پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ: پاکستانی محنت کشوں کے لیے بقا کی جنگ

رپورٹ ( جے ایچ خان ، ہیڈ آف کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک ) پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے محنت کشوں کے لیے روزمرہ زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے عام فیکٹری ورکر کی آمدنی کا بڑا حصہ صرف سفر پر خرچ ہو رہا ہے

 صنعتی علاقوں جیسے کورنگی اور سائٹ میں کام کرنے والے مزدوروں کے مطابق روزانہ کام پر آنے جانے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے جس سے ان کے گھریلو بجٹ پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی خدشات نے عالمی توانائی منڈی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ کے باعث خام تیل کی قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں

عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے معاشی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر محنت کش طبقے پر پڑ رہا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہے

عالمی ماہرینِ معیشت کے مطابق آبنائے ہرمز خطے کی کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال کا مرکز بن چکی ہے۔ دنیا کی تقریباً 15 سے 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، اس لیے اگر اس سپلائی چین میں خلل پیدا ہوتا ہے تو عالمی توانائی منڈی مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے

 بعض معاشی اداروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو عالمی معیشت کو “اسٹیگ فلیشن” یعنی مہنگائی اور معاشی سست روی کے بیک وقت دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا دوسرا بڑا اثر اشیائے خوردونوش پر پڑ رہا ہے۔ مال برداری کے اخراجات بڑھنے کے باعث آٹا، چینی، دالوں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی اوپر جا رہی ہیں۔ یوں کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے

معاشی ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست صنعتی لاگت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پیداوار کم اور بے روزگاری کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دباؤ میں مزدور طبقے کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ توانائی کی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے صنعتی شعبے کو سہولیات فراہم کرے اور کم آمدنی والے افراد کے لیے سماجی تحفظ کے پروگرام مؤثر بنائے۔

لیبر ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی توانائی بحران طویل ہو گیا تو پاکستان میں معاشی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پالیسی سازوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے، روزگار کے مواقع برقرار رکھنے اور محنت کش طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں