتا ہے۔ روزانہ کام کی مدت 9 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، جبکہ ہر 6 گھنٹے کے مسلسل کام کے بعد ایک گھنٹے کا وقفہ لازمی ہے۔ ہفتے میں ایک دن کی چھٹی ہر ورکر کا قانونی حق ہے

قانون کے تحت ہر ملازم ایک سال کی مسلسل ملازمت کے بعد 14 دن کی بامعاوضہ سالانہ چھٹیوں کا حقدار ہے۔ اس کے علاوہ:

بیماری کی چھٹیاں: عام بیماری کے لیے 121 دن اور دائمی بیماری کی صورت میں 365 دن تک کی چھٹی لی جا سکتی ہے۔

زچگی کی چھٹیاں: خواتین ملازمین کو 90 سے 180 دن تک کی بامعاوضہ چھٹی کا حق حاصل ہے، اور اس دوران انہیں نوکری سے نکالنا غیر قانونی ہے۔

سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی ہر نجی ادارے پر لازم ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی اداروں میں رجسٹر کرائے تاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور دورانِ ملازمت طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

ورک مین کمپنسیشن ایکٹ کے تحت آجر پابند ہے کہ وہ کام کی جگہ پر محفوظ ماحول فراہم کرے۔ دورانِ ڈیوٹی حادثے کی صورت میں ملازم کو معاوضہ دینا کمپنی کی قانونی ذمہ داری ہے۔ مزید برآں، آئین کا آرٹیکل 17 ہر شہری کو ٹریڈ یونین بنانے اور اجتماعی سودے بازی  کا حق دیتا ہے۔

ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991 کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں سے مزدوری کروانا جرم ہے۔ اسی طرح، کسی بھی شخص سے زبردستی کام لینا یا قرض کے بدلے مشقت کروانا (Bonded Labor) قانوناً ممنوع اور قابلِ سزا جرم ہے۔

لیبر نیوز سروے کےمطابق نجی کمپنیوں میں ان قوانین پر عملدرآمد اب بھی ایک چیلنج ہے۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملازم کے حقوق پامال ہو رہے ہوں، تو وہ لیبر ڈیپارٹمنٹ یا لیبر کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لیبر انسپکٹرز کے نظام کو فعال بنائے تاکہ کاغذی قوانین کا فائدہ براہِ راست غریب محنت کش تک پہنچ سکے